صوفہ جلانے کے بعد مولانا عزیز کو اور کیا کرنا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پہ ایک وڈیو کلپ گردش کر رہی تھی جس میں لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اپنے پندرہ بیس مریدین کے ساتھ ایک صوفہ سیٹ کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان فرما رہے تھے کہ ”صوفہ پہ نہ تو نبی پاک ﷺ اور نہ ہی صحابہ کرامؓ بیٹھتے تھے بلکہ زمیں پہ بیٹھتے تھے، اس لیے صوفہ پہ بیٹھنا جائز نہیں ہے، حرام ہے لہٰذا میں اس کو آگ لگا رہا ہوں“ اور پھر وہ صوفے کو آگ لگا دیتے ہیں۔ اس سارے عمل کی وڈیو، پبلک میں وائرل کی جاتی ہے۔ شاید صوفہ سیٹ، موبائل فون سے زیادہ خطرناک اور غیر اسلامی چیز ہے۔

ہمیں یہ کلپ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ کم از کم مولانا عزیز نے ملک میں حقیقی اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے عملی طور پہ پہلا قدم اٹھایا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ مولانا صاحب، اپنی اور اپنے گھر والوں کے ذاتی استعمال کی تمام چیزوں پر نظرثانی کریں گے اور صرف وہ چیزیں اپنے پاس رکھیں گے جو صحابہ کرام کے استعمال میں تھیں، باقی تمام غیر اسلامی چیزوں کو آگ لگا دیں گے۔ مولانا صاحب اپنے حلقۂ احباب، مریدین اور طلبا کو بھی ایسا کرنے کی تلقین ضرور کریں گے۔

کسی بھی نیک کام کی ابتدا کرنے میں ہمیں بالکل کوئی اعتراض نہیں بشرطیکہ مولانا صاحب، صحابہ کرام کی زندگی کو اپنا شعار بنانے کے لئے اس کی ابتدا سب سے پہلے اپنے گھر سے کریں تاکہ مسلم امہ کے لئے ایک زندہ مثال موجود ہو۔ مجھے امید ہے کہ مولانا صاحب صوفہ سیٹ جلانے کے بعد اپنا اسلامی سفر جاری رکھیں گے۔ اس سلسلے میں مولانا صاحب سے چند گزارشات کرنے کی جسارت ہم پر بھی فرض ہے۔

1۔ سب سے پہلے مولانا صاحب اپنا سجایا ہوا گھر بیچ کر یا اسے آگ لگا کے، کسی کچے مکان یا سادہ سے پکے مکان میں شفٹ ہو جائیں گے، جس میں بجلی، فون، گیس اور پانی کے کنکشن نہ ہوں اور ان سے وابستہ کوئی بھی چیز استعمال میں نہیں لائیں گے۔ پلنگ، بیڈ، ڈائیننگ ٹیبل، کراکری، ٹی وی، کمپیوٹر اور تمام موبائل فونز گھر سے باہر پھینک دیں گے۔ گھر میں واش روم کا ہونا یقیناً حرام ہے کیونکہ صحابہ کرام کے دور میں لوگ جنگل یا کھیتوں کا رخ کرتے تھے۔

2۔ مولانا صاحب وہی لباس پہنیں گے جو حضور ﷺ کے دور میں رواج میں تھا مثلا، جبہ، قمیض، کرتہ، لنگی، عمامہ اور ٹوپی۔ نبی کریم ﷺ اپنی سواری میں اونٹ اور گھوڑا وغیرہ استعمال میں لاتے تھے لہٰذا مولانا عزیز صاحب کافروں کی بنائی ہوئی گاڑی کو آگ لگا کر، اپنے لئے کوئی بھی جانور استعمال میں لا سکتے ہیں لیکن ان تمام جانوروں میں، محنت اور کفایت شعاری میں گدھے کا جواب نہیں۔

3۔ بیماری کی صورت میں، صرف کسی حکیم سے رجوع کریں گے، کسی بھی ڈاکٹر، انگریزی دوا، میڈیکل ٹیسٹ، ایکسرے اور آپریشن جیسے غیر اسلامی علاج سے مکمل اجتناب کریں گے۔

4۔ عبادت صرف اس مسجد میں کریں گے جس کی طرز تعمیر صحابہ کرام کے دور سے ملتی جلتی ہو یعنی مٹی، پتھر اور گارے سے بنائی ہوئی مسجد، جس میں کھجی کی چٹائیاں بچھی ہوں اور وضوخانے کے بجائے مٹی کے کوزے رکھے ہوں۔ البتہ فی الحال لال مسجد سے تمام اے سی، پنکھے، بلب، قالین اور ٹائلز وغیرہ نکال کر انہیں باہر پھینک دیں گے۔

5۔ عمرہ اور حج کے فرائض انجام دینے کے لئے، انگریزوں کے بنائے ہوئے جہاز کو لات مار کر پیدل مارچ کریں گے یا سواری کے لئے کسی بھی جانور کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

6۔ نبی کریمﷺ کے زمانے میں مسلمانوں کی باقاعدہ طور پہ کوئی فوج نہیں ہوتی تھی۔ ہر مسلمان مجاہد تھا اور اس پہ کافروں کے خلاف جنگ لڑنا / جہاد کرنا فرض تھا۔ (عورتیں بھی جنگ میں حصہ لیتی تھیں) اس لئے مولانا صاحب حکومت کو یہ تجویز دیں گے کہ ”فوج کے ادارے کو قائم رکھنا ناجائز ہے اور فوج کو کافروں کا بنایا ہوا جنگی سامان، وہ بھی سود پہ لے کر مہیا کرنا تو بالکل حرام ہے، لہٰذا تمام جنگی سامان بشمول فوجی گاڑیاں واپس کافر ملکوں کے منہ پہ ماریں، اس طرح ملکی قرضہ جات اور سودی نظام سے جان چھوٹ جائے گی۔ ہر شہری کو دشمن سے لڑنے کے لئے تیر کمان، تلوار، زرہ، خچر اور گھوڑے مہیا کیے جائیں“ ویسے مسلمان ان چیزوں کے بغیر بھی جنگ لڑ سکتا ہے۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا کہ:

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

خیر شاعری میں تو مبالغہ آرائی ہوتی ہے، حقیقت کا اس سے واسطہ نہیں۔ مولانا کو بھی اگلے مورچوں پہ لڑنا ہو گا تاکہ جنگ میں حاصل ہونے والے مال کی برابر برابر تقسیم ہو اور پکڑے جانے والے آدمیوں اور خواتین کو غلام اور لونڈیاں بنایا جا سکے۔ کتنے ان گنت فائدے ہیں غیر اسلامی چیزوں کو ترک کرنے میں، سبحان اللہ۔

ظاھر ہے کہ مسلم امہ کو صحابہ کرامؓ کے دور تک رسائی کے لئے کئی سال درکار ہیں لیکن اس نیک کام کی تکمیل کی کوشش ضرور جاری رکھنی چاہیے۔ اس سلسلے میں تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی مفید تجاویز مولانا صاحب کو ارسال کر کے ثواب دارین ضرور حاصل کریں۔ چند تجاویزعرض خدمت ہیں جن پہ اگر ہم سب عمل کریں تو مسلمانوں کی روزمرہ کی زندگی اور سماج کی ترقی پہ کوئی اثر نہیں پڑے گا اور کافی ناجائز چیزوں کے استعمال سے نجات بھی مل جائے گی۔

1۔ رمضان المبارک اور عید کا چاند دیکھنے کے لئے کفار کی ایجاد کردہ دوربین کو فوری طور پہ ہٹایا جائے۔ تمام مسلمان اپنی آنکھوں سے چاند دیکھنے کی کوشش کریں، البتہ اس نیک کام کے لئے مولانا عزیز صاحب حبیب بنک پلازہ پہ بغیر لفٹ کے چڑھ سکتے ہیں۔ (لفٹ کا استعمال یقیناً غیر اسلامی ہوگا)

2۔ رمضان شریف میں سحری اور افطار کے وقت، پرتکلف طعام، مشروبات اور فروٹ کے بجائے کھجور، پانی اور سادہ کھانے پہ قناعت کی جائے۔

2۔ مساجد سے تمام گھڑیاں خصوصاً نماز کے اوقات دکھانے والی گھڑیاں اتار دی جائیں۔ اذان اور نماز کے وقت کا تعین، سورج، ستاروں اور سایہ کی مدد سے کیا جائے۔ لاؤڈ اسپیکر جیسی شیطانی آواز کو ہمیشہ کے لئے بند کیا جائے۔

3۔ ستاروں اور سورج کی مدد سے سحری اور افطاری کے وقت کا تعین لوگ خود کریں کیونکہ یہ کسی مولوی کی ذمے داری نہیں۔

4۔ کسی بھی شخص کو مسجد کی حدود میں رہائش کی اجازت نہ ہو۔ خطیب اور مؤذن کو کسی بھی قسم کے معاوضہ سے استثنا دیا جائے۔ کسی بھی مسلمان کو اذان دینے، خطبہ پڑھنے اور امامت کرانے کی اجازت ہو۔ امید ہے کہ یہ اقدام پوری مسلم امہ کے لئے ایک ناقابل تسخیر مثال بنیں گے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر چیزوں کے استعمال پہ جائز، ناجائز، حلال یا حرام کے اس طرح کے فتوے لگتے رہے تو زندگی گزارنا ناممکن سا ہو جائے گا۔ صرف ایک مثال کھانے پینے کی چیزوں کی لیجیے، کیا ہم لوگ وہی کھانا کھاتے ہیں جو ہمارے آقاﷺ اور صحابہ کرامؓ تناول فرماتے تھے؟ کیا ہم سائل کے آنے پہ سارا کھانا اس کی جھولی میں ڈال دیں گے اور خود بھوکے سو جائیں گے؟ سادہ دل مسلمانوں کے لئے ان لوگوں نے فتوے بازی کے کئی جال بچھائے ہوئے ہیں جن سے بچنا ناممکن نہ سہی، مشکل ضرور ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply