لاہور یونیورسٹی کا واقعہ اور انتہاؤں پر رہنے والے لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


یونیورسٹی آف لاہور میں ایک طالبہ اپنے ساتھی طالب علم سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے پھول پیش کرتی ہے اور وہ لڑکا جواباً فرط جذبات میں اسے گلے سے لگا لیتا ہے۔ یہ بات دنیا کے بیشتر ممالک میں بالکل ایک عام سی بات لگتی ہے لیکن ہمارے ملک میں کوئی بھی بات کبھی بھی عام نہیں ہوتی۔

اس واقعے سے سوشل میڈیا پر ایک طوفان اٹھا اور حسب معمول پاکستانی سوشلستان کے باسی دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ ان دو حصوں کی سوچ اور نظریات میں وہی فرق نظر آیا جو شمال اور جنوب میں ہے (یہاں شمال اور جنوب سے مراد ترقی کا پیمانہ نہیں بلکہ طرفین ہے)۔ اس طوفان اٹھائے جانے کی سمجھ تو پھر بھی آتی ہے کیونکہ اب ہر ایشو پر سوشل میڈیا پر طوفان اٹھا دینا ہمارا قومی مشغلہ بن چکا ہے، لیکن اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ ہم لوگ ہر بات کو کسی نہ کسی انتہا پر ہی دیکھنے کے عادی کیوں ہیں۔

اس واقعے پر سوشلستانی اہل علم و عمل کی تمام تر باتیں پڑھنے اور سننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچنا آسان ہو جاتا ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی انتہا پسند ہو چکے ہیں۔ یہاں انتہا پسند کی وہ تعریف ہرگز نہیں جو ہم روز میڈیا میں سنتے ہیں بلکہ اس سے مراد درمیان والا راستہ چھوڑ دینا جس کا سبق نہ صرف ہمارے مذہب بلکہ ہماری تہذیب نے بھی ہمیں دیا ہے۔ اس بات کو یوں سمجھ لیجیے کہ وہ تمام طبقات جو اس عمل کو سراہ رہے ہیں اور اسے عورتوں کی آزادی اور ان کے حقوق سے تعبیر کر رہے ہیں ،یہ سوچے بغیر کہ اس طرح کے عمل سے متوسط طبقے کی لڑکیوں کی تعلیمی زندگی پر کیا کیا مضر اثرات ہو سکتے ہیں ، وہ ایک انتہا پر کھڑے ہیں۔

ایک دوسرا طبقہ ہے جو اس عمل کو بے حیائی اور مادر پدر آزادی سے تعبیر کر رہا ہے لیکن وہ یہ سوچنے سے قاصر ہیں کہ جس کو وہ حیا سمجھتے ہیں وہ اصل میں انسانیت کے لیے زہر قاتل بنا ہوا ہے۔ یہ دوسری انتہا ہے جو پہلی سے مخالف سمت میں ہے۔

ان دو نظریات کو پڑھنے اور سننے کے بعد یہ سمجھنا بہت آسان ہے کہ ہم لوگ کسی نہ کسی انتہا پر رہنا پسند کرتے ہیں۔ پھول پیش کرنے والے اور سرعام اظہار محبت کرنے والے یہاں کے قدیم اور صدیوں سے قائم کلچر کو ایک ہی جست میں اور راتوں رات ختم کرنا چاہتے ہیں جبکہ تیزاب پھینکنے والے اور اس کلچر کے ٹھیکیدار کسی کو بھی آزادی اور خود مختاری دینے سے پہلے اسے موت دینے کے درپے رہتے ہیں۔ ہم بحیثیت قوم ایک بات بھول چکے ہیں کہ دنیا کا نظام کسی بھی قسم کی انتہا پر رہنے سے نہیں چلتا۔ اس نظام کی بقا میانہ روی میں ہے۔

اس دنیا کا سب سے اہم اصول ارتقا ہے۔ دنیا میں انسانوں کے بقا کی ضمانت یہی ارتقا ہی کا نظام ہے۔ اسی کو اپناتے ہوئے انسان نے اپنے آپ کو نہ صرف معدوم ہونے سے بچایا بلکہ مسلسل ترقی کا سفر بھی جاری رکھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ان دو طبقات کو یہ نظریہ نہ صرف پڑھایا جائے بلکہ اچھی طرح سے سمجھایا بھی جائے۔ جس طبقے کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس سماج میں گھٹن کا ماحول ہے ، وہ یہ سمجھ لیں کہ یہ گھٹن زدہ ماحول ایک ہی جھٹکے میں تازہ ہوا میں نہیں بدلا جا سکتا، اس کے لیے مسلسل محنت درکار ہے اور اس طبقے کو یہ محنت روزانہ کی بنیاد پر کرنا ہو گی۔

اسی طرح دوسری انتہا پر رہنے والوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کلچر اور روایات کو جامد نہیں رکھا جا سکتا، وقت اور بدلتے حالات کے ساتھ روایات کو بدلنا بہت اہم ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تمام ایسی روایات اور کلچر جو خود کو جامد کر لیں وہ ختم ہو جاتی ہیں۔ ارتقائی عمل کو اپنا کام کرنے دیا جائے ، اسی میں بقا کا راز ہے۔ ورنہ انتہا پسندی تو ہمیں ختم کرنے کے درپے ہے ہی، وہ تو اپنا کام کر ہی رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
تحسین وٹو کی دیگر تحریریں

Leave a Reply