تجاوزات کی آڑ میں اہل کراچی کے گھر نہ اجاڑیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک عرصہ قبل ہی کراچی میٹروپولیٹن سٹی سے کاسموپولیٹن سٹی بن چکا تھا۔ مگر اب بھی اس کی حیثیت ایک میونسپلٹی یونین سے زیادہ نہیں ہے۔ شہر قائد کی آبادی کے تناسب کو ہر دور میں نظرانداز کیا گیا ہے۔ جس تیزی سے کراچی کی آبادی بڑھ رہی ہے، پورے ملک سے ذریعہ معاش کے لیے لوگوں کا مسکن رہا ہے، اس کے مطابق کراچی کو ریونیو کا کم از کم 30 فیصد دینا پڑتا۔ اسی بات کی تعصب پسندوں کو دلوں میں چبھن محسوس ہوتی ہے۔ کراچی جو پورے پاکستان کو چلاتا ہے، جس کی ایک دن کی چھٹی ریاست کو دو ارب روپے میں پڑتی ہے۔ جس تیزی سے اس کی آبادی بڑھ رہی ہے، اسی تیزی سے وسائل کو محدود سے محدود تر کیا جا رہا ہے۔

حالیہ مردم شماری یا مردم خوری نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے ۔ پونے تین کروڑ آبادی کے شہر کو ڈیڑھ کروڑ گنا گیا۔ بالفرض کراچی میں کام کرنے والے، معاش کے لئے پورے ملک سے آنے والے غیر مقامی افراد کو کراچی کی شہریت میں نہیں گنا گیا تو بات کچھ کچھ سمجھ میں آ جاتی ہے کہ شہر قائد کی حقیقی مقامی آبادی ڈیڑھ کروڑ ہو گی۔ باقی کی سوا کروڑ غیر مقامی آبادی جو حقیقی ڈیڑھ کروڑ مقامی آبادی کے وسائل کو استعمال کر رہی ہے، ان کا استحصال ہو رہا ہے، اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جاتی۔ اس بارے میں ارباب اقتدار و اختیار نے کوئی بھی منصوبہ بندی نہیں کی۔

کوسموپولیٹن سٹی کو برباد کیا جا رہا ہے۔ صنعتی حب کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ شہر قائد کو کھنڈر بنا دیا گیا ہے۔ کے الیکٹرک جیسے مافیا کو سرپر بٹھایا ہوا ہے۔ سرکاری اداروں میں کراچی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ گلیاں محلے تالاب بنے ہوئے ہیں۔ مزید صورتحال ایسی ہی رہی تو عنقریب کراچی موہن جو دڑو اور ہڑپہ کامنظر پیش کرنے لگے گا۔

شہر کی آبادی اس کی حدود سے تجاوز کر چکی ہے۔ اب کراچی کا رقبہ سپر ہائی وے پر ٹول پلازہ سے بھی آگے جا چکا ہے۔ جس کی مثال بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے اور اس سے ملحقہ آبادیاں ہیں۔ دوسری طرف نیشنل ہائی وے پر بھی آبادی اسی شہر کی تصور کی جاتی ہے۔ جبکہ کوسٹل ہائی وے پر بھی بستیاں آباد ہو چکی ہیں۔ اب اتنے بڑے اور وسیع شہر کو جس کی آبادی اور رقبہ ایک صوبے کے برابر ہو، مگر اس کو وسائل ایک تحصیل اور ضلع کے مطابق دیے جائیں تو یہ انصاف تو نہیں۔ ایسے تو غربت، بے روزگاری، جرائم اور انارکی میں اضافہ ہی ہو گا۔

قبضہ مافیا اور چائنا کٹنگ والوں نے سرکاری و حکومتی سرپرستی میں زمینوں پر قبضہ کیا، پھر اس پر پلاٹنگ کر کے غریبوں کو بیچ دیا۔ اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھوں کے مصداق غریب کو سر چھپانے کے لئے سستے پلاٹ میسر آ گئے تھے، جہاں پر اس نے اپنا خون پسینہ بہا کر خوابوں کے محل بنانے میں دن رات ایک کر دیے۔ ایک باپ کے لئے سب سے بڑی فکر یہی ہوتی ہے کہ اس کے بچوں کے رہنے کے لئے مستقل آشیانہ ہو۔

جب سرکاری زمینوں پر، کھیل کے میدانوں پر قبضے ہو رہے تھے، پلاٹنگ کی جا رہی ہے، لیز دی جا رہی تھی، اس وقت یہ قانون نافذ کرنے والے ادارے، سرکاری محکمے اور حکومت کہاں پر تھیں۔ آج سپریم کورٹ نے بغیر کسی منصوبہ بندی کے اور ان خاندانوں کو متبادل جگہ دینے کی بجائے تجاوزات ختم کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ ندی نالوں کو چوڑا کرنے کے نام پر لیز والے گھروں کو بھی مسمار کیا جا رہا ہے۔

عدالت عظمیٰ کا حکم سر آنکھوں پر مگر یہ عدل اور انصاف کا تقاضا نہیں کہ آپ غریبوں کے سروں سے چھت چھین لیں۔ انہوں نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے وہ زمینیں خریدی تھیں۔ اصل قصور وار اور مجرم تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان زمینوں کو فروخت کیا۔ جنہوں نے ان مافیاز کی سرپرستی کی، پشت پناہی کی اور پھر ان قبضے کی زمینوں کو لیز پر دے دیا گیا۔ ان ملزمان سے صرف نظر کرتے ہوئے سارا غم و غصہ اور تعصب شہر قائد کے غریب عوام پر اتارا گیا۔

گجر نالہ، اورنگی نالہ، لیاری ندی، ملیر ندی اور دیگر علاقوں میں تجاوزات کو مسمار کرنے میں جتنی تیزی سرکاری محکمے اور قانون نافذ والے ادارے دکھا رہے ہیں، کاش اتنی ہی پھرتی اس وقت دکھائی ہوتی جب یہ سارے کام ان کی ہی پشت پناہی سے انجام پذیر ہو رہے تھے تو آج غریب کا آشیانہ زمین بوس نہیں ہو رہا ہوتا۔ رشوت خوری اور حرام کی جو عادت ہمارے سرکاری اداروں رائج ہو چکی ہے، اس کا خمیازہ آج غریب عوام بھگت رہے ہیں۔

میرا سوال ہے کہ ان کا قصور کیا تھا؟
اپنے خون پسینے کی کمائی سے اپنے بیوی بچوں کے لئے آشیانہ بنانا جرم ہے؟
سر چھپانے کے لئے چھت خریدنا جرم ہے؟

اگر عدلیہ کی نظر میں یہ قصور ہیں تو یہ لوگ مجرم ہیں۔ پھر صحیح سزا دی جا رہی ہے۔ لیکن اس تمام عمل کے پیچھے جو مافیا کارفرما تھی، جنہوں نے یہ ساری منصوبہ بندی کی۔ جو ان ناجائز قبضوں اور چائنا کٹنگ میں ملوث تھے۔ ان کے سہولت کاروں کو بھی سزائیں دی جائیں۔ صوبائی حکومت، وزیراعلیٰ، میئر کراچی کو بھی کٹہرے میں لایا جائے جو ان کی ناک کے نیچے یہ سارا عمل ہوتا رہا ااور وہ خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے۔ اگر وہ بے خبر تھے تو نااہل اور نالائق اور اگر باخبر تھے تو شریک ملزم ٹھہرا کر سزائیں دی جائیں۔

تجاوزات کی کبھی بھی، کسی طور پر بھی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مگر غریبوں کے سروں سے چھت چھیننے کا اختیار نہ تو حکومت کے پاس ہے اور نہ ہی عدلیہ کے پاس۔ حقیقتاً شہریوں کے لئے چھت میسر کرنا حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔

حکومت کو اپنے ذاتی مفادات، لوٹ کھسوٹ، تعصب، شر انگیزی اور حرام مال جمع کرنے سے فرصت ملے تو وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے شہریوں کی فلاح کے و بہبود کے بارے میں سوچے۔ اسی ڈگر پر عدلیہ بھی چل کر اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ بغیر کسی منصوبہ بندی اور متبادل جگہ کے تجاوزات منہدم کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ ہمارے سرکاری ادارے اس عمل میں برابر کے مجرم ہیں، ان کو حرام کھانے کا اور موقع فراہم کر دیا۔ لیز مکانات کو بھی تجاوزات کی آڑ میں گرایا جا رہا ہے۔ اب کوئی عدلیہ سے ہی پوچھے کہ:

اگر غیر قانونی جگہ پر مکانات تعمیر تھے تو حکومتی اداروں نے لیز کیوں کیے؟
اور اگر غیر قانونی نہیں تھے تو لیز مکانات کیوں مسمار کیے جا رہے ہیں؟

رعایا اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی حکومت کی پہلی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جس میں عدلیہ کا کردار ایک مضبوط ستون کی مانند ہوتا ہے۔ اگر حکومت اور عدلیہ ہی چشم پوشی کرنے لگ جائیں، اصل مجرموں کی پشت پناہی کرتے ہوئے غریب شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچایا جائے، ان کے آشیانوں کو مسمار کر دیا جائے، ان کے بیوی بچوں کو بے گھر کر دیا جائے، تو پھر اس وقت کا انتظار کیا جائے جب اللہ کی لاٹھی برسے گی اور اللہ تم پر ایسے لوگوں کو مسلط کر دے گا جو تمہارے ہر فعل کا بدلہ لیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply