ادبی جوڑے کی شادی اور حق مہر میں کتابوں کی لائبریری
ایک بہی خوا نے ایک خبر پوسٹ کی تھی اور ساتھ میں نکاح نامے کا فوٹو بھی لگایا ہوا تھا۔ مبارک باد کے ساتھ ساتھ دوستوں کے اس انوکھے اور جدید طریقہ کار پر کمنٹس کا ایک تانتا بندھا ہوا تھا۔ یہ شادی پشتو زبان کے انتیس سالہ شاعر، ادیب اور حال ہی میں پشتو لٹریچر میں پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر سجاد ژوندون اور ان کی اہلیہ ستائیس سالہ نائلہ پشتو زبان و ادب کی ادیب، شاعرہ اور شاید وہ بھی ایم فل یا پی ایچ ڈی کی سکالر ہے، کی تھی۔
نکاح نامے میں حق مہر کے خانے میں جلی حروف سے لکھا گیا ہے کہ حق مہر میں دلہن کو دلہا کی طرف سے ایک لاکھ روپے سکہ رائج الوقت کی مالیت کی کتابوں کی لائبریری بنا کے دی جائے گی۔ میرے خیال سے یہ شادی اس نوعیت کی پہلی شادی ہوگی جس میں دونوں میاں بیوی نے حق مہر کتابوں کی شکل یا لائبریری کی قیام کی صورت میں متعین کیا ہو۔ اور پھر بغیر کسی معاشرتی دباؤ کے اس کو نکاح نامے میں درج کروانا اور پھر سوشل میڈیا کی زینت بنانا دوسری بڑی کاوش، دلیری اور مثبت عمل کی سماجی دعوت کے مترادف ہے۔
اس سلسلے میں مختلف قسم کی آراء گردش میں ہیں کہ دونوں میاں بیوی شاعر اور ادیب تھے ، اس لئے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ یہ دونوں آسانی سے یہ کر سکتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن میرے خیال میں آئے دن ادبی جوڑوں کی شادیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن اب تک میرے علم مطابق کسی ادبی جوڑے نے اس طرح کی مثال کبھی قاٰئم نہیں کی اور نہ کبھی اس طرح کی کوئی خبر زیر گردش رہی ہے کہ بطور مثال پیش کی جا سکے۔
ہمارے ہاں سماجی دباؤ یا اخلاقی و اقتصادی رسومات ضرورتوں کی طرح ہماری اندر پھیلی ہوئی ہے اور ہم ہیں کہ ان میں سرتاپا پھنسے اور دھنسے ہوئے ہیں یا پھر ان غلط رسومات میں اس طرح جکڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ ہمارا ہلنا محال ہوتا ہے چہ جائیکہ مزاحمت پر اتر آئیں۔ لیکن پشتو زبان میں ایک ضرب المثل مشہور ہے کہ ’زنگل د زمرو نہ نۀ خالی کیگی‘ یعنی جنگل شیروں سے خالی نہیں ہوتا اور بالآخر جنگل میں کہیں نہ کہیں سے شیر نمودار ہو ہی جاتا ہے ، لیکن جیسے ہر کامیاب شوہر کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے بالکل اسی طرح ایک کامیاب شیر کی زندگی میں ایک دلیر اور وقت فیصلہ رکھنے والی شیرنی بھی ہر وقت تازہ دم رہتی ہے۔
تو سجاد ژوندون اس جرأت مندانہ فیصلے میں اکیلے نہیں ہوں گے بلکہ ان کے ساتھ ان کی بیگم بھی ہوں گی، اور یقیناً ہے کیونکہ حق مہر گو کہ لڑکی کا حق ہوتا ہے پر لڑکی والے لڑکی کو کسی طرح سے قائل کرنے کی جسارت کرتے ہیں اور لڑکی کو مسقبل کے تحفظ کے ڈر خوف کا احساس دلا کر اس بات پر مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ جتنا زیادہ سے زیادہ حق مہر رکھ سکتی ہے، رکھے تاکہ کل کلاں شوہر علیحدگی یا طلاق کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے۔ اسی طرح اگر کل پرسوں خدانخواستہ لڑکی آمادہ بر خلع ہو تو وہ اس ڈر کی وجہ سے یہ بندھن نہ توڑے تاکہ خلع کلیم کرنے کی صورت میں پھر وہ تمام حق مہر واپس نہ کرنا پڑے۔ بہرحال یہ تو ایک سماجی اور قانونی نقطہ میں نے زیب داستاں کے لئے چھیڑا۔
اب آتے ہیں سجاد ژوندون کی آنے والی ازدواجی زندگی کی طرف تو سجاد کا تخلص ژوندون ہے اور پشتو میں ژوندون زندگی کو کہتے ہیں اور کہتے ہیں ناں کہ کبھی کبھی نام یا تخلص کا بھی بندے پر اثر ہوتا ہے۔ اگر یہ سچ مان لیا جائے تو پھر اس تخلص نے سجاد ژوندون پر بھرپور طریقے سے اثر کیا ہے بلکہ ان اثرپذیری کے ثمرات ان کی آنے والے زندگی میں اس طرح سے ملیں گے کہ ان کی بیگم صاحبہ ان کو یہ روز روز یہ طعنے نہیں دیں گی کہ پھر کتابوں کی بنڈل لے کر آ گئے، پرانے کیا کم تھے جو اور بھی لے کر آئے ، اب ان کتابوں کو رکھیں گے کہاں؟ پرانی کتابوں نے الماریوں میں برتنوں کی جگہ گھیری ہوئی ہے۔ میز، صوفے اور بیڈ پہلے سے آپ کی کتابوں کے بوجھ تلے اینٹوں کے سہارے کھڑے ہیں۔
اب سجاد ژوندون کو یہ طعنہ نہیں ملے گا کہ یہ گھمانے پھرانے کے بہانے کسی کتب میلے میں کیوں لے کر آئے۔ یا یہ تم مجھے ہر بار کسی مشاعرے، کسی ادبی یا ثقافتی جیسے بور پروگرام میں کیوں لے آتے ہو، خود تو انجوائے کر لیتے ہو اور ہماری بوریت کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔ اب جب سجاد ژوندون جب گھر آئیں گے تو ان کے ہاتھوں میں بیوی کتابیں دیکھ کر موڈ خراب نہیں کرے گی اور نہ ان کو اس بات کا احساس دلایا جائے گا کہ یہ تم کیا گھاٹے کے سودے میں لگے ہو یا یہ کیا فضول کاموں میں اپنا وقت اور پیسہ برباد کیے جا رہے ہو اور نہ سجاد ژوندون کو اپنی بیگم کو روز لیکچر دینے پڑیں گے اور نہ کتاب سے رشتہ ناتا جوڑنے کی رام کہانیاں سنانا پڑیں گی۔
بالکل اسی طرح دوسری جانب نائلہ صافی یا نائلہ سجاد یا نائلہ ژوندون بھی خوش قسمت ہیں کہ ان کو ایک پڑھا لکھا ادیب شاعر شوہر مل گیا اور اب وہ ان کی ادبی، تعلیمی اور تخلیقی سرگرمیوں میں روڑے نہیں اٹکائے گا بلکہ اور ان کی صلاحیتوں کو نکھرنے دے گا کیونکہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب اس طرح کی لڑکیوں کی شادی کسی غیر تخلیقی شخص سے ہو جاتی ہے تو پھر وہ یا تو شوہر کی کم علمی ، سماجی دباؤ یا پھر احساس کمتری کی وجہ سے گھر پر بٹھا دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف وہ خود اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ گھر میں بیٹھے بیٹھے دفن ہو جاتی ہیں بلکہ متعلقہ زبان اور ادب بھی ان کی صلاحیتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔
میری دعا ہے کہ اس نئی نویلے ادبی جوڑے کو اللہ حفظ و امان کے ساتھ اپنی آنے والے نسل کی تخلیقی بقاء اور زبان و ادب کی خدمت کی بہ درجۂ اتم توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔




