قاضی فائز عیسٰی کا بیانیہ اور اوریا مقبول جان کا گٹر
اوریا مقبول جان کبھی کسی تعارف کے محتاج نہیں رہے۔ فکری بحران کا شکار یہ محترم اپنے قلم سے اپنے فکری مخالفین کو نوکیں چبھو کر مزے لینے کے مشغلے کو محبوب رکھتے ہیں۔ مگر اس مرتبہ آپ جناب نے کسی کے لفظوں کی چبھن کو محسوس کر لیا اور اس وجہ سے جناب کی رات کی نیند حرام ہو گئی اور اسی بے آرامی میں انہوں نے ”اپنی ذلت کی قسم، آپ کی عظمت کی قسم“ کے عنوان سے ایک کالم لکھا ہے۔ اس کالم میں انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جناب جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے ریمارکس پر اپنی بے چینی کا اظہار کیا ہے۔
جناب جسٹس فائز عیسٰی نے اپنے مقدمے کے دلائل میں عدالت عالیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا ”لگتا ہے ہم پاکستان نہیں کسی گٹر میں رہ رہے ہیں“ ۔ اس موضوع پر مزید لکھنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ جناب فائز عیسٰی صاحب کے یہ الفاظ ان کے مقدمے کے دوران دیے گئے دلائل کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ان الفاظ نے اوریا صاحب کو بے چین کر دیا مگر اپنے کالم میں وہ کچھ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہے کہ آخر اس جملے میں وہ کون سا دکھ پوشیدہ تھا کہ جو ان کی بے چینی کا سبب بنا۔
قاضی فائز کے جملوں کے خلاف لکھے، اپنے کالم کا آغاز اوریا صاحب شیخ سعدی کے ایک حب الوطنی سے لبریز شعر سے کرتے ہیں اور اس کے بعد جناب فائز عیسٰی کے نسلی قبیلے کا تعارف کراتے ہوئے (جو بظاہر ایک احساس دلاتا ہے کہ شاید پاکستان تو فائز عیسٰی صاحب کے آباء و اجداد کا تھا ہی نہیں) اسی مقبول تھیوری سے اپنی حب الوطنی کا استدلال پیش کرتے ہیں کہ پاکستان ایک خالص مذہبی بنیادوں پر بنا ملک ہے اور یہ ملک اتنا خالص مذہبی ہے کہ سعودی عرب بھی ایسا یا ویسا نہیں اور پاکستان کی محبت ان کے ایمان کا حصہ وغیرہ ہے۔ پھر وہ قاضی فائز عیسٰی کے خاندان کو حاصل ہوئے مواقعوں اور مراعات پر بات کرتے ہوئے ان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہیں۔ اور بلوچستان میں اپنی ملازمت کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے بلوچستان کے عوام کو عدلیہ سے انصاف نہ ملنے کا تذکرہ کرتے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جناب اوریا مقبول کو جاننے اور پڑھنے والے جناب کی بلوچستان میں کی گئی نوکری کا ذکر اتنی بار سن چکے ہیں کہ غالب گمان ہوتا ہے کہ یا تو بلوچستان دریافت ہی اوریا صاحب کی نوکری کے دوران ہوا تھا یا پھر وہاں انسانی تہذیب و تمدن کا ارتقا جناب کے کار سرکار سے شروع ہوا۔ پھر اپنے کالم میں وہ کچھ تاریخی واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انصاف نہ ملنے کا ماتم کرتے ہیں۔
شاید بین السطور وہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ قاضی فائز صاحب صرف انصاف کی فراہمی پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں وغیرہ۔ پھر قاضی فائز عیسٰی کی سرزنش کرتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کو گٹر کہنے کی جرأت کیوں کی۔ اور آخر میں وہ ساحر لدھیانوی کے کلام کا سہارا لیتے ہوئے جناب فائز عیسٰی سے اپنی برأت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب آپ کی مزید عزت نہیں کی جائے گی۔
جناب اوریا مقبول جان صاحب کیا سوچتے ہیں، کس قسم کا نظام زندگی پسند فرماتے ہیں اور کیا فکری، سیاسی، سماجی اور اقتصادی خیالات رکھتے ہیں۔ راقم الحروف کو ان سے کوئی لینا دینا نہیں۔ کیونکہ جس قبیلے سے ہمارا تعلق ہے وہ اوریا صاحب کی فکر میں گردن زنی ہے۔ خدا ان کے اختیار اور سوچ میں برکت ڈالے ہم تو کب کے منتظر ہیں کہ کب اوریا صاحب کے فکری صالحین منصۂ شہود پر نمودار ہو کر اقتدار کی باگ ڈور سنبھالیں گے اور کب زمین کو ہمارے خیالات کے فسق سے پاک کریں گے۔ مگر جب تک ایسا نہیں ہوتا تو مکالمہ تو بنتا ہے۔ اگر وہ قاضی فائز عیسٰی کے خیالات پر بے چینی محسوس کر سکتے ہیں تو ہم بھی حق رکھتے ہیں کہ انہیں بے چینی کی درست سمت دکھانے کا جتن کر سکیں۔
جناب اوریا سے پوچھا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی آزادی میں شامل معزز قاضی خاندان کے ایک سپوت جو پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے معزز جج اور گزشتہ دو سال سے زیر عتاب ہیں کو آخر کیا ضرورت پیش آئی کہ وہ اپنے ملک کو ایک گٹر سے تشبیہہ دیں۔ جب یہ الفاظ انہوں نے ادا کیے تو وہ کسی سیاسی مجمعے سے بات نہیں کر رہے تھے بلکہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے ججز کے سامنے دلائل دے رہے تھے۔ کیا اوریا صاحب ایک لمحہ کے لئے فائز صاحب کا درد محسوس کرنے کا حوصلہ دکھا سکتے ہیں۔
کیا اوریا صاحب نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ یہ ملک آخر گٹر کیسے بن گیا ہے؟ کیا وہ ہمت کر کے یہ سچ سوچنا اور لکھنا چاہیں گے کہ فکری قنوطیت کا شکار موقع پرست خونخواروں کا وہ جتھہ جو اس ملک میں آزادی کے فوراً بعد نمودار ہو گیا تھا انہوں نے اس ملک کو کس طرح ایک گٹر بنا دیا ہے۔
جناب اوریا صاحب! ایک گٹر میں ہی ایسا ہوتا ہے کہ ایک سرکاری ملازم اپنے قائد کی تقریر کی کانٹ چھانٹ کرنے کی جرأت کرے۔ ملک کے قائد کی ایمبولینس کا تیل ختم ہو جائے۔ ایک باوردی ملازم عوام کی مقبول رہنما اور قائد کی سگی بہن کو حق اقتدار سے محروم کر دے۔ آئینی حقوق مانگنے پر آدھا ملک گنوا دیا جائے۔ ایک منتخب وزیراعظم کو پھانسی پر چڑھا دیا جائے۔ اگر یہ گٹر نہ ہوتا تو ہم اپنے ایک ”صالح قائد“ کے ہوا میں پھٹ جانے والے طیارے کے حقائق سامنے لا سکنے کی جرأت کر سکتے۔
گٹر میں ہی ایسا ہوتا ہے کہ اقتدار پر بیٹھا ایک قنوطی بڈھا کہے کہ آئین کی کتاب کے اوراق پر لوگ سموسے رکھتے ہیں۔ یا روشن خیال اعتدال پسندی کا چغہ پہنے ایک ڈکٹیٹر کہے کہ آئین ہے مگر پردے میں ہے۔ گٹر میں ہی ممکن ہے کہ جمہور کے حق حکمرانی پر ڈاکہ ڈال کر جگاڑی بندوبست کیے جائیں۔ ان تمام واقعات پر آپ کی حب الوطنی جوش نہ مار سکی اور آپ کی راتوں کی نیند حرام نہ ہوئی۔
حیرت اس بات کی ہے کہ آپ اس حقیقت پر بے چین نہیں ہو جاتے کہ قاضی فائز عیسیٰ ایسا معزز اور قانون کا رکھوالا شہری اپنے ملک کے بارے میں ایسے خیالات رکھتا ہے۔ اور اس بگاڑ کے سدھار کی کوئی ترکیب نہ ہونے پر اپنی بے چینی کا اظہار نہیں کرتے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اوریا صاحب، جناب فائز عیسٰی کے الفاظ کے نقیب بن جاتے اور ان کے بیانیے کی ترویج کے لیے اپنا قلم استعمال کرتے مگر افسوس صد افسوس کہ اپنے گٹر میں مقید اوریا مقبول صاحب کو فائز عیسٰی صاحب کے بیانیے کی سمجھ ہی نہیں آ سکی۔ اوریا صاحب نے ساحر لدھیانوی کی ایک نظم کے دوسرے بند کو اپنے لئے استعمال کیا۔ آخر میں ساحر لدھیانوی کی اسی نظم کے پہلے بند (جو ہمارے حق پر گواہی ہے ) پر ہی اختتام کہ:
آپ بے وجہ پریشان سے کیوں ہیں اوریا جی!
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہو گی
میرے ماحول میں انسان نہ رہتے ہوں گے


