اظہارِ محبت کیلئے یہ جگہ مناسب نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز قبل سوشل میڈیا پر یونیورسٹی آف لاہور کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک طالبہ نے ایک طالب علم کو سب کے سامنے جھک کر پھول پیش کیے اور جواب میں لڑکے نے لڑکی کو گلے لگا لیا۔

یہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں سب کے سامنے محبت کا اظہار معیوب سمجھا جاتا ہے۔ پھر یہ واقعہ چونکہ ایک یونیورسٹی میں پیش آیا، اس لیے اس پر خوب تبصرہ ہوا۔ اس واقعہ پر نہ صرف پاکستان بلکہ سرحد پار لوگوں نے بھی رائے کا اظہار کیا۔

اس واقعے کے بعد ان دونوں کو نہ صرف یونیورسٹی سے برخاست گیا بلکہ اب یہ دونوں یونیورسٹی آف لاہور کے کسی بھی کیمپس میں داخلہ نہیں لے سکتے۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کافی دلچسپ ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کئی لوگوں نے ان دونوں کو سراہا اور یونیورسٹی پر تنقید کی تو کئی لوگ اس عمل  کی پرزور مذمت کرتے نظر آئے۔ سوشل میڈیا صارفین نے مختلف آراء کا اظہار کیا۔

ماہر قانون دان ایمان زینب مزاری کی جانب سے کہا گیا کہ اس ملک میں یونیورسٹیاں کیمپس میں کیا برداشت کرتی ہیں؟ جنسی ہراسانی، مشتعل ہجوم کا تشدد، ( طلبات کو بلیک میل کرنے کے لیے) سرویلنس کیمرے۔

انہوں نے لکھا کہ اگر دو رضامندی رکھنے والے ایک دوسرے کو گلے لگائیں تو یہاں لکیر کھینچ دی جاتی ہے۔

ان کی تحریر قابل غور ہے کیونکہ ایسا ہمارے تعلیمی اداروں میں ماضی میں ہو چکا ہے۔ نمل جیسی مشہور یونیورسٹی میں پشتون طالب علم کا قتل اور باچا خان میں مشال خان کا قتل بھی ہم سہہ چکے ہیں۔ ملک میں متعدد تعلیمی اداروں میں طالبات کی اہلکاروں یا اساتذہ کے ہاتھوں جنسی ہراسانی جیسے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ انہیں شادی کی پیشکش سے مسئلہ نہیں، جس جگہ کا انتخاب کیا گیا وہ غلط ہے۔ تعلیمی ادارے ان چیزوں کے لئے نہیں بنائے جاتے۔

انہوں نے بجا فرمایا کیوں کہ تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد اخلاقی نشوونما اور سماجی ترقی ہے لہٰذا اس طرح کے واقعات تعلیمی اداروں کے معیار پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ بہرحال ہر شخص آزادی رائے کا حق رکھتا ہے اور اپنے اردگرد کے ماحول کا اپنے انداز سے مشاہدہ کرنے سے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔

جو حضرات اس واقعہ کے حق میں ہیں اور یہ کہے جا رہے ہیں کہ محبت کا اظہار کرنے پر عوام مذمت کیوں کر رہے ہیں جبکہ یونیورسٹیوں میں ہراسانی، تشدد، اور بلیک میلنگ جیسے واقعات بھی تو ہو چکے ہیں۔ جناب عرض کرتی چلوں کہ وہ تمام واقعات جن کی سرعام نشاندہی کی گئی، انہیں کسی نے بھی سراہا نہیں۔ عوام نے ان کرداروں کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی اور انہیں کیفر کردار تک پہچانے کا مطالبہ کیا گیا۔ لہٰذا اداروں کو ان کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق کام کرنے دیا جائے۔ اظہار محبت اور اس طرح کے منفی رویوں کی آزادی تعلیمی اداروں کے مقاصد پر بری طرح اثرانداز ہو سکتی ہے۔

چونکہ ہمارے ملک میں بیش تر لوگ پہلے ہی مخلوط تعلیم کے خلاف ہیں اور اولاد کو مخلوط تعلیمی اداروں میں بھیجنے سے گریز کرتے ہیں۔ پھر اس طرح کے واقعات ان کی اس سوچ کو مزید تقویت بخشتے ہیں اور مستقبل کے معماروں کو لاجواب کر دیتے ہیں۔

یہ بات ہرگز نہیں کی جا رہی کہ محبت یا پیار نہ کیا جائے اور اگر محبت ہو جائے تو اظہار نہ کیا جائے۔ صاحب! ہر کام اور ہر چیز کے لئے مناسب وقت اور مقام ہوتا ہے۔ لہٰذا کوئی بھی ایسا کام کسی ایسے مقام پر نہ کیا جائے جو معاشرے پر منفی اثرات مرتب کرے کیونکہ جو عمل سرعام کیا جائے وہ ذاتی معاملہ نہیں رہتا بلکہ معاشرے سے جڑ جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں اس طرح کے واقعات کو سراہنے والوں کو جدت پسند اور کھلی ذہنیت کا مالک سمجھا جاتا ہے اور جو لوگ اس کی مذمت کرتے ہیں انہیں تنگ نظر اور فرسودہ خیالات کا مالک کہا جاتا ہے۔

جناب! ہم ایک ایسے ملک کے باسی ہیں جہاں بزرگوں کی روایات اور اقدار کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن جیسے جیسے ہم جدت اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو رہے ہیں ، ہمارے ہاں جنسی آزادی اور مغربی روایات کی پیروی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ موجودہ دور میں تعلیمی اداروں کا ماحول ہو، شادی بیاہ کی تقاریب ہوں یا کوئی بھی موقع ہو ، مشرقی روایات پر مغربی روایات کو ترجیح دی جاتی ہے۔

مغرب کی مصروف اور بے رونق زندگی کی حقیقت جانتے ہوئے بھی ہم اسے مثالی زندگی کا درجہ دیتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ مغرب میں عورت کو کیا مقام حاصل ہے، والدین کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے، ہم مغرب کی بے رنگ اور مطلب پرست زندگی کو مثالی زندگی سمجھتے ہیں۔

مغربی اقدار کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میرے نزدیک زیر بحث واقعہ کو سراہنے والے مشرقی روایات سے بیزار اور مغربی روایات کے حامی معلوم ہوتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ یہ سوچ غلط ہو کیونکہ کوئی بھی دو لوگ ایک جیسی سوچ نہیں رکھتے۔

جو بات قابل توجہ ہے وہ یہ کہ کہیں ہم ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو سراہنے اور اپنے اجداد کی سوچ سے نکلنے کی دھن میں تباہی کے اس دہانے پر نہ پہنچ جائیں جہاں ماں باپ کا کوئی احترام نہیں، جہاں رشتوں کا کوئی تقدس نہیں، جہاں عورت کی کوئی عزت نہیں اور جہاں بچے کی کوئی پہچان نہیں۔ جب بھی انسان ایک نئے معاشرے کے عقائد کو اپناتا ہے تو دونوں معاشرے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اس کی مناسبت سے شاعر مشرق علامہ اقبال کا ایک شعر عرض کرتی ہوں۔

یہی درس دیتا ہے ہمیں ہر شام کا سورج
مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤ گے

(بصد احترام عرض ہے کہ یہ بے وزن اور غیرمعیاری شعر علامہ اقبال کا نہیں ہے۔ کسی ملائے مکتب کی تصنیف کثیف ہے۔ مدیر)

لہٰذا گزارش ہے کہ اپنا قبلہ درست کیجیے۔ ایسے ماحول کو مت تقویت دیں جو ہماری پہچان کو فراموش کر دینے کا سبب ہو۔ محبت کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ محبت کیجیے مگر اظہار محبت کے لئے کسی اور جگہ کا انتخاب کیجیے۔

جہاں تک بات ہے یونیورسٹیوں میں ہونے والی جنسی ہراسانی، شدت پسندی اور اس طرح کے دیگر منفی رویوں کی تو اگر پہلے ہی واقعہ پر کڑی سزا مل جاتی تو یہ واقعات روز کا معمول نہ بنتے۔ والدین بچوں کو یونیورسٹیز میں بھیجنے سے خوفزدہ نہ ہوتے اور کئی طالب علم جن کے خواب اداروں کا ماحول صحیح نہ ہونے پر ادھورے رہ گئے ، پورے ہو جاتے۔ لہٰذا ابھی بھی وقت ہے ان منفی رویوں پر سخت ردعمل اور کڑی سزائیں نافذ کر کے انہیں کم کیا جا سکتا ہے۔ تعلیمی اداروں کو ایسا مقام ہونا چاہیے جہاں تعلیم و تربیت کو فروغ ملے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply