غیر جانبدار تنقید ‌اور شخصیت پرستی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اردو ادب کی بہت مشہور شخصیت تحقیق، تنقید سوانح اور ترجمہ کے میدانوں میں ناقابل فراموش خدمات کے لئے عالمی سطح پر اردو دنیا میں معروف پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی صاحب نوے کی دہائی میں ایک ادبی رسالہ نکالتے تھے جس میں کسی ہمعصر شاعر کے کلام پر تنقید کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس سلسلے کا عنوان تھا ”پوسٹ مارٹم“ ۔

تنقید صحیح معنوں میں اسی نقد و جرح کو کہا جاتا ہے ، جس میں تنقید نگار صاحب کلام کی شخصیت اور سابقہ تخلیقات سے خالی الذہن ہو کر نفس کلام کی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کرے۔ خیال کی جدت اور بلندی، الفاظ کی متانت، سلاست جملوں کی ساخت کی صحت و سقم پر اپنی رائے کا اظہار کرے۔ کلام کے جمالیاتی پہلو یعنی متنافر اور ثقیل، بھدے اور نامانوس الفاظ سے کلام پاک ہے یا نہیں بالفاظ دیگر کلام فصیح ہے یا نہیں مستند اہل زبان کی پیروی کی گئی ہے یا نہیں، اور معنوی حسن کہ کلام کے اصل مفہوم تک مخاطب کی رسائی بغیر دقت ہو رہی ہے یا نہیں یعنی بلاغت کے تقاضوں کو پورا کیا گیا ہے یا نہیں اس کا جائزہ لے۔

کسی کے کلام تصنیف و تالیف اور ترجمہ کا غیر جانبدارانہ تنقید مشکل ترین کام ہے۔ ریسرچ تحقیق ہو یا تنقید صاحب کلام اور مصنف و مؤلف کی شخصیت، معاشرے میں ان کا مقام اور ان سے ہماری عقیدت ہمارے ذہن و دماغ پر اس قدر حاوی ہوتے ہیں کہ بسا اوقات تنقید نگار دیانت داری سے اپنا کام انجام دینے سے عاجز ہوتا ہے۔

مغربی دنیا کے ریسرچ ورک کی ساکھ پوری دنیا میں اسی لئے مسلم ہوتی ہے کہ ان کے یہاں شخصیت پرستی اور بے جا عقیدت مندی نہیں ہے۔ تحقیق و ریسرچ کا مطلب کسی لحاظ کے بغیر کھوج بین کرنا ہے خواہ اس ضمن میں ریسرچ اسکالرز کے اپنے اساتذہ کے خلاف ہی کیوں نہ نشاندہی کرنی پڑے۔

مناظر عاشق ہرگانوی صاحب نے صاحب کلام کا نام پوشیدہ رکھ کر ”پوسٹ مارٹم“ کے ذریعے غالباً اسی شخصیت پرستی سے پاک تنقید کی نیو رکھنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن ظاہر ہے ایسی تنقید سننے اور پڑھنے کے لئے شاید ہماری سرزمین ہماری ذہنیت اور ہماری تربیت اجازت نہیں دیتی۔

ایک بار مشہور شاعر اور یونیورسٹی میں اردو کے صدر شعبہ کے کلام کا نام پوشیدہ رکھ کر پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا اس پر اردو حلقہ کی کئی شخصیات نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

ہر گوشۂ تخلیق سنور جاتا ہے
تنقید سے فن اور نکھر جاتا ہے
تنقید تو در اصل ہے فن کی مصلح
بزدل ہے وہ جو تنقید سے ڈر جاتا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply