توحید ہالیپوتہ: پی آئی اے کے وائرل فلائٹ سٹیورڈ جن کے کندھے پر ایک روتے بچے کو سکون ملا

فضائی سفر کے دوران چھوٹے بچوں کا رونا اور چِلانا عام سی بات ہے لیکن اگر کوئی مہربان انھیں خاموش اور پرسکون بنانے میں مددگار ثابت ہو جائے تو یہی بات سفر کو خوشگوار بنا دیتی ہے۔
اسلام آباد سے کراچی جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 302 جب لگ بھگ دس ہزار فٹ کی اونچائی پر تھی تو اچانک نشست نمبر 17 اے اور بی سے ایک بچے کے مسلسل رونے کی آواز آنے لگی۔
فضائی عملے کے سربراہ سٹیورڈ توحید ہالیپوتہ نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے اپنی ساتھی ایئرہوسٹس سے درخواست کی کہ جا کر دیکھیں کہ بچہ آخر کیوں رو رہا ہے؟
ایئر ہوسٹس نے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے جوس اور کچھ کھانے کی اشیا ماں کے پاس لے گئیں لیکن بچے کا رونا بند نہیں ہوا۔ یہ ماں دراصل اپنے دو چھوٹے بچوں کے ساتھ سفر کر رہی تھی، اس لیے دونوں کو سنبھالنا دشوار ہو رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
ٹِک ٹاک ویڈیوز پر پی آئی اے کے عملے کو وارننگ
پی آئی اے نے ایمریٹس کو سروس شروع کرنے میں کیسے مدد دی؟
ایک ایئرہوسٹس کی ناکامی کے بعد دوسری نے قسمت آزمائی اور انھوں نے یہ ٹوٹکا آزمایا کہ روئی کے ٹکڑے لے کر بچے کے کانوں میں ڈال دیے جائیں تاکہ اگر وہ کیبن پریشر کی وجہ سے رو رہا ہے تو اسے سکون مل جائے۔
جب ایسے بھی کام نہ بنا تو انھوں نے سوچا کہ شاید کسی طبی مدد کی ضرورت ہے اور انھیں اس کا اعلان کرنا چاہیے۔
https://twitter.com/falamb3/status/1370336950109011976
توحید اس مسافر خاتون کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ ایک بچے کی عمر آٹھ سے نو ماہ ہے اور دوسرا اس سے سوا سال بڑا تھا۔ توحید کے مطابق ماں اب تک بے بس نظر آرہی تھیں اور ان کے ساتھ کوئی مرد بھی نہیں تھا۔
لحاظہ سٹیورڈ توحید ہالیپوتہ نے وہی کیا جو کوئی بھی درد مند شخص کرتا، انھوں نے ایک بچے کو گود میں اٹھایا اور کندھے پر رکھ کر سہلانے لگے، جس کے تھوڑی ہی دیر بعد وہ پرسکون ہو کر سو گیا۔
اس دل موہ لینے والے اقدام کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئیں۔
توحید ہالیپوتہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ ڈیوٹی سے گھر آ گئے تو دوستوں نے ٹیلیفون کر کے انھیں بتایا کہ ان کی تصاویر تو وائرل ہیں، تاہم ان کے مطابق انھیں تو معلوم بھی نہیں ہے کہ کس نے کب یہ تصاویر بنائیں۔
’کیا آپ یہ بچہ سنبھال سکتے ہیں؟‘
توحید ہالیپوتہ نے بتایا کہ انھوں نے خاتون سے پوچھا کہ ’کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟‘ جس پر خاتون نے جواباً پوچھا کہ ’کیا آپ یہ بچہ سنبھال سکتے ہیں؟‘
انھوں نے بتایا ’وہ بچہ آٹھ نو ماہ کا تھا اور میں نے اپنے بچوں کی طرح اس کو گود میں اٹھایا اور روئی کے بڈز اس کے کانوں میں ڈال دیے اور بچے کو لے کر طیارے کے اندر ٹہلنے لگ۔‘ کچھ ہی دیر میں بچہ ان سے مانوس ہو گیا اور تھوڑی دیر کے بعد ان کے کندھے پر سر رکھ کر سو گیا۔
توحید نے بتایا کہ وہ بچے کو لے کر ماں کے پاس گئے تو اس نے کہا کہ ابھی کچی نیند ہے اس لیے اسے مزید کچھ دیر ٹہل کر بہلایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ’اس طرح 12 سے 15 منٹ تک میں بچے کو اسی طرح سہلاتا رہا اور بعد میں اسے نشست پر لیٹا دیا جہاں وہ پرسکون نیند سو گیا۔‘
’والدین نے بچپن سے دوسروں کی خدمت کا درس دیا ہے‘
توحید ہالیپوتہ کا تعلق سندھ کے شہر شکارپور سے ہے۔ یہ شہر جو بین المذاہب ہم آہنگی، انسانی خدمت اور ادب و علم کے حوالے سے ایک جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے والد ایک سکول ٹیچر ہیں۔
توحید ہالیپوتہ کے مطابق وہ گذشتہ 30 سال سے پی آئی اے سے وابستہ ہیں، یہ ان کے فرائض میں شامل ہے کہ مسافروں کی حفاظت اور آرام دہ سفر کو یقینی بنایا جائے۔
ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنا فرض ایمانداری سے ادا کریں تاکہ کوئی مسافر تکلیف میں مبتلا نہ ہو اور کسی کو کوئی دقت نہ ہو۔
انھوں نے کہا کہ ’اس لیے میں خود طیارے کے چکر لگاتا رہتا ہوں اور والدین نے بھی بچپن سے یہ ہی سکھایا ہے کہ انسانوں کی خدمت کرنی ہے۔‘
بچے آخر طیارے میں کیوں روتے ہیں؟
چھوٹی عمر کے بچوں کے ساتھ فضائی سفر آسان نہیں ہے، توحید ہالیپوتہ کا کہنا ہے کہ کیبن میں دباؤ ہوتا ہے چھوٹے بچوں کے کان کے پردوں پر اثر پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ چیختے چلاتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ جہاز کے پرواز بھرنے اور اترنے کے وقت جو آوازیں آتی ہیں اس سے بھی بچے گھبرا جاتے ہیں کیونکہ وہ ان سے مانوس نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کو خصوصی مہمان کا درج حاصل ہوتا ہے۔
’بچوں کے لیے الگ سیٹ بیلٹ ہوتی ہے، انھیں خصوصی کھانا دای جاتا ہے، پریشر سے بچنے کے لیے کانوں میں روئی ڈال دی جاتی ہے اور اگر ضرورت پڑے تو میڈیکل کٹ میں کانوں کے لیے ڈراپس بھی موجود ہوتے ہیں۔‘
توحید ہالیپوتہ کے مطابق چھوٹے بچے روتے ہیں لیکن انھیں والدین یا ماں سنبھال لیتی ہیں لیکن اگر ماں اکیلی اور بچے دو ہوں تو صورتحال دشوار ہو جاتی ہے۔

