عوامی مسائل پر توجہ کون دے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں یوں تو سیاست ہمیشہ سے ہی سیاسی مفادات کے گرد گھومتی رہی ہے مگر بیچ میں کہیں کہیں عوامی مسائل اور تکالیف بھی ملکی سیاست کا اہم اور بنیادی موضوع بنتی رہی ہے، ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی سیاست ایک دوسرے کے خلاف تو ہوتی رہی لیکن دونوں جماعتیں عوامی مسائل کو بھی اپنے سیاسی بیانیوں میں شامل رکھتی رہی ہیں، کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ سماجی جمہوریت کی بنیاد ہی معاشرے کے ہر فرد کی برابری کی بنیاد پہ معاونت کرنا ، ان کے مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کے فوری اور دیرپا حل کی جانب اقدامات اٹھانے میں مضمر ہے۔

عمران خان صاحب کے مسند اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید وہ اپنی نئی سیاسی زندگی کی شروعات ہی عوام کو بنیادی سیاسی معاشی مسائل کے حل کا روڈ میپ پیش کر کے کریں گے، مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ دنیا کے مشہور مدبر جنوبی افریقہ کے سابق صدر و دنیا کی سیاسی تاریخ کی سب سے لمبی قید کاٹنے والے رہنما نیلسن منڈیلا نے جیل سے رہائی پانے کے بعد کہا تھا کہ ”جب میں اس دروازے کی طرف بڑھا جو مجھے آزادی کی طرف لے جا رہا تھا تب میں یہ جانتا تھا کہ اگر میں نے نفرت اور تلخ یادوں، انتقام کی سلگتی آگ کو یہیں نہ چھوڑا تو میں نہ صرف ہمیشہ قیدی رہوں گا بلکہ میری نفرت و انتقام کی آگ میں نجانے کیا کچھ جل کر راکھ ہو جائے گا“

نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز اور سیاہ فام افراد کے خلاف سفید فام افراد کے انتہائی برے رویوں کے خلاف کئی دہائیوں تک جدوجہد کرتے رہے، اسی پاداش میں انہوں نے ستائیس سال جیل کاٹی مگر جب آزاد ہوئے تو سب نفرتیں، سب انتقام پیچھے چھوڑے اور مذاکرات کے ذریعے سیاہ فام لوگوں کو ان کے جائز حقوق دلائے اور ان کے مساوی حقوق ان کے مسائل کو جنوبی افریقہ کے طاقتور حلقوں کے سامنے نہ صرف اجاگر کیا بلکہ انہیں یہ باور کرایا کہ جنوبی افریقہ میں رہنے والے سیاہ و سفید فام کے بنیادی سیاسی، انسانی معاشی اور سماجی حقوق یکساں ہیں۔

وزیراعظم عمران خان بھی چاہتے تو ایک معتدل سیاسی معاشرے کی نئی بنیاد رکھ سکتے تھے مگر انہوں نے اپنی پہلی تقریر سے اپنے مستقبل کے ارادوں سے پوری قوم کو آگاہ کر دیا تھا، انہوں نے جو نفرتیں اور جو انتقام اپنے سیاسی مخالفین کے لیے دل میں سنبھال کے رکھا ہوا تھا ، اقتدار ملتے ہی ان کے وہ جذبات عوامی ترقی، ملک سے کرپشن کے خاتمے، کے ان کی خواہشات پہ بھاری پڑ گئے اور پاکستان پچھلے پونے تین سال سے صرف اور صرف نفرت و انتقام کی لگائی ہوئی آگ میں جھلس رہا ہے جبکہ عوامی بھلائی، ملک کے سیاسی، معاشی معاشرتی اور سماجی مسائل پس پشت کہیں دھند میں گم ہو چکے ہیں۔

آج پاکستان کی سالانہ ترقی کی شرح تہتر سالہ تاریخ کی سب سے کم ترین سطح پہ ہے، قرضوں کا حجم پچھلے تمام سیاسی ادوار میں لیے گئے قرضوں سے زیادہ ہے، مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پہ یعنی سولہ فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے، لیکن خان صاحب ہیں کہ ان کی غصے کی آگ ٹھنڈی ہونے کا نام لے رہی ہے ، نہ ہی ان کی نفرت کی آندھی تھم رہی ہے۔ پاکستان کے عوام نے انہیں مینڈیٹ دیا تھا ملک سے کرپشن کے خاتمے کا، بھوک بدحالی، بے روزگاری سے نجات دلانے کا، اداروں میں ریفارمز کا مگر انہوں نے صرف کرپشن کے نام پہ اپنے ذاتی انتقام و نفرت کی آگ ہی ٹھنڈی کرنے کی کوششیں کی ہیں۔

انہوں نے اب تک جن کو وہ کرپشن کے کنگز، مافیاز کہتے رہے ہیں ، سے ایک روپیہ بھی واپس لے کر ملکی خزانے میں جمع نہیں کروایا،  الٹا ان کے دور میں پاکستان کرپشن انڈیکس میں 117 ویں سے 124 ویں نمبر پہ آ گیا، بی آر ٹی سے لے کر بلین ٹری سونامی منصوبے تک، دوائیوں کے اسکینڈل سے لے کر بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے اربوں روپے کے اسکینڈلز تک، آٹے اور چینی سے لے کر بیوروکریسی میں تبادلوں پہ کروڑوں روپے رشوتیں لینے کے الزامات تک اور پھر تازہ تازہ براڈ شیٹ اسیکنڈل میں ان کے نورتنوں کی سیاہ کاریوں تک سارے کے سارے سکینڈلز خان صاحب کی پونے تین سالہ حکومت کے ماتھے کا جھومر بن چکے ہیں۔

آج جب پوری دنیا کورونا جیسے مہلک مرض کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں، جہاں دنیا بھر کی معیشت تنزلی کا شکار ہے وہاں اگر ہمارے خطے کے ممالک کی معیشت کا جائزہ لیں تو پاکستان شرمناک حد تک افغانستان سے بھی نیچے چلا گیا ہے، انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، مالدیپ، بھوٹان اور افغانستان آج کورونا وبا کے تباہ کن اثرات کے باوجود معاشی طور پر پاکستان سے کہیں زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں، حالانکہ افغانستان ابھی تک سیاسی افراتفری اور خانہ جنگی کی صورتحال سے دوچار ہے مگر پھر بھی اس کا پاکستان سے بہتر معاشی میزانیہ ہے، اس کے برعکس پاکستان جسے خطے میں سی پیک کی وجہ سے امتیازی حیثیت حاصل ہونی چاہیے تھی آج انتہائی بدترین معاشی حالات سے دوچار ہے، اور اس کی وجہ ملک میں سیاسی افراتفری اور بدترین طرز حکمرانی ہے۔

پاکستان کی عوام حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں سے یہی توقع رکھے ہوئے ہیں کہ وہ اپنی سیاسی چپقلش کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان کے معاشی مسائل کے حل کو اہمیت دیں گے ، خاص طور پر عوام وزیراعظم عمران خان سے خاصی امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے مگر سب خاک ہوئیں آج میرے دل کی امیدیں/ کل تک تو تیری ذات سے کیا کیا نہ یقیں تھا۔

وزیراعظم عمران خان صاحب کو اپنی نفرتیں، انتقام، غصہ، ہٹ دھرمی، انا، تکبر و رعونت، ذاتی خواہشات اور شخصی اقتدار کے دوام کی تمناؤں کو ایک طرف رکھ کر پاکستان کے عوام کے معاشی مسائل، بھوک بیروزگاری اور انتہائی تیزی سے بڑھتی خونی مہنگائی کے خاتمے اور ملک کے سیاسی معاملات کے فوری حل کے لیے اقدامات اٹھانے پڑیں گے وگرنہ حالات اس نہج پہ پہنچ چکے ہیں جہاں پھر ان کو بچانے کے لیے ان کو لانے والے بھی نہ آ سکیں گے۔

اس کو فرصت ہی نہیں، دوسرے لوگوں کی طرح
جس کو نسبت تھی میرے حال زبوں سے، پہلے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply