فاروق بھائی (ڈاکٹر سید احمد فاروق مشہدی) کی کچھ یادیں


پیارے بھائی پروفیسر ڈاکٹر سید احمد فاروق مشہدی کا 5 جنوری 2021 کو انتقال ہو گیا تھا۔ میں نے ان کی یاد میں ایک تفصیلی مضمون پہلے بھی لکھا تھا۔ آج میں ان کے ”ہم سب“ میں شائع ہونے والے مضامین کا مطالعہ کر رہا تھا جو کتابی شکل میں شائع کروانے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ۔

دوران مطالعہ دل بھر آیا، آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ مرحوم بھائی سے محبت اور پھر ان کی زندگی کے خاتمے کا تصور بہت افسردہ کر گیا۔ عجیب اتفاق ہے کہ ان کے ”ہم سب“ میں گزشتہ 6 ماہ میں شائع ہونے والے سارے مضامین بچھڑے ہوؤں کی یاد میں تھے۔

منیر نیازی مرحوم سے لے کر ڈاکٹر مشتاق گورایا مرحوم تک سارے ہی مضامین شاہکار ہیں۔ انہیں کیا اندازہ تھا کہ وہ بھی جلد بچھڑنے والوں میں شامل ہونے والے ہیں۔ پڑھتے ہوئے یہ احساس بڑی شدت سے ہوا کہ ان کا قلم اتنا عرصہ خاموش کیوں رہا؟ اردو ادب سے ان کی دوری ایجوکیشن میں ان کی پی ایچ ڈی اور پھر اسی شعبہ تعلیم میں ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں تھیں مگر ان کے مضامین کا مطالعہ کر کے اندازہ ہوا کہ اگر وہ اردو ادب میں ہی رہتے تو اردو ادب کے افق کا ایک دمکتا ستارہ ہوتے۔

زندگی وفا کرتی تو اردو ادب میں ان کی واپسی بھی یقیناً اس افق پر نئے در وا کرتی۔ ان کی نثر کا مداح تو میں اس وقت ہی ہو گیا تھا جب میں نے ان کی ناصر کاظمی مرحوم پر کتاب ”اجنبی مسافر، اداس شاعر“ پڑھی تھی۔ میں جب کبھی اکتاہٹ کا شکار ہوتا تو اس کتاب کا مطالعہ کرتا، دل و دماغ معطر ہو جاتے، اداسیوں کے بادل گم ہو جاتے اور زندگی پر لطف سی محسوس ہونے لگتی۔ ناصر کو کبوتر بہت پسند تھا، جس کا ذکر اس کتاب میں بھی ملتا ہے۔

اتفاق سے کبوتر مجھے بہت پسند ہے، کبھی کبوتر باز نہیں رہا، پسندیدگی کی وجہ اس کی فضاء میں قلابازی ہے جو وہ بے دھڑک لگاتا ہے۔ مجھے اس کی یہ بہادری بہت بھاتی ہے۔ ”ہم سب“ میں ان کے شائع ہونے والے مضامین نہ صرف اردو ادب کا سرمایہ ہیں بلکہ انہیں پڑھ کر کام کرنے کی امنگ پیدا ہوتی ہے اور اپنی صلاحیتوں کو درست سمت میں استعمال کرنے کا راستہ بھی ملتا ہے۔ ان تحریروں میں امید کی روشن ہوتی شمع بھی نظر آتی ہے۔ فاروق بھائی مرحوم ان دنوں میں کتنی ہی بار یاد آئے۔

گزشتہ ہفتے ملتان جانا ہوا تو ان کے بیٹے حسن فاروق کے ساتھ ان کی قبر پر بھی دعا کے لئے گیا تو اداسیاں تھیں۔ دل کو راحت سی بھی ملی کہ قبر کے عین اوپر ایک درخت سایہ کیے ہوئے ہے۔ ان سے جڑا ہر شخص ان کی محبت کو دل سے یاد کرتا ہے۔ قریبی لوگ آنسو بہا کر ان کے درجات کی بلندی کی دعا کرتے ہیں تو کچھ ضبط آنسوؤں سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

فاروق بھائی مرحوم ایک خوبصورت انسان تھے، درد دل رکھنے والے، محنت پر یقین رکھتے والے، پریشان لوگوں کے مسیحا، توکل کی جیتی جاگتی تصویر، امید کے پیامبر تھے۔

اللہ تعالیٰ ان کو اپنے پاس گلابوں، خوشبوؤں اور پھولوں میں مہکتا رکھے۔ آمین۔

Facebook Comments HS