زرداری ،مریم اور مولانا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سولہ مارچ کی سہ پہر پی ڈی ایم کا اجلاس ہوا۔اجلاس ختم ہوا تو پی ڈی ایم کے رہنما مولانا فضل الرحمن کی ہمرکابی میں پریس کانفرنس کرنے آئے۔پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن نے مختصراًگفتگو کے ذریعے یہ بتایا کہ پیپلزپارٹی پارلیمان سے استعفوں پر باقی نوجماعتوں سے اتفاق نہیں کرتی،نو جماعتیں استعفوں کے حق میں ہیں اور پیپلزپارٹی نے فیصلے کے لیے وقت مانگا ہے،لہٰذا تب تک لانگ مارچ ملتوی کیا جاتا ہے۔

یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ سولہ مارچ کے اجلاس کو پی ڈی ایم کا آخری اجلاس تصور کیا جائے؟

پریس کانفرنس کرنے والے پی ڈی ایم رہنمائوں کے اُترے اور غصے سے بھرے چہروں سے تو یہی عیاں ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم کا اتحاد برقرارنہیں رہا۔یہاں ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ پی ڈی ایم اتحاد نے متعین کردہ اہداف میں کس حد تک کامیابی سمیٹی؟فی الفور ہم اُترے اور غصے سے بھرے چہروں کی طرف پلٹتے ہیں۔

اگر پی ڈی ایم میں شامل نوجماعتیں استعفوں کے معاملے پر ایک طرف ہیں اور پیپلزپارٹی ایک طرف تو نو جماعتوں کے رہنمائوں کو غصہ اور ناراضی کا اظہار کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ پیپلزپارٹی ملک کی بڑی سیاسی جماعت ہے،وہ اپنا ایک مؤقف رکھتی ہے ،اگر وہ سمجھتی ہے کہ استعفے دینے سے عمران حکومت مضبوط ہوجائے گی، تو اس مؤقف کو آسانی سے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ اتحاد میں شامل جماعتوں کو چاہیے کہ پی پی پی کے اس مؤقف کے مقابلے میں مضبوط دلیل اور مؤقف لے آئیں۔

باالفرض پی پی پی کا مؤقف درست نہیں تو چہروں پر غصے کا میک اَپ پھر بھی مناسب نہیں۔سیاسی اتحاد میں شامل جماعتیں اپنے کسی اندرونی مسئلے کو سلجھانے کی اہلیت سے محروم ہونے کا ثبوت دیتی ہیں تو اِن سے کسی بڑے سیاسی بحران سے نمٹنے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ پی ڈی ایم اتحاد میں شامل نو جماعتیں ایک طرف ہیں اور پی پی پی ایک طرف۔جب ستمبر دوہزار بیس میں یہ اتحاد قائم ہوا تھا تو اُس وقت بھی یہی کہاجارہاتھا کہ پی پی پی کا مؤقف دیگر سیاسی جماعتوں سے مطابقت کا حامل نہیں۔

حیرت ہے کہ مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز روزِاوّل سے پی پی پی کے مؤقف کو بھانپنے سے قاصر کیوں رہے؟ اگر دونوں لیڈر یہ بھانپ چکے تھے تو پھر چہروں سے جھلکتا غصہ کیوں تھا ؟مریم نواز کے چہرے پر چھایا غصہ اور مزاج میں ناراضی کی تو سمجھ آتی ہے ،کہ آصف علی زرداری کی جانب سے میاں نوا زشریف کو وطن واپس آنے کا کہا گیا۔آصف علی زرداری کا یہ مطالبہ مریم نواز کو ناگوار گزرا۔مریم نواز نے یہاں باپ کے حوالے سے بیٹی کے طورپر ردِعمل دیا ، سیاسی رہنما کے طورپر نہیں۔

مریم نواز کی جانب سے حکومت کی پالیسیوں پر بھی جذباتی ردِعمل سامنے آتا ہے ،جو اِن کو ایک بڑے سیاسی لیڈر کی جگہ نہیں لینے دیتا۔مریم نواز کو جذبات سے ہٹ کر لمبی اننگز کھیلنے کی سوچ اپنانا ہوگی۔خدا مریم کی حفاظت فرمائے ،اِن کے پاس سیاسی عمل کا حصہ رہنے کے لیے ایک مُدت پڑی ہے۔مریم نواز کو اس احساس کو جھٹک دینا ہوگا کہ فوری اور کسی بھی بنیادوں پر عمران حکومت کو ختم کردینا چاہیے،نیز یہ کہ وسیع ترسیاسی مقاصد کا حصول باآسانی نہیں ہوتا۔

مریم نواز جیسی سوچ مولانا فضل الرحمن کی بھی ہے۔مولانا فضل الرحمن کا غصہ یہ کہانی سناتا ہے کہ وہ آر یا پار کے قائل ہیں ،حالانکہ سیاست آر پار کا نام نہیں ، یہ مسلسل عمل کا نام ہے، مسلسل عمل ہی سے پائیدار مقاصد کا حصول ممکن بنایا جاسکتا ہے۔اگر ایک لمحے کے لیے یہ طے کرلیتے ہیں کہ پی پی پی استعفوں کے معاملے پر باقی جماعتوں کی ہم نوا بن جاتی ہے اور استعفے دے کر لانگ مارچ میں شامل ہوجاتی ہے تو اس سے پی ڈی ایم کو کیا حاصل ہوجائے گا؟

اگر پی ٹی آئی حکومت ختم ہوجاتی ہے اور نئے انتخابات کا اعلان کردیا جاتا ہے تو کیا سیاسی جماعتیں اور ملکی ادارے اس وقت ،نئے انتخابات کے انعقاد کا بوجھ اُٹھانے کی سکت رکھتے ہیں؟

مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن تصادم کی طرف جانا چاہتے ہیں یا پھر مریم نواز اپنے باپ کے بغیر جیل جانا چاہتی ہیں۔جبکہ آصف علی زرداری جیل سے باہر ہی نہیں آنا چاہتے،آصف علی زرداری کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ اب مُدت ہوئی ،وہ جیل سے باہر آچکے ہیں ،وہ صدرِ پاکستان بھی رہ چکے ہیں اور اب وہ عمر کے اُس حصے میں جہاں اُن کی صحت اجازت نہیں دیتی کہ وہ جیل چلے جائیں۔ سیاست کا بہترین میدان یا تو پارلیمان ہے یا پھر انتخابی حلقے ہیں۔

تاہم پیپلزپارٹی پارلیمان میں سیاست کاادراک تو رکھتی ہے ،مگر حلقوں کو میدانِ سیاست سمجھنے سے پہلو تہی کر رہی ہے۔ جہاں تک پی ایم ایل این کی رہنما مریم نواز کا معاملہ ہے تو یہ پارلیمان کے ساتھ ساتھ حلقوں کو میدانِ سیاست بھی نہیں سمجھ پارہی ۔حالانکہ دوہزار اَٹھارہ کے انتخابات کے بعد پی ایم ایل این کا ووٹ بینک بڑھتا محسوس ہورہا ہے۔سیاسی جماعتوں کو سمجھنا ہوگاکہ سیاست کرنے کے صرف دوہی میدان ہیں ،پارلیمنٹ اور انتخابی حلقے۔ اس کے علاوہ جتنے حربے آزمائے جائیں گے اُس میں سوائے رسوائی اور عوام کی ناراضی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

لانگ مارچ، استعفے، دھرنے ،ریلیاں،چیخ و پکار نما تقریریں،اِن طرزِ سیاست سے ہٹ کر نئے سیاسی انداز اپنانا ہوں گے۔لیکن ہماری سیاسی جماعتوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اِن پرانے طریقوں کو بروئے کار لانے میں اپنی توانائیاں صَرف کررہی ہیں۔ جس کی وجہ سے سیاسی و جمہوری کلچر تقویت نہیں پارہا اور سیاسی جماعتیں وفاق کی علامت بننے سے بھی محروم ہیں۔مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز اور اِن کی پارٹیوں کے لیے ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنی مُدت پوری کرے۔ پی ٹی آئی کی حکومت اگر اپنی مُدت پوری کرجاتی ہے تو اگلے الیکشن میں سب سے زیادہ آسانیاں پی ایم ایل این کے لیے پیداہوں گی۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply