سینیٹ انتخابات، اعداد کا کھیل اور عدد کی جیت


جناب مظفر علی شاہ نے سینیٹ چیئرمین کے انتخاب پر اٹھنے والے تنازعہ پر وضاحت فرماتے ہوئے اپنی رولنگ کی توضیح و دفاع کرنے میں حقائق سے تجاوز کیا ہے۔

شاہ صاحب سینیٹ نے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لئے پریذائیڈنگ افسر کے فرائض انجام دیے تھے جنہیں صدر مملکت نے اس مقصد کے لئے تعینات کیا تھا۔ آج انہوں نے اپنی دی گئی رولنگ کے درست ہونے کا دفاع کیا اور حزب اختلاف کے الزامات رد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ

” پارلیمان کی کارروائی اور ان کی رولنگ کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا“ ۔ یاد رہے کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران جب انہوں نے جناب گیلانی کے سات ووٹ علیحدہ کرتے ہوئے ابتدائی رولنگ میں انہیں مشکوک قرار دیا تھا۔ تو جناب گیلانی کے پولنگ ایجنٹ جناب فاروق ایچ نائیک ایڈووکیٹ کے دلائل کے دوران مداخلت کی اور جواباً کہا تھا کہ آپ کو میری رولنگ سے اختلاف ہے تو ”آپ الیکشن ٹربیونل یا عدلیہ سے رجوع کر سکتے ہیں“ مگر 13 مارچ یعنی اپنے فیصلے کے چوبیس گھنٹے بعد انہوں نے اپنے موقف یا حکم سے رجوع کر لیا ہے ، اس طرح انہوں نے بطور پریذائیڈنگ افسر اپنی جانبداری پر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ نیابت سے جناب گیلانی سات ووٹ لے کر جیتے مگر چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں سات ووٹوں کے استرداد کی بنیاد پر ہار گئے۔ قومی اسمبلی میں حکومت کی خاتون امیدوار جناب شیخ کے برعکس دس ووٹوں کی برتری سے فتح یاب ہوئیں ، اسی طرح ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں بھی سرکاری امیدوار کو دس ووٹوں کی برتری حاصل رہی۔ اعداد کی یہ مماثلت محض اتفافی امر ہے یا اس کے پس پردہ بھی طاقت اور روحانیت کی جادوگری ہے؟

چیئرمین سیینٹ کے انتخاب میں جناب گیلانی کی ناکامی کو دو مختلف زاویوں سے پرکھا جا رہا ہے ۔ ایک حلقہ سمجھتا ہے کہ خلائی مخلوق کے دباؤ اور کرشماتی کردار کے نیتجے میں جناب گیلانی کے سات ووٹ مسترد کرائے گئے یا پی ڈی ایم کے ارکان نے بہ وجوہ اپنے ووٹ ضائع کرائے۔ ان کے مطابق مسترد ہونے والے ووٹ، ووٹروں کے ساتھ ”کسی طے شدہ معاملے کا آئینہ دار ہے“ ۔ ایسی حکمت عملی پی ڈی ایم کے اندر پائے جانے والے مبینہ داخلی اختلاف کا شاخسانہ ہے یا پھر ان کا کمال ہے جو حتمی فیصلے طے کرتے مگر دکھائی نہیں دیتے۔

بحث طلب پہلو جو متذکرہ صدر معروضات میں توجہ سے اوجھل ہوا جاتا ہے ، یہ ہے کہ کیا مسترد ہونے والے ووٹ درحقیقت قانونی اعتبار سے فی الواقع لائق استرداد تھے؟ یا پریذائیڈنگ افسر کی رولنگ کی بنیاد پر مسترد ہوئے ہیں؟ کیونکہ انتخابی عمل شروع ہونے سے قبل بتائے گئے طریق کار اور ہال میں آویزاں ہدایت نامے کے مطابق ووٹر کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنی پسند کے امیدوار کے مربع خانے کے اندر مہر ثبت کر سکتا ہے۔ بیلٹ پیپر پر دو امیدواروں کے نام درج تھے اور ناموں کے سامنے خالی جگہ تھی ایک امیدوار کے نام کے بعد اس کے مختص شدہ حصے کے بعد دوسرے امیدوار سے الگ نیچے ویسا ہی مستطیل سا مربع بنا ہوا تھا۔

بیلٹ پیپر کی بالائی سطر میں اردو میں امیدوار کے نام کی سرخی لکھی تھی اور اس کے مقابل انگریزی میں Name or Candidate لکھا ہوا تھا لیکن انگریزی میں لکھی ذیلی سرخی کے نیچے انگریزی میں امیدوار کا نام درج نہیں تھے۔ اگر یہاں بھی انگریزی میں نام لکھے ہوتے تو جناب مظفر حسین شاہ کی رولنگ کے مطابق مہر ثبت کرنے کے لئے بیلٹ پیپر مہر کے لیے جگہ ہی موجود نہیں تھی۔ قیاس کرتے ہیں کہ اگر انگریزی میں بھی امیدواروں کے نام لکھے ہوئے ہوتے تو پھر مہر ہر صورت امیدوار کے نام پر ہی لگتی کیونکہ یہاں انتخابی نشان تو تھا نہیں۔

دریں حالات مہر ہر صورت نام پر ہی لگائی جاتی ، چنانچہ اردو میں امیدوار کے نام کے آگے موجود خالی جگہ پر امیدوار کا نام انگریزی میں لکھا تصور کیا جائے جو نظر نہیں آ رہا تھا مگر اوپر لکھی عبارت جو بتاتی ہے ، پیپر کے اس جانب امیدوار کا انگریزی میں نام لکھا ہو گا تو بیلٹ کے پورے مربع کی شناحت کا سارا انحصار اس کے نام پر ہی ہو گا تو ووٹر کی رائے کا پتہ امیدوار کے نام پر لگی مہر سے اخذ ہو گا ، چاہے انگریزی میں نام لکھنے والی مختص جگہ خالی ہی کیوں نہ ہو۔

سیکرٹری سینیٹ سیکرٹریٹ کی ویڈیو جس میں وہ ووٹ استعمال کے بارے طریقہ کار بتا رہے ہیں ، بہ اصرار کہا گیا کہ امیدوار والے خانے میں مہر لگائی جائے ، نام پر یا خالی جگہ پر۔ آویزاں ہدایت نامے میں بھی امیدوار کے مختص خانے میں مہر ثبت کرنے کی ہدایت موجود ہے۔ لہٰذا پریذائیڈنگ افسر کی رولنگ واضح طور پر اصول و ضوابط کے منافی ہے اور ان کا رولنگ کے بعد اگلے روز یہ اصرار کہ ”پارلیمان کی کارروائی کو عدالت میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا“ معقول استدلال سے عاری بات ہے۔

اول تو پارلیمان کی کارروائی، قانون سازی پر مشتمل عمل ہے یا پھر ایوان میں زیر بحث کسی سوال یا مسئلے پر ارکان کی آراء ہوتی ہیں۔  یاد رہے کہ پارلیمان کی کارروائی کبھی بھی پریذائیڈنگ افسر کی صدارت میں نہیں ہوتی۔ پارلیمان کے ایسے اجلاس کی کارروائی جسے کسی عدالت میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین یا رواں اجلاس کے لئے عارضی طور پر طے شدہ پینل آف چیئرمین / اسپیکر میں سے کوئی موجود رکن اجلاس کی صدارت کرتا ہے ، یہی طریقہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لیے مقرر ہے۔

ہاؤس کے اندر اسپیکر / چیئرمین کا انتخاب سابق اسپیکر (اگر وہ خود امیدوار نہ ہو) تو پریذائیڈنگ افسر کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ اس انتخاب کے فوری بعد نومنتخب چیئرمین یا سپیکر اپنے عہدے کا حلف اٹھا کر ایوان کی مزید کارروائی چلاتا ہے ۔اس پس منظر میں پریذائیڈنگ افسر کی نگرانی میں ہونے والے انتخابی عمل کو اصطلاحی طور پارلیمان کی کارروائی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حتمی دلیل یہ ہے جب متعلقہ ہاؤس کا سربراہ ( چئیرر یا اسپیکر) موجود نہ ہو تو ایوان ہی نامکمل ہوتا اور ادھور ے یا نامکمل ایوان میں ہوئی کسی سرگرمی اقدام کو کارروائی کے زمرے میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔

جب آئین میں بھی عدلیہ کو پارلیمان کے منظور کردہ قانون یا آئینی ترمیم کی قانونی حیثیت یا دو مختلف دفعات میں پائے جانے والے ابہام و اختلاف کا جو متضاد الخیال ہوں ، کے جائزے کا اختیار موجود ہے ، یہی اختیار ایوان کے اندر ہونے والے کسی رسمی کام یا پریزائڈنگ کی رولنگ پر جائزے کی سماعت پر قدغن کی دلیل رد کرنے کے لیے ٹھوس قانونی نقطہ ہے۔ عدلیہ اگر میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد ان کے پارٹی قائد رہنے کے لئے پولیٹیکل پارٹی ایکٹ میں کثرت رائے سے کی گئی ترمیم منسوخ کر سکتی ہے تو پھر پریذائیڈنگ افسر کی رولنگ میں پائے جائے ابہام یا غلطی کی بذریعہ سماعت تصحیح کیونکر نہیں کرسکتی؟ کیا پریزائیڈنگ افسر کی رولنگ آئین و قانون سے بالاتر ہوتی ہے؟ بالخصوص جب اس میں قانونی سقم کی موجودگی کا واضح امکان بھی موجود ہو؟

میاں نواز شریف کی پارٹی صدارت کے متعلق عدالتی فیصلے کا حوالہ محض عدالتی دائرہ سماعت کے طور پر پیش کیا۔ متذکرہ صدر فیصلے کے متعلق میری رائے مختلف اور ریکارڈ پر جگہ موجود ہے۔

مختلف انداز سے بھی پارلیمان کے اندر ہونے والی سرگرمی اور عدالتی یا قانونی کارروائی کے سوال پر بحث کے لئے قیاس آرائی کی جا سکتی ہے۔

بالفرض کسی بھی پارلیمانی ایوان میں دوران کارروائی دو ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہو جائے اور خدا نخواستہ معاملہ ہاتھا پائی سے آگے بڑھے ، ایک رکن دوسرے کو کسی بھی ذریعے سے زخمی کر دے تو کیا اس اقدام کو پارلیمان میں ہونے والی کارروائی کہہ کر قانونی چارہ جوئی سے استثناء دینا معقولیت کے زمرے میں آئے گا؟

معزز عدلیہ کو اس انتخابی عمل کے دوران بتائے گئے اور آویزاں شدہ طریقہ کار پر عمل پیرائی کو غلط قرار دینے والا رولنگ اور ووٹ مسترد کرنے سے متعلق پریذائیڈنگ افسر کی رولنگ اور اس کی قانونی ساکھ جواز، مابعد اثرات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ضوابط کار اور عمل کے درمیان در آنے والے تضاد کا حل قانون کی بہترین، معقول اور مجاز تشریح حاصل شدہ آئینی اختیار کے تحت کرنی چاہیے تاکہ ایوان بالا میں مسلسل کشیدگی کا باعث بننے والے اس واقعے کے منفی اثرات کا سدباب ہو سکے۔

جناب صادق سنجرانی دوسری بار سینیٹ کے چیئرمین ”منتخب“ ہوئے ہیں ، انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس ”انتخاب“ سے بلوچستان کی سیاسی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ شاید یہ مفروضہ ستائشی خیال پرستی کا مظہر ہے۔

مختصر عرصہ کے لئے سہی جناب ظفر اللہ جمالی (مرحوم) ملک کے وزیراعظم مقرر ہوئے تھے۔ کیا ان کے دور حکومت میں صوبے کے سیاسی سوالات اور برسوں کی بحرانی کیفیت کے خاتمے یا عوامی امنگوں کی تکمیل کی طرف کوئی مفید المعنیٰ پیش رفت ہوئی تھی؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ جناب صادق سنجرانی تین سال سے اسی عہدۂ جلیلہ پر فائز رہے ہیں۔ کیا اس دوران صوبے کے دیرینہ سیاسی بحرانی سوالات حل ہو سکے؟ نہیں۔۔۔، کیوں؟

کیونکہ مذکورہ مسائل سطحی لیپا پوتی کے برعکس حقیقی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ بلوچستان کے پیچیدہ دیرینہ مسائل اور حالیہ ناگفتہ بہ صورتحال میں بہتری کے لئے کچھ افراد کو بڑے بڑے عہدے دینے کی بجائے بلوچستان کو وفاق پاکستان کی ایک مساوی حقیقی اکائی کے طور پر مرکزی مقتدرہ یا فیصلہ سازی کے دھارے میں مکمل طور پر شراکت کا حق دینا جائے تو معاملات سدھر سکتے ہیں۔ اور اس کے لیے ایک عمدہ و قابل قبول عمل یہ ہو سکتا ہے کہ ایوان بالا کو ملک کا مرکزی و محوری فیصلہ کن پارلیمانی ایوان بنایا جائے ۔ اس کے اختیارات قومی اسمبلی کے مقابلے میں زیادہ ہونے چاہئیں یا انہیں مساوی بنایا جائے۔

بجٹ کی منظوری اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری فوج اور دیگر ملکی اداروں کے سربراہوں کی تعیناتی میں سینیٹ آف پاکستان کو بااختیار بنایا جائے جہاں ملک کی تمام وفاقی اکائیوں کی مساوی (متناسب نہیں متوازن) نمائندگی ہے۔ قومی سلامتی ، دفاع، خارجہ امور ، عالمی تجارت اور تمام بین الاقوامی دو طرفہ معاہدوں کی حتمی توثیق کا استحقاق سینیٹ آف پاکستان کو تفویض کیجیے۔ یقین رکھیے اس طرف عملی اقدام سے اعلیٰ مگر نمائشی عہدوں پر اہل بلوچستان میں سے کسی کی تقرری کی ضرورت و خواہش ہی نہ رہے گی۔

تاہم اس مفروضے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ صوبے کو مرکزی اقتدار و اختیار کے دائرے سے باہر کر دیا جائے۔ یہاں ایک ضمنی مطالبہ نما سوال کی اجازت بھی چاہوں گا۔ چیئرمین سینیٹ کی بجائے اگر بلوچستان سے کسی اہل باصلاحیت فرد کو سی پیک اتھارٹی کا چیئرمین بنا لیا جائے تو کیا پاکستان کو فائدہ نہیں ہو گا؟ یا اس عمل سے۔ مطمئن و آسودہ حال بلوچستان، رواں کشیدگی کے پیچیدہ تر گمبھیر بحران سے نکلنے کی طرف تیز رفتاری سے آگے نہیں بڑھے گا؟

Facebook Comments HS