پاکستان نیوی میں گزارے سنہرے دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا تعلق ایک عام مڈل کلاس طبقے سے ہے۔ میرے والد صاحب پاکستان کی افواج کی میڈیکل کور میں صوبیدار تھے۔ والد صاحب کی تعلیم لا گریجویٹ تھی۔ ہمارا تعلق پنجاب کے جاٹ قبیلہ کی شاخ وڑائچ سے ہے۔ ہمارا آبائی خطہ ضلع گجرات سے مشرق کی طرف تقریباً تیرہ کلو میٹر کے فاصلے پر آباد قصبہ جلالپور جٹاں ہے۔ جلالپور جٹاں کا بھی مرکز چاندنی چوک جو کہ جلالپور جٹاں میں داخل ہوتے پہلا اسٹاپ ہے۔

جلالپور جٹاں ایک ترقی یافتہ خطہ ہے۔ جلالپور جٹاں کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ یہاں پر بڑے بڑے نام ہو گزرے جن کے نام تاریخ کے صفحات پر انمٹ رہیں گے۔ جلالپور جٹاں کی شہرت کو چار چاند لگاتے رہیں گے۔ جلالپور جٹاں کی ایک وجہ شہرت پارچہ بافی کی ترقی یافتہ صنعت بھی ہے۔ جو حکومتوں کی لا پرواہی سے شدت سے زوال پذیر ہے بلکہ زوال کی آخری حدود بھی پار چکی ہے۔ جلالپور جٹاں کے بارے تاریخ میں میں کئی حوالہ جات موجود ہیں۔ جہاں یہ قصبہ پارچہ بافی، اور بادشاہوں کے حوالے کے ساتھ مشہور ہے وہیں یہ قصبہ فن پہلوانی کے ساتھ بھی مشہور ہے۔

رستم ہند کالیہ پہلوان کا آبائی خطہ ہے۔ وہیں پر راقم کے آبا و اجداد کا تعلق کاشتکاری کے ساتھ ساتھ وجہ شہرت فن پہلوانی ہے۔ میرے دادا جھنڈا پہلوان اور ان کے بھائی نواب بخش پہلوان بھی جلالپور جٹاں کے روشن ستارے ہیں۔ جن کے نام سے آج کے لوگ بھی واقف ہیں۔ تقسیم ہند کے فوراً بعد میرے دادا لاہور منتقل ہو گئے۔

والد صاحب نے مڈل پاس کرنے کے بعد افواج پاکستان کو روزگار کا ذریعہ بنایا اور پہلوانی کے فن کو باکسنگ میں تبدیل کر دیا اور باکسنگ میں اپنا اور فوج کا نام روشن کیا۔ والد صاحب نے جیسے جیسے عمر اور عہدہ بڑھتا گیا باکسنگ کو چھوڑ کر بیس بال اور والی بال کھیلنا شروع کر دیا۔ والی بال مجھے بھی بہت پسند ہے میں بھی والد صاحب کے ساتھ گراؤنڈ میں چلا جاتا اور والی بال کھیلتا تھا۔ والی بال کے مختلف مقابلے منعقد ہوتے تھے جن کو شوق کے ساتھ دیکھتا اور اپنی ٹیم کو سپورٹ بھی کرتا تھا۔ سکول میں ہاکی کھیلتا تھا۔ اپنے سکول کی ہاکی ٹیم کا ممبر بھی تھا۔ میری ممبر شپ کے ساتھ ہماری ٹیم نے سولہ سال کے بعد انٹر سکول ہاکی ٹورنامنٹ جیتا تھا۔

فوج کی خاکی وردی کو دیکھ دیکھ اپنی آنکھیں کھولیں اور ہوش سنبھالا تو یہ وردی جنون بن چکی تھی۔ میٹرک پاس کرتے ہی والد صاحب سے فرمائش کر دی کہ فوج میں کیڈٹ جانا ہے۔ والد صاحب مجھے لے کر سلیکشن سینٹر گئے۔ جہاں پر میری عمر کا حساب لگایا گیا تو عمر پندرہ دن زائد نکلی اور انکار ہو گیا۔ دل ٹوٹ گیا۔ بہت دن اداس رہا کہ کیا کروں۔

والد صاحب نے ٹی ٹی سی گلبرگ میں مکینیکل ڈرافٹسمین داخل کروا دیا۔ لیکن میرا دل کہیں اور لگا ہوا تھا۔ اچانک پاکستان ملٹری اکیڈمی کا اشتہار کیڈٹ کی بھرتی کے لئے دیکھا۔ اس میں ایک حاضر سروس نیوی، ائرفورس اور فوج کے جوانوں کے لئے عمر کی حد اٹھائیس سال لکھی تھی۔ اس اشتہار کو لے کر سلیکشن سینٹر پہنچا اور اس کے بارے دریافت کیا اور وہاں پر موجود صوبیدار صاحب نے سمجھایا کہ جو فوجی جوان سروس میں ہیں کیڈٹ بھرتی ہونے کی قابلیت رکھتے ہیں ان کے لئے عمر میں رعایت ہے کہ وہ کیڈٹ بھرتی ہونے کی درخواست دے سکتے ہیں۔

اس کے بعد دل کو سکون آیا اور موقع کی تلاش میں لگ گیا۔ اسی دوران پاکستان نیوی میں سیلرز کی بھرتی کا اشتہار آیا۔ سیلرز کی بھرتی اوپن ہی ہوتی تھی جس طرح کا لڑکا بھرتی ہونے آتا میٹرک میں نمبروں کو بنیاد بنا کر اس کو برانچ الاٹ کر دی جاتی تھی۔ میں چوں کہ بھرتی ہونے کے لئے اپنی بائیک پر گیا تھا تو مجھے نیوی پولیس میں بھرتی کر لیا۔ اس بات کا علم مجھے ٹریننگ سینٹر پہنچ کر ہوا۔ (جاری ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *