مجھے سائیکل کیوں یاد آئی؟



ایک زمانہ تھا جب بچوں کو سائیکل سیکھنے کا بڑا شوق ہوتا تھا۔ سائیکل کو باقاعدہ سواری کے طور پر اہمیت دی جاتی تھی۔ سائیکل کو مختلف چیزوں سے سجایا سنوارا جاتا تھا۔ اپنوں کی طرح اس کا خیال رکھا جاتا تھا۔ اس کی حفاظت کی جاتی تھی لیکن پتا نہیں زمانے کے ارتقائی بہاؤ میں ہم راستے سے بھٹک گئے ہیں یا سائیکل ارتقاء کے راستے میں کسی موڑ پر ہمارا ساتھ چھوڑ گئی ہے۔

سوچتا ہوں کہ جن چیزوں کے ساتھ ایک زمانہ گزارا ہو ، کیا وہ بھی چیزیں بھی قابلِ تلف ہو جاتی ہیں؟ ہم بدل جاتے ہیں یا پھر چیزوں کی وقعت ختم ہو جاتی ہے۔

انسان نے سب سے پہلے پہیہ ایجاد کیا۔ اس لئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا اور سائیکل کے لوازمات کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ ہم انسانوں نے انیسویں صدی سے سائیکل استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ سائیکل کو قصۂ پارینہ بنا کر آج ہواؤں میں اڑ کر ہم اس خوش فہمی میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ ہم تو ہمیشہ سے ہی ایسے تھے۔

بچپن سے دادا ابو کی سائیکل دیکھنا شروع کی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے میں بھی عام بچوں کی طرح سپیڈ کے جنون میں مبتلا ہو چکا تھا، لیکن ڈر اندر ہی اندر مجھے سائیکل چلانے سے روکے ہوئے تھا۔ اور اس وقت تو میں چلا بھی نہیں سکتا تھا۔ میرے دادا نے میرے اندازے کے مطابق ساٹھ، ستر سال سائیکل چلایا ہو گا۔ گاؤں میں تو سائیکل کو ایک ثانوی حیثیت حاصل تھی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ شہر میں بھی سائیکل عام استعمال میں تھے۔ آٹے میں نمک کے برابر لوگوں کے پاس موٹر سائیکل ہوا کرتی تھی۔ میرے ابو کے پاس بھی سائیکل تھی۔ میں نے بھی کافی عرصہ سائیکل چلائی لیکن پھر وہ بھی کہیں زمانے کے ساتھ ماضی کا حصہ بن گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے پتا نہیں کب اور کس طرح سائیکل امیر اور غریب کے درمیان فرق کی علامت بن گئی۔

آج سائیکل کو ان الفاظ سے یاد کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ آج میں دو ہزار اکیس میں سائیکل کو سواری کا ذریعہ بنانے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ لیکن جب یہ بات میں نے گھر میں کی تو ان کے جواب نے سائیکل کی خواہش کو اپنی موت آپ مار دیا۔ کہنے لگے آج کے دور میں کون سائیکل چلاتا ہے؟ میں جواب سن کر اس سوچ میں پڑ گیا کہ ساری زندگی سائیکل کے ساتھ گزارنے والوں کی سوچ بھی بدل گئی ہے۔

میں نے ایک دوست سے بھی اس معاملے میں بات کی تو وہ بھی کہنے لگا کہ آج کا دور بدل چکا ہے۔ زمانے کے ساتھ چلنا چاہیے۔ اب زمانے کے ساتھ چلیں تو پھر ہمارا معاشرہ پتا نہیں کس طرف نکل جائے گا۔ آج سائیکل شرمندگی کا باعث بن گئی ہے۔ بچے سائیکل کی بجائے بائیک سیکھتے ہیں۔ سائیکل سوار کو سڑک پر سب سے کم تر سمجھا جاتا ہے۔ اسے توہین آمیز نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ سلوک اس سواری کے ساتھ جس پر ہمارا بچپن گزرا۔

ہم آگے ضرور نکل گئے ہیں لیکن ہمیں اپنے ماضی سے آگے نہیں نکلنا چاہیے۔ ماضی انسان کے ساتھ منسلک رہتا ہے۔ اس سے پیچھا چھڑانا ممکن نہیں ہے۔ پرانی چیزوں کو یاد رکھیں۔ کوئی بھی چیز پرانی نہیں ہوتی ، بس کوئی نئی ایجاد آ جاتی ہے جو اس کی جگہ لے لیتی ہے لیکن اس کی اہمیت اہنی جگہ قائم رہتی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ انسان پھر کبھی واپس سائیکل کی طرف جائے گا۔ کیونکہ جو بیڑا غرق ایندھن نے اس دنیا کا کر دیا ہے ، ہمیں یہی سائنس دان واپس سائیکل کی طرف متوجہ کریں گے۔ میں جب اپنے شہر میں سائیکل بازار کو دیکھتا ہوں تو خوشی ہوتی ہے کہ شکر ہے زمانے کے ارتقاء کی زد میں یہ دکانیں نہیں آئیں۔ ورنہ امید کی کرن بھی باقی نہ رہتی۔

شہروں میں تو سائیکل کی تصاویر بھی کم دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن دیہی علاقوں میں آج بھی سائیکل استعمال ہو رہا ہے۔ پرانا تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ بس انسان نئی چیزوں سے دل کو بہلانے میں لگ جاتا ہے۔ سائیکل سے میرا ایک جذباتی رشتہ بھی ہے اور دوسرا مجھے بائیک چلانا نہیں آتی۔ شاید سائیکل سے محبت کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

شکستہ ساز میں بھی محشر جذبات رکھتی تھی
توانائی نہیں رکھتی مگر جذبات رکھتی تھی

نوٹ : یہ تحرہر چند ماہ قبل لکھی گئی تھی، جب میں سائیکل لینے کے بارے میں سوچ رہا تھا لیکن آج الحمدللہ میں نے سائیکل لے لی ہے اور ماضی کی بہترین یاد کے ساتھ نئے زمانے میں پھرنا کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔

Facebook Comments HS