دور جاہلیت کے شعراء اور پاکستانی میڈیا میں کیا مشترک ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیلی آنکھوں والی اس عورت کا اصل نام سعاد تھا لیکن بسوس کے نام سے مشہور تھی۔ یہ عورت زبردست شاعرہ تھی۔ ایک دفعہ یہ اپنی بہن کے پاس بطور مہمان گئی۔ ایک پڑوسی بھی ہمراہ تھا جس کے پاس ایک اونٹنی تھی جسے سراب کہا جاتا تھا۔ جب یہ لوگ وہاں جا کر ٹھہرے تو اونٹنی کھل گئی اور چرتے ہوئے ایک چراگاہ میں جا گھسی۔ یہ چراگاہ کلیب نامی شخص کی تھی جو قبیلہ تغلب کا ایک معزز اور مغرور سردار تھا۔ عام خیال یہ تھا کہ کوئی اونٹ اس کے اونٹوں کے ساتھ نہیں چر سکتا۔

جب اس نے دیکھا کہ ایک اجنبی اونٹنی بلا اجازت اس کی چراگاہ میں چر رہی ہے تو اس نے فوراً اسے تیر مارا جو اس کے تھنوں میں لگا اور اونٹنی اس حال میں ڈکراتی ہوئی واپس آئی کہ اس کے تھنوں سے خون اور دودھ بہہ رہا تھا۔ اونٹنی کے مالک نے دیکھا تو فوراً بسوس کو اطلاع دی۔ اس پر بسوس نے کہا ہائے رسوائی! ہائے مسافرت! پھر چند شعر پڑھے۔ عرب ان اشعار کو ابیات الفناء کہتے ہیں یعنی موت کے اشعار کہ ان اشعار نے ہزاروں لوگوں کی جان لے لی۔

ان اشعار کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر میں اپنے علاقے میں ہوتی تو میرے پڑوسی کو تکلیف پہنچانے کی کسی کو جرأت نہ ہوتی۔ اب میں ایسی قوم میں ہوں جن کو پڑوسیوں کے حقوق کا کوئی خیال نہیں ہے۔ یہ اشعار قبیلے کی غیرت پر ایک تازیانے کی حیثیت رکھتے تھے لہٰذا بسوس کے بھانجے جساس بن مرۃ نے جوش میں آ کر کلیب کو قتل کر ڈالا۔ کلیب کی قوم بدلے کی طالب ہوئی تو تغلب اور بکر بن وائل میں ’حرب البسوس‘ نامی جنگ چھڑ گئی جو چالیس سال تک چلتی رہی ۔ دونوں جانب کے شعراء اپنے کلام سے جنگ کو بھڑکاتے رہے اور اس دوران ہزاروں لوگ مارے گئے۔ گھرانے اجڑ گئے ، مکانات کھنڈروں میں تبدیل ہو گئے ،علاقے ویران ہو گئے۔

عرب کا ایک قبیلہ تھا جن کے لمبے لمبے ناک تھے اور اسی وجہ سے انہیں بنوالأنف کہا جاتا تھا جس کا مطلب ہے ”ناک والے“ ۔ ہماری زبان میں کہا جائے تو۔ ”ناکو“ بنتا ہے۔ یہ کسی کو اپنا نام بتاتے ہوئے شرماتے تھے۔ یہ لوگ عربوں میں انتہائی کم درجے کے سمجھے جاتے تھے۔ ایک دفعہ ان کے قبیلے کے پاس سے مشہور شاعر عرب اعشیٰ کا گزر ہوا، قبیلے والوں نے مشورہ کیا کہ کسی طرح اسے خوش کر کے کچھ شعر کہلوا لو تاکہ ہماری بھی کچھ عزت ہونے لگے۔

اہل قبیلہ اس کے پاس آئے اور بڑی لجاجت سے درخواست کی کہ وہ ان کے پاس کچھ دن مہمان کے طور پر ٹھہر جائے۔ جب اعشیٰ قبیلہ میں پہنچا تو سارے قبیلے نے اس کے اعزاز و اکرام میں دن رات ایک کر دیا یہاں تک کہ اعشیٰ نے ایک قصیدہ کہا جس میں اس قبیلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا ”ہم الأنف و الأذناب غیرہم“ کہ یہ لوگ تو عرب کی ناک ہیں اور باقی تو ان کے مقابلے میں دم کی طرح ہیں۔ اب ناک کا لفظ عزت کی انتہا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے کہ اردو میں بھی جب بے عزتی بتانا مقصود ہو تو کہتے ہیں میری تو ناک کٹ گئی تو شاعر نے عزت والے معنی مراد لیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ تو اس قدر معزز ہیں کہ گویا عرب معاشرے کی ناک کی حیثیت رکھتے ہیں اور باقی لوگ تو دم کی مانند ہیں۔

اعشیٰ کوئی معمولی شاعر نہ تھا ، اس کا کلام جنگل کی آگ کی طرح پھیلتا تھا۔ چند ہی دنوں میں عرب کے بچے بچے کی زبان پراس قبیلے کا نام جاری ہو گیا۔ اور یہ قبیلہ جو انتہائی کمتر سمجھا جاتا تھا اب انتہائی معزز شمار ہونے لگا جو لوگ اپنا نام بتاتے ہوئے شرماتے تھے ، اب وہ فخر سے کہتے کہ ہم بنو الأنف ہیں ، جن کے بارے میں اعشی نے فلاں قصیدہ کہا تھا۔

یہ صرف دو مثالیں ہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ عربوں کے ہاں کسی قوم یا فرد کی عزت و ذلت کا معیار ہی شعراء کا کلام تھا۔ کسی قوم کے بارے میں شاعر تعریفی کلمات کہہ دیتا تو وہ قوم معزز شمار ہونے لگتی اور کسی قوم کی ہجو کر دیتا تو وہ ذلیل سمجھی جانے لگتی۔

شعراء کو اس دور میں وہی حیثیت حاصل تھی جو آج کل میڈیا کو ہے۔ عرب شعراء کی طرح ہمارے ہاں میڈیا وہی کام کر رہا ہے۔ آپ سونے کی سمگلنگ کرتے ہیں، پراپرٹی مافیا ہیں، مینوفیکچرنگ وغیرہ کا کام کرتے ہیں یا صنعت کار ہیں اور کسی بھی وقت حکومتی پکڑ کا خطرہ ہے تو بس ایک میڈیا گروپ بنا لیں اور پھر ستے ای خیراں۔

میڈیا آپ کی خامیوں کو خوبیوں اور آپ کے دشمن کی خوبیوں کو خامیوں میں اسی طرح تبدیل کر دے گا جس طرح عرب معاشرے میں شاعر کرتے تھے۔ دور کیوں جائیں صرف پچھلے چار سال کا جائزہ لے لیں۔ پچھلے دور میں کسی دوہری شہریت والے کو حکومتی عہدہ نہیں دیا جا سکتا تھا، انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دینا بھی شجر ممنوعہ تھا، مہنگائی اور ٹیکس بڑھانا کرپشن کی علامت تھی، ڈیزل پٹرول مہنگا کرنے منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا تھا، گیس بجلی کی قیمتیں بڑھانا عوام دشمنی تھی اور ہر فعل کا ذمہ دار حاکم وقت تھا لیکن یہی باتیں کرنے والا کپتان جب خود اقتدار میں آیا تو پچھلی دور کے سب ”حرام“ نہ صرف ”حلال“ بن گئے بلکہ ان کی حلالی رفتار بجلی سے بھی بڑھ گئی۔

عرب شعراء کی طرح میڈیا نے پچھلی حکومتوں کی خوبیوں کو خامیوں اور اس حکومت کی خامیوں کو خوبیوں میں اس طرح تبدیل کیا ہے کہ بات حب الوطنی اور غداری تک پہنچ گئی ہے۔ جس طرح عرب کے شعراء مختلف قبیلوں کے درمیان جاری لڑائی کو اپنے شعروں سے بھڑکاتے اور پیسہ بناتے تھے ، اسی طرح میڈیا بھی محض اپنے یا ”اپنوں“ کے مفادات کی خاطر سیاسی جماعتوں کے درمیان آگ بھڑکاتا ہے اور آنے والی ریٹنگ سے خوب پیسا بناتا ہے۔ بلکہ ایک لحاظ سے ہمارا میڈیا ان سے دو ہاتھ آگے ہے اور وہ اس طرح کہ اس نے ایک ایسی نسل تیار کر ڈالی ہے جو ہر لحظہ نہ صرف زندہ عورتوں کے دوپٹے تار تار کرنے کو تیار ہے بلکہ مردہ عورتوں کی قبریں کھودنے سے بھی نہیں ہچکچاتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply