ماں کی یاد میں
اس دن کی قدر ماں کے جانے کے بعد محسوس ہوئی۔
ہچھلے دنوں کوئٹہ اپنے میکے جانا ہوا۔ در و دیوار ساز و سامان سب کچھ وہی تھا پر ماں نہی تھی میری وہاں۔ ایسا لگا جیسے ان تمام چیزوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہو۔ امی کے علاوہ بہن بھائی ابو سبھی تو تھے مگر رشتوں کی حرارت امی اپنے ساتھ ہی لے گئیں۔
دوسرے شہر میں شادی ہونے کی وجہ سے اپنے میکے آنا ہمیشہ مسئلہ بنا رہتا تھا۔ کبھی بچے چھوٹے ہوتے تھے، سفر کرنا مشکل تھا، کبھی اسکول کالج کی وجہ سے جانا نہیں ہوتا تھا۔ سچ کہوں تو سسرال اور شوہر کو میرا میکے جانا پسند ہی نہیں تھا نہ ہی میکے سے کوئی آ کر یہاں رک سکتا تھا۔
جوانی کا جوش تھا اور گھر کی مصروفیت میں اس بات کا اتنا احساس نہیں ہوا کہ میں اپنے میکے سے دور ہوں۔
کبھی بہن بھائیوں کی شادی میں جانا ہوتا تو میرے گرد تمام بھانجے بھانجیاں اور خاندان کے دیگر افراد جمع رہتے کیونکہ سب ہی جانتے تھے کہ میرا دوبارہ آنا کب ممکن ہو، کچھ پتا نہیں تھا۔
امی چھوٹے چھوٹے بچوں کے شور شرابے سے پریشان بھی ہو جاتی تھیں اور گھر گندا ہو جائے تو انہیں سخت ناگوار گزرتا تھا۔ ان کی ناراضگی کے ڈر سے ایک بجلی وجود میں دوڑی رہتی تھی۔ یہ سمیٹ وہ سمیٹ، ادھر کچھ کھا کے پھینک دیا، ادھر پانی گرا دیا، غرض ایک الگ ہی سماں بندھ جاتا تھا۔
پھر جب میرے بچے بڑے ہوئے اور جانا بہت مشکل ہونے لگا تو میں امی کو اپنے پاس بلا لیتی تھی۔ ان کی فرمائش پہ گوار پھلی پکتی، کبھی کریلے قیمہ تو کبھی ہم ان سے ہی آش پکوا کر کھاتے۔ رات کو پرانی انڈین بلیک اینڈ وائٹ فلمیں پورا گھر ان کے ساتھ بیٹھ کر دیکھتا اور خوب تفریح کرتا۔
دو سال پہلے امی آئی تھیں، اپنے داماد سے ملنے جیل بھی گئیں۔ میں چونکہ اسکول جاب کرتی ہوں تو میرے آنے تک کھانا پکوا کر رکھتی تھیں۔ کپڑے دھونے کی بہت شوقین تھیں۔ میں منع کروں تو بھی میرے آنے سے پہلے ہی گھر بھر کے کپڑے دھو کر پھیلا دیتی تھیں۔
ان کے کام کرنے اور نماز تہجد کی پابندی دیکھ کر کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ بیمار ہیں۔ کینسر انہیں اندر ہی اندر اتنی خاموشی سے کھا رہا تھا کہ پتا ہی نہیں چلا کہ یہ موذی مرض اتنا آگے پھیل چکا ہے۔
کچھ رشتوں سے اتنا روحانی گہرا تعلق ہوتا ہے کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان کے انتقال سے کوئی پانچ مہینے پہلے کی بات ہے، چونکہ امی کوئٹہ میں رہتی تھیں اور میں اسلام آباد میں، اسکول جاتے آتے ہر وقت مجھے ان کی شبیہہ نظر آنے لگی، مجھے ہر وقت ان کی یاد ستانے لگی۔ انہی دنوں میں نے ان کا ٹکٹ کوئٹہ بھیجا لیکن کچھ ناگزیر وجوہات کی وجہ سے وہ آ نہ سکیں پھر اچانک وہ شدید بیمار ہوئیں ۔کورونا کی وجہ سے کوئٹہ بھر کے ڈاکٹرز ہڑتال پہ تھے۔
ایسے حالات بنے کہ انہیں اسلام آباد لانا پڑا، وہ یہاں جتنے دن رہیں ہمیں مصروف رکھا، اپنے پیروں پہ چلتی تھیں، کھانا فرمائش کا پکوا کر کھایا۔ انہیں دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ کینسر کی ایڈوانس یعنی چوتھی اسٹیج کی مریضہ ہیں۔ بس کبھی کبھار پیٹ میں شدید درد ہوتا تھا اور اس وقت سب تسبیح لے کر بیٹھ جاتے تھے۔ بے شک اللہ کے کلام میں بہت طاقت ہے، وہ خود تہجد میں بہت کلام پڑھتی تھیں، انہوں نے اپنے لیے بہت کچھ جمع کر لیا تھا جبھی تو انتقال سے ایک دن پہلے واپس اپنے گھر گئیں اور شان سے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیا۔
وہ ہماری ماں تھیں، ہمیں درد و رنج میں مبتلا کر گئیں۔ میرا میکہ ختم کر گئیں۔ ان کی آغوش کی گرمی ابھی تک میرے گالوں کو محسوس ہوتی ہے۔
ابو حیات ہیں ماشاءاللہ لیکن امی گھر کو مکان کر گئیں۔ امی جنت میں اپنے گھر میں میری جگہ رکھیے گا۔

