دراڑیں: سمیش کی دھمکی صرف مریم کو نہیں ملی تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل ایک برا دن تھا۔ میاں صاحب اور مولانا کو باور کرایا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اچانک اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کر کے ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے اور یوں پی ڈی ایم وقتی طور پر کولیپس کر گئی لیکن کیا واقعی یہ اچانک ہی ہوا ہے؟ کیا 2009 میں بھی ایسا ہی نہیں ہوا تھا۔ کیا پی ڈی ایم کی تشکیل کے وقت ہی یہ واضح نہیں تھا کہ زرداری صاحب کبھی بھی کانفلکٹ یعنی کہ تنازعہ کو انتہاؤں تک نہیں لے کے جائیں گے۔ سوشل کانفلکٹ تھیوری یعنی کہ سماجی تنازعہ کا نظریہ مارکسسٹ کے دلائل پر مبنی معاشرتی نظریہ ہے جس میں یہ استدلال کیا گیا ہے کہ معاشرے کے اندر فرد اور گروہ (معاشرتی طبقات) اتفاق رائے کے بجائے تنازعہ کی بنیاد پر بات چیت کرتے ہیں، جمہوریت کی بنیاد ہی بات چیت اور اکثریت کی رائے کی حکمرانی کے ساتھ اقلیت کے فیصلوں کا احترام ہے۔

اسی بات کو ڈور کن (Dworkin) قانون میں تھیوری آف ڈس ایگریمینٹ کے نام سے متعارف کراتا ہے جو کہ ہمیں کئی قانونی فیصلوں میں بھی نظر آتی ہے۔ میں نے اکتوبر میں پی ڈی ایم کی نو جماعتوں کے ملاپ کو بھی اسی تناظر میں اینالائز کیا تو پہلا تنازعہ ہی استعفوں پر نظر آیا جس پر زرداری صاحب کے لئے خواجہ آصف کی رائے پر خود میاں نواز شریف صاحب ہی نے بڑی لے دے کی تھی۔ میاں شہباز کا بھی استعفے نہ دینے کے حوالے سے ایک واضح موقف رہا ہے تو پھر کل سے توپوں کا رخ پیپلز پارٹی پر کیوں؟ میاں صاحب پنجاب کی طرف سے پہلی بار سول سپریمیسی کی جنگ لڑ رہے تھے اور زرداری صاحب سسٹم میں رہتے ہوئے اداروں سے ٹکراؤ کے خلاف تھے تو کانفلکٹ تو شروع ہی سے موجود تھا کہ ایگزیکیوشن کا طریقہ کار کیا ہوگا۔

ان ہی دنوں میں نیٹ فلیکس پر کوئینز گیمبٹ بہت مشہور ہوئی تھی تو میرا پی پی پی اور پی ایم ایل این کے دوستوں سے بار بار یہی سوال ہوتا تھا کہ آپ نے اوپننگ تو شاندار کردی لیکن آپ کی اینڈ گیم کیا ہوگی؟ میرا ایک اور سوال یہ بھی ہوتا تھا کہ آپ کا مین ٹارگٹ کیا ہے؟ عمران کا استعفیٰ، آپ کے استعفے، ”ان کے استعفے“ یا اسی ایوان میں تبدیلی، جس کا دسمبر 2019 میں ”وہاں“ سے اشارہ بھی دیا گیا تھا۔ میں یہ بھی پوچھتی تھی کہ آپ سمیت آج تک کسی نے قادری اور عمران کے دھرنوں کے باوجود استعفے نہیں دیے تو عمران کیسے دے گا جب ”باپ“ کی بھی حمایت حاصل ہے تو مجھے ان کے جوابات میں ہم آہنگی نظر نہیں آتی تھی، کل بھی پیپلز پارٹی کی جانب سے جب دو ہفتوں کا وقت لیا گیا تو اتنی مایوسی کا مظاہرہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

مایوسی کفر ہے اور ”ووٹ کو عزت دو“ کی جو جنگ میاں صاحب لڑ رہے ہیں، اس میں تو اس طرح کی مایوسی گناہ ہے کیونکہ جب یہ واضح تھا کہ اپنے ایک مشہور زمانہ بیان کے بعد زرداری صاحب شطرنج کی چالیں تو کھیلنا پسند کرتے ہیں لیکن شطرنج بورڈ کو لات مار کے سسٹم سے باہر نہیں جائیں گے تو ضمنی اور سینیٹ الیکشنز میں اتنی بھرپور شرکت کے باوجود نظر کیوں نہیں آیا کہ وہ سسٹم سے باہر نہیں جائیں گے، اور پلان بی، سی، یا ڈی کے بجائے صرف استعفوں کا آپشن ہی کیوں زیر غور لایا گیا جب 1985 اور 2002 کے تجربے بھی سامنے تھے کہ بائیکاٹ کی وجہ سے سیاسی خلا کو کیسے فی الفور دس ہزار ووٹ والے پارلیمینٹیرین سے بھر دیا جاتا ہے۔

دوسری طرف جلسوں میں یہ جواب بھی نہیں ملا کہ اگر استعفے دے بھی دیے گئے تو متبادل نظام کیا ہوگا؟ کیا بجٹ سے صرف دو تین مہینے پہلے دوسرے جنرل الیکشنز ہونا ممکن ہے؟ کیونکہ مسلم لیگ کو نکال کے جس ہائبرڈ نظام کو لانے کے لئے اتنے جتن کیے گئے تو کیا وہ نظام اتنا کمزور ہے کہ اپوزیشن کے استعفوں سے گر جائے؟ جلسوں ہی میں ہمیں یہ جواب بھی نہیں ملا کہ کہ جس بنیادی کردار کی ماورائے آئین سیاسی مداخلت کی آپ بات کرتے ہیں، اسے ایکسٹینشن دینے کی پس پردہ کہانی پبلک کو کیوں نہیں سناتے۔

کیونکہ جب اصل لڑائی کا محور کہیں اور، اور توپوں کا رخ عمران پر رہا تو نہ صرف چالیں بلکہ طاقت بھی تقسیم ہو گئی۔ عمران تو اس کھیل میں صرف ایک ایسا مہرہ ہے جس کو گرا کے کنگ کو چیک میٹ کرنا تھا، لیکن چیک میٹ کرنے کے بعد کا کیا لائحہ عمل کیا ہونا تھا؟ کیا انہی کے ساتھ کام کرنا تھا جن کی مداخلت نے آپ کو نکالا؟ دوسری طرف ”وہ“ بھی سب ہی سے بات کر رہے تھے، جس پر ہم نے تنقید بھی کہ کہ آپ اچانک خاموش کیوں ہو جاتے ہیں لہٰذا اگر اس وقت جلسوں میں استعفوں اور ان سے متعلق جتنی بھی تقریریں تھیں وہ صرف پریشر بلڈ اپ کرنے کے لئے تھیں تو آگے کیا ہونا تھا؟

اور یوں پی ڈی ایم کا کک آف ہی ایک ایسے تنازعے پر ہوا جس میں اکثریت کی جمہوری رائے نہیں بلکہ زرداری صاحب کی ویٹو پاور کو ایک مرکزی کردار حاصل تھا جس نے میاں صاحب کے لئے ایک پیراڈاکس پیدا کر لیا ہے کہ اس جنگ کا اینڈ گیم کیسے ہو۔ حالانکہ میں نے ایک کالم میں لکھا تھا کہ وار کرافٹ میں ایک حربہ ”نیم اینڈ شیم“ کا بھی ہے جس میں آپ جتنا شور مچاتے ہیں، آپ کی اتنی ہی بات سنی جاتی ہے۔ لہٰذا نیم اور شیم کر کے جتنا شور مچائیں گے، دنیا میں آپ کی بات سنی جائے گی اور وہ پریشر میں آئیں گے۔

بات سنی گئی، ”وہ“ پریشر میں آئے، اور گیلانی صاحب کی جانب سے ”ان“ کے نیوٹرل ہونے کا دعویٰ بھی کیا لیکن ان کا ایک قدم پیچھے ہٹنا نیوٹرل ہونا نہیں تھا۔ یوں یہ ہائبرڈ نظام اتنی آسانی سے جاتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا تھا اور ان کی خاموشی غیر جانب داری ہرگز نہیں تھی، وہ بس دیکھ رہے تھے کہ یہ شور کتنا پر اثر ہے اور نیمنگ اینڈ شیمنگ کہاں تک جاتی ہے۔ لیکن میاں صاحب نیمنگ تو پوری کرتے، لیکن شیمنگ نہیں کہ ان کے ساتھ اصل میں ہوا کیا۔

انہی دنوں میں نے ایک اور کالم لکھا کہ میاں صاحب آپ بتا ہی دیں کہ آپ کے ساتھ نیب کسٹڈی میں کیا ہوا تھا کیونکہ پورا انٹرنیشنل پریس اس بات کو اچھالتا کہ تین بار کے منتخب وزیر اعظم کو کس طرح خاموشی سے قتل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن میاں صاحب جلسوں میں صرف نام لے کے چپ ہو جاتے جس پر الٹا یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ وہ ریاست کے خلاف ہیں۔ وار کرافٹ کا ایک اور اصول یہ بھی ہے کہ آپ کا تذبذب ہی آپ کی شکست کا باعث بنتا ہے۔

یا آپ بھرپور اٹیک کریں یا مار کھانے کے لئے تیار رہیں۔ دوسری طرف سوائے خواجہ آصف کے لیگی بھائی اس وقت بلاول کی پرجوش سیاست کے زیر اثر تھے لیکن میرا اپنے لیگی بھائیوں سے سوال میں خواجہ صاحب والا ہی موقف تھا کہ آپ 2009 کو بھول رہے ہیں کہ تب کیا ہوا تھا۔ زرداری صاحب کے بقول قرآن تب بھی نہیں اٹھائے گئے تھے اور قسمیں اب بھی نہیں دی گئی تھیں تو صوبائی حکومت میں بھی مار کھاتی ہوئی پیپلز پارٹی اپنی حکومت چھوڑ کے مزید مار کیوں کھائے؟

زرداری صاحب نے 29 دسمبر کو بھی میاں صاحب کی واپسی کی بات کی جس کو خود مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی والوں نے چھپایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ ان کا یہ استدلال اتنا شدید تھا کہ مجھے اپنا ٹویٹ ”خواجہ صاحب ٹھیک کہتے تھے“ ڈیلیٹ کرنا پڑا۔ لیکن یہ بات واضح تھی کہ زرداری صاحب اس بار اکیلے جیل نہیں جانا چاہ رہے تھے۔

بہرحال جلسے ہو رہے تھے اور خوب ہو رہے تھے کیونکہ ”وہ“ دیکھ رہے تھے کہ اپوزیشن کہاں تک جاتی ہے۔ پی ایم ایل این کے لیڈران کھل کے بات کرتے تھے لیکن اس سوال پر چپ ہو جاتے تھے کہ استعفے دے بھی دیے جائیں تو ہائبرڈ نظام کے تجربے کو کیسے توڑیں گے؟

میں اس کنفیوژن کی پولیٹیکل سائنس کے حوالے سے وضاحت کروں گی کہ تنازعات کے نظریہ نگار تنازعہ کو تبدیلی کے انجن کے طور پر دیکھتے ہیں، چونکہ تنازعات تضاد پیدا کرتے ہیں جو کبھی کبھی حل ہو جاتے ہیں اور کبھی ایک بدترین ڈیڈ لاک پیدا کر دیتے ہیں جو کہ ہم نے کل دیکھا، یہ ڈیڈ لاک جاری جدلیات میں نئے تنازعات اور تضادات پیدا کرتے ہیں۔ جو کہ کبھی کبھار ایک پیراڈاکس پیدا کر دیتے ہیں کہ آپ ایک ڈیڈ لاک میں پھنس جاتے ہیں کہ بازی کا اختتام کیسے کریں۔

تاریخی مادیت کی کلاسیکی مثال میں کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز نے استدلال کیا کہ تمام انسانی تاریخ خصوصاً سیاسیات طبقوں کے مابین اختیارات کے تنازعات کا نتیجہ ہے، جو معاشرے کی اپنی مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے ذرائع میں تبدیلیوں کے مطابق وقت کے ساتھ تیار ہوئی، یعنی سوشل کانٹریکٹ کے طریق کار میں تبدیلی۔ یہاں تبدیلی ہی کے طریق کار پر اتفاق نہیں تھا کہ ان کو ہٹانا ہے، استعفے دینے ہیں یا عمران کا استعفیٰ لینا ہے تو فتح کیسے حاصل ہوتی لہٰذا اس وقت بہترین پالیسی پریشر بلڈ اپ کرنا تھا جو کہ ہوا۔

گو کہ میرے خیال میں استعفے دینے کا بہترین وقت اکتوبر تھا تاکہ اس کے بعد پبلک پریشر اتنا بڑھایا جاتا کہ ”وہ“ مجبور ہو جاتے لیکن ایسا نہیں ہوا، یہ جنگ پنجاب سے لڑی جانی تھی اور پنجابی سڑکوں پر نکلنے کے لئے تیار بھی تھے۔ زرداری صاحب اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے رہے کہ یہ جنگ پارلیمنٹ کے اندر سے لڑی جائے گی جس کا نتیجہ پی ٹی آئی کی ضمنی الیکشنز میں عبرت ناک شکستوں کی صورت میں نظر آیا اور پھر سینیٹ الیکشنز میں گیلانی صاحب بھی ایوان میں آ گئے تو کیا وجہ تھی کہ زرداری فارمولہ پر عمل نہیں کیا گیا؟

یا آپ شروع ہی میں استعفے دے دیتے یا پارلیمان کا راستہ چنتے، یہ کنفیوژن ہی کمزوری تھا۔ لیکن پی ڈی ایم کو یقین تھا کہ گیلانی صاحب چیئرمین سینیٹ بن جائیں گے تو کارڈز بدل جائیں گے۔ میں نے سوشل میڈیا پر مودبانہ طور پر عرض کر دیا تھا کہ سی پیک کے منصوبوں اور افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر یہ ممکن نہیں کہ گیلانی صاحب اکثریت کے باوجود سینیٹ چیئرمین بنیں اور یہی ہوا۔ سینیٹ میں جس طرح جھرلو پھیرا گیا، اس پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حیدری صاحب کو بطور ڈپٹی چیئرمین لا کے آدھی روٹی ہی پاس رکھی جاتی لیکن نہ صرف حیدری صاحب کی شکست نے مولانا کے لئے پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل این کے دوغلے پن کو ظاہر کیا بلکہ بلاول کی طلال چوہدری پر حیران کن تلخی اور اب عدم اعتماد لانے یا کورٹ میں جنگ لڑنے کے بجائے پیپلز پارٹی کے گیلانی صاحب کو سینیٹ کا اپوزیشن لیڈر بنانے پر اصرار نے ظاہر کر دیا کہ گیم ہاتھ سے نکل گئی ہے۔

گیم ہاتھ سے کیوں نکلی؟

مجھے کل یہاں لندن میں ایک ذریعے نے بتایا کہ سمیش کی دھمکی صرف مریم نواز کو نہیں ملی، زرداری صاحب کو بھی کچھ ایسا کہا گیا ہے کہ انہوں نے میاں صاحب کو صاف کہہ دیا کہ آپ واپس آئیں کیونکہ اگر ”مار“ کھانی ہے تو مل کے کھائیں گے، حالانکہ دیکھا جائے تو پچھلے تین سال سے مار تو سبھی کھا رہے ہیں بلکہ میاں صاحب کی تو پوری پارٹی جیل میں ہے تو ایسا کیا ہے کہ زرداری صاحب چاہتے ہیں کہ میاں صاحب واپس آئیں اور کیوں ایک دم تلخیاں اتنی بڑھ گئیں؟

مجھے اسی ذریعے نے کہا کہ دو دن پہلے کراچی میں رینجرز پر حملہ صرف ایک ٹریلر تھا اور اصل بات انتہائی خوفناک ہے جس کی وجہ سے کچھ با اثر صحافیوں کو واٹس ایپ کالز پر اجلاس کے اندرونی معاملات سے نہ صرف با خبر رکھا گیا بلکہ باقاعدہ ریکارڈنگز ”ان“ تک پہنچائی گئیں کہ پی ڈی ایم ”اسٹیٹ“ کے خلاف نہیں۔ لیکن اسٹیٹ کیا ہے؟ میں صرف یہی گزارش کروں گی کہ اسٹیٹ اور ڈیپ اسٹیٹ کا فرق جان کے رہیں۔ اور عوام کو سول سپریمیسی کے سبق پڑھانے سے پہلے خود بھی یہ دیکھیں کہ آپ ماورائے آئین کس کی بالادستی تسلیم کر کے ایک نیا سوشل آرڈر پیدا کر رہے ہیں۔ اور کیوں ایک لیویاتھائن پیدا کر رہے ہیں، جب آپ کہتے ہیں کہ آئین کی پاسداری کی جائے تو آپ کو آئین کے تحت ریاست کے کردار کو بھی سمجھنا ہوگا جس کے تین ستون انتظامیہ، مقننہ، اور عدلیہ ہیں، وہ نہیں۔ ان کا تو آئین میں کہیں کوئی کردار ہی نہیں تو پھر آپ کیوں انہیں بالادست بنا کے پارلیمنٹ کو کمزور بنا رہے ہیں۔ کیونکہ بات پھر وہیں آجاتی ہے کہ اب کیا ہوگا اور اینڈ گیم کیا ہوگی؟ وہ تو نہیں جائیں گے، وہ جسے لائیں ہیں اسے بھی نہیں جانے دیں گے تو آگے کیا ہوگا؟

دوسری طرف پیپلز پارٹی کے جو لوگ میاں صاحب کی واپسی کے دلائل دے رہے ہیں ان کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ غیر ریاستی عناصر کا مین ایجنڈا اب میاں صاحب اور مریم کو آؤٹ کرنا ہی ہے کیونکہ باقی نون لیگ تو مزاحمت ہی نہیں کر رہی۔ میں مستقل یہ لکھے جا رہی ہوں کہ اس نظام میں سب سے زیادہ خطرہ مریم نواز اور بلاول کو لاحق ہے، اور اسی لئے زرداری صاحب چاہتے ہیں کہ یہ اینڈ گیم پنجاب سے لڑی جائے جس کی قیادت میاں صاحب کریں لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ سندھ کے ڈومیسائل کی ایسی کیا کمزوری ہے جو پنجاب کے ڈومیسائل میں نہیں۔

اس بازی کا اینڈ گیم پنجاب ہی سے ہونا ہے، لیکن قیادت تو میاں صاحب لندن سے بھی کر سکتے ہیں تو ان دراڑوں کی وجہ کیا ہے جو آج پڑی ہیں؟ کیا یہ سب کچھ بند کمروں کے اندر نہیں ہو سکتا تھا؟ اپنی ڈرٹی لانڈری پریس اور ڈیپ اسٹیٹ کو دکھا کے پی ڈی ایم نے خود ایک پولیٹیکل کانفلکٹ پیدا کر کے بقایا ڈھائی سال کے لئے نا اہل عمران کو این آر او دے دیا ہے۔ جس کی ریزننگ آنے والے مہینے ڈی کوڈ کریں گے کہ ایسا کیوں ہوا؟ اور بلاول کی زندگی کے حوالے سے ایسی کون سی دھمکیاں ہیں جن کا میاں صاحب زرداری صاحب سے پوچھ نہیں سکے۔ یا ایسی کون سی ایسی گارنٹیز ہیں جو زرداری صاحب نے اسٹیبلشمنٹ کو دے کے پیپلز پارٹی کو پھر دوبارہ 2009 کے پیراڈاکس میں داخل کر دیا ہے جہاں کیانی کو وہ مداخلت کرنا پڑی تھی جو اب نہیں ہو سکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمع جونیجو

شمع جونیجو علم سیاسیات میں دلچسپی رکھنے والی ماہر قانون ہیں۔ یونیورسٹی آف لندن سے ایل ایل بی (آنرز) کے علاوہ بین الاقوامی تعلقات میں میں ایم اے کیا۔ ایس او اے ایس سے انٹر نیشنل سیکورٹی اسٹڈیز اور ڈپلومیسی میں ایم اے کیا۔ آج کل پاکستان مین سول ملٹری تعلاقات کے موضوع پر برطانیہ میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ تعلیم کے لئے بیرون ملک جانے سے پہلے شمع جونیجو ٹیلی ویژن اور صحافت میں اپنی پہچان پیدا کر چکی تھیں۔

shama-junejo has 13 posts and counting.See all posts by shama-junejo

Leave a Reply