زرداری صاحب ذرا بچ کے، مالی کسی کا یار نہیں ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گاؤں میں چاچا محمد وارث مرحوم کے گھر کے بیک یارڈ میں بیری کا ایک درخت تھا، اس کے بیر بہت مشہور تھے، ہم اسکول کے بچے، ہائی اسکول یامین ہنگورجو سے واپس آ کر لسی کے ساتھ دو دو سوکھی روٹیاں توڑ کر فوراً کھانے کے اوپر فروٹ کھانے لئے جمع ہو جاتے تھے۔ ہمارے اس گروہ کا سرغنہ کامریڈ تھا۔

مٹی کی کمپاؤنڈ وال بڑی تھی ایک دوسرے کو سہارا دے کر دیوار پھلانگتے تھے۔ چچا محمد وارث کے قیلولے کا وقت ہوتا تھا، دبے پاؤں بیر کھانے کے لیے آنے والے بچوں کے پیٹ میں دوچار بیر جاتے تھے، تو آہستہ آہستہ شور شرابا شروع کر دیتے تھے، جس کی وجہ سے چچا کی نیند خراب ہو جاتی تھی اور چچا غصے سے ہماری طرف آتے تھے، بیر چوروں کا یہ گروہ ڈر کی وجہ واپسی پر بغیر کسی سہارے کے دیوار پھلانگ کر بھاگ جاتے تھے۔ چوری بیر کھانے کا یہ سیزن تقریباً ایک ماہ چلتا تھا۔ چچا محمد وارث مرحوم ولی انسان تھے، ان بیر چوروں کو ہر جمعہ کے روز ایک ایک روپیہ خرچی بھی دیتے تھے۔ ایک روپیہ ملنے کے بعد ہم خود کو ملک ریاض سمجھنے لگتے تھے۔ ہمارے کمانڈر صاحب بڑی دعائیں کرواتے تھے کہ اللہ کرے ہفتے میں سات جمعہ ہوا کریں۔

انہی دن ایک لطیفہ پڑھا تھا، ایک باغ میں تین لڑکے آم کھانے گئے۔ تینوں نے عہد کیا تھا کہ اگر مالی نے روکا تو تینوں مل کر اسے باندھ دیں گے آم امرود خوب کھانے کے بعد اس کو چھوڑ دیں گے۔

بزرگ مالی نے جو تین ہٹے کٹے جوانوں کو باغ کی تباہ کرتے دیکھا تو غصہ ہو کر ڈانٹنے لگے، ۔ لیکن تینوں نوجوانوں کے اتحاد کو دیکھ کر مصلحتاً چپ ہو گیا۔

تھوڑی دیر بعد کہا کہ بچو، باغ آپ کا اپنا ہے کھاؤ کوئی روک ٹوک نہیں لیکن اپنا اپنا تعارف تو کرائیں۔

پہلے جوان نے کہا کہ میں سید ہوں، دوسرے نے کہا کہ میں درس ہوں تیسرے نے کہا میں میراثی ہوں۔ جس پر مالی نے کہا سید زادہ ہماری آنکھوں پر ہم اہل بیت کے غلام ہیں بھلے آئے ویلکم، درس بھی ہمارا بھائی ہے، درس دعا والے ہیں۔ تیسرے سے مخاطب ہو کر کہا لیکن میراثی کے بچے! تجھے جرات کیسے ہوئی میرے باغ میں آنے کی؟

یہ سنتے ہی میراثی کے دونوں ساتھی میراثی پر ہنسنے لگے جس کا فائدہ لیتے مالی نے خوب ڈنڈے مارکر اسے باغ سے نکال دیا۔

کچھ دیر کے بعد کہا یار سید تو آل رسول ہیں ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بھلے آئے جی آئے، لیکن اس درس کو کیا مجال کہ میرے باغ میں گھس آیا ہے؟ اور یوں درس لڑکے کو بھی ڈنڈے مار کر بھگا دیا، جب دیکھا کہ سید زادہ اب اکیلا ہے تو اسے آواز دے کر درخت سے نیچے اتارا اور بنا پوچھے ڈنڈے مارنے شروع ہو گیا کہ یہ باغ تمہارے باپ کا ہے؟ بھاگ یہاں سے۔ اور یوں مالی نے اپنی حکمت عملی سے پی ڈی ایم کے اتحاد کو ایک ایک کر کے توڑا اور اپنی بالادستی قائم کر کے دکھائی۔

دندان دکھانے میں مشہور زرداری صاحب شاید یہ بھول گئے ہیں کہ ان کا سب سے برا انجام ہوگا۔ آج بابائے سیاست کہلوانے والا اپنے دونوں اتحادیوں کو پھنسا ہوا دیکھ کر خوب انجوائے کر رہا ہے لیکن مکافات عمل سے غافل بھول چکا ہے کہ what goes around comes around۔

شاید کچھ عرصہ کے لیے مریم بیبی کو جلاوطنی برداشت کرنی پڑے مولانا کو مدارس تک محدود رہنا پڑے، اس سے زیادہ ان دونوں پارٹیوں کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے، نہ تو ان کی مرکز میں حکومت ہے اور نا ہی صوبوں میں۔ دونوں جماعتوں کے قائدین شاید پانچ دس کی پابندی جھیل لیں، لیکن اس بابائے سیاست کا کیا بنے گا جس کے گھر کے راشن سے لے کر گاڑیوں کے فیول تک سندھ حکومت سے جاتا ہے۔ جس کی فیملی کا ہر فرد برطانیہ کی ملکہ سے زیادہ پروٹوکول رکھتا ہے۔

زرداری ہاؤس کے ملازمین کے ملازمین بھی ضلعوں کے ایس ایس پیز کو اشاروں پر نچاتے ہیں۔ اس رئیس کا کیا بنے گا جو تیرہ سال سے سندھ کے سیاہ و سفید کا وارث ہے۔ جس کی پارٹی پر گرفت بارگیننگ میں ملے اقتدار کی وجہ سے ہے۔ جس دن سندھ میں گورنر رول نافذ ہوا تو زرداری کے جنازے کو کندھا دینے والا سوائے کرائے کے مولوی کے کوئی نہیں ملے گا۔
اس لیے زرداری صاحب ذرا بچ کے۔ ”مالی کسی کا یار نہیں ہے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply