عرب ممالک میں فیڈرز میں مشروبات کی فروخت پر تنازع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچوں کی دودھ کی بوتلوں میں مشروبات کی فروخت کا ٹرینڈ ‘آئن سٹائن کیفے’ سے شروع ہوا۔ آئن سٹائن کیفے کی شاخیں متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت سمیت کئی ممالک میں موجود ہیں۔
ویب ڈیسک — عرب ممالک میں حالیہ ہفتوں میں کئی کیفے کافی اور دیگر مشروبات بچوں کو دودھ پلانے والی بوتلوں یعنی فیڈرز میں مشروبات پیش کر رہے ہیں۔ ایک جانب جہاں اس نئے ٹرینڈ کو پذیرائی ملی وہیں کئی لوگ حیرت کا بھی شکار ہوئے اور کہیں تنقید کے باعث اس عمل کو روکنا پڑا۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق بچوں کی دودھ کی بوتلوں میں مشروبات کی فروخت کا ٹرینڈ ‘آئن سٹائن کیفے’ سے شروع ہوا۔ آئن سٹائن کیفے کی شاخیں متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت سمیت کئی ممالک میں موجود ہیں۔

آئن سٹائن کیفے کی انتظامیہ نے عمومی گتے کے کپ میں کافی اور مشروبات کی فروخت کے بجائے بچوں کو دودھ پلانے والی پلاسٹک کی بوتلوں میں شروع کی۔ تو اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے لگیں۔

واضح رہے کہ اس کیفے نے پہلی بار بچوں کی اشیا میں اپنی مصنوعات کی فروخت نہیں کی۔ بلکہ اس سے قبل بچوں کو کھلائی جانے والی غذا ‘سیری لیک’ کے ساتھ ملک شیک طویل عرصے سے فروخت ہو رہا ہے۔ اسے کیفے کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والی مصنوعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ بچوں کی بوتلوں میں مشروبات کی فروخت پر ردِ عمل کو غیر متوقع قرار دیا جا رہا ہے۔

‘اے پی’ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں آئن سٹائن کیفے کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) یونس مُلا کا کہنا تھا کہ ہر شخص اس (بچوں کی بوتل میں مشروب) کو خریدنا چاہتا ہے۔ پورا دن لوگوں کی اس کے لیے کالز آتی رہتی ہیں کہ وہ اپنے دوستوں یا والدین کے ساتھ (اسے خریدنے) آ رہے ہیں۔

یونس مُلا کا کہنا تھا کہ وبا کے دوران کئی ماہ کی مشکلات کے بعد لوگ تصاویر لے رہے ہیں اور انہیں تفریح کا ایک موقع میسر آ رہا ہے جب کہ لوگ اپنے بچپن کے دنوں کو یاد بھی کر رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک موجود آئن سٹائن کیفے کے باہر بعض اوقات لوگوں کی قطاریں بھی لگ جاتی تھیں۔ لوگ انتظار کرتے تھے کہ کب ان کا نمبر آئے گا اور وہ پلاسٹک کی بوتل میں اپنی پسند کا مشروب حاصل کرکے بچپن کی یادیں تازہ کر سکیں گے۔

سعودی عرب میں خواتین کا پہلا ریسلنگ مقابلہ

سعودی عرب میں خواتین کا پہلا ریسلنگ مقابلہ

اس ٹرینڈ کو دیکھتے ہوئے بعض دیگر کیفے بھی ایسے تھے جہاں لوگ اپنی پلاسٹک کی بوتلیں لے کر جاتے اور مطالبہ کرتے کہ ان کو ان کی پسند کا مشروب اس بوتل میں دیں۔

بچوں کی بوتلوں میں موجود رنگ برنگے مشروبات کی بوتلوں کو سوشل میڈیا پر بھی پذیرائی ملی اور ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر ان سے متعلق پوسٹس پر لاتعداد لائیکس آئے۔

بعد ازاں سوشل میڈیا پر ان بوتلوں کے استعمال پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا۔

یو اے ای میں آئن سٹائن کیفے کے سی ای او یونس مُلا کا کہنا تھا کہ لوگوں نے شدید غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے انتہائی خوف ناک تبصرے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی ثقافت میں ایک عیب ہیں۔

ایک ہفتہ قبل مختلف ریاستوں کی حکومتوں نے اس نئے ٹرینڈ کے خلاف کارروائی شروع کی۔ متحدہ عرب امارات میں دبئی میں انتظامیہ نے ان کیفے کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جہاں سے اس کا آغاز ہوا تھا۔ بعد ازاں اس کیفے کی انتظامیہ پر جرمانہ عائد کیا گیا۔

حکومت کے جاری کردہ بیان کے مطابق کسی ضابطے کے بغیر بچوں کی بوتلوں کا اس قدر بڑے پیمانے پر استعمال نہ صرف مقامی ثقافت اور روایات کے خلاف ہے۔ بلکہ ان بوتلوں کے حوالے سے بے احتیاطی پر کرونا وائرس بھی تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس بیان میں وبا کے پھیلنے کا ذکر اس لیے کیا گیا تھا کہ کئی کیفے ایسے تھے جہاں لوگ اپنی بوتلیں لا رہے تھے اور ان میں مشروبات دینے کا تقاضا کر رہے تھے جس سے انتظامیہ نے وبا پھیلنے کا اندیشہ ظاہر کیا۔

حکومت کے بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ حکام کو اس منفی فعل اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات کا علم سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے توجہ دلانے کے ذریعے ہوا۔

دوسری جانب کویت میں بھی اس عمل کو روکنے کے لیے اقدامات سامنے آئے۔ حکومت نے آئن سٹائن کیفے کو عارضی طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کیے۔

دوسری جانب بحرین میں وزارتِ تجارت نے پولیس کو کیمروں کے ساتھ کیفے میں بھیجا اور وہاں انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ وہ بچوں کی بوتلوں میں مشروبات پیش کرکے بحرین کی روایات اور رسم و رواج کے متضاد عمل کر رہے ہیں۔

اومان نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ جہاں بھی بچوں کی بوتلوں میں مشروبات پیش کرتے ہوئے دیکھیں تو صارفین کے تحفظ کی اتھارٹی کو اس کی ہاٹ لائن پر مطلع کریں۔

سعودی عرب میں بھی سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹوئٹر پر شہریوں نے اس ٹرینڈ پر شدید تنقید کی ہے اور اسے ثقافت کے خلاف قرار دیا ہے۔ جب کہ دیگر سخت تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں۔ کئی مشہور شخصیات بھی اس ٹرینڈ کے خلاف بات کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1677 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply