زرداری بڑا کھلاڑی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پی ڈی ایم حکومت گرانے اور عمران خان سے استعفے لینے نکلے تھے، لیکن اپنی منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی ڈھیر ہو گئے ہیں، میاں نواز شریف پچھلے اپنے اقتدار کے ادوار میں جو آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے بارے میں لائحہ عمل اپنائے رہے، اب ایسا لگتا ہے کہ آصف زرداری نے ان سب باتوں کا بدلہ لے لیا ہے، آصف علی زرداری نے اپنے ایک بیان اور ایک ہی وار سے پی ڈی ایم کو انجام کے قریب پہنچا دیا ہے، پیپلز پارٹی کے بدلتے رویے کو لوگ چاہے مفاد پرستی سے تعبیر کریں یا کسی مبینہ ڈیل سے موسوم کریں، سچ یہ ہے کہ پی ڈی ایم کی صف لپیٹی جا چکی ہے، خاص طور پر مولانا فضل الرحمان کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کدھر جائیں؟ ان کی تمام منصوبہ بندیاں منہ کے بل گری پڑی ہیں۔

یہ امر واضح ہے کہ پی ڈی ایم قیادت جتنا مرضی دباؤ ڈالے ، پیپلز پارٹی اسمبلیوں سے استعفے دینے پر تیار ہے نہ لانگ مارچ میں شریک ہونے پر راضی ہے، پیپلز پارٹی ایک صوبے میں اقتدار کی آسائشوں سے دست بردار ہونے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہے، پی ڈی ایم کا وجود پیپلز پارٹی کی مختلف رائے کے باعث بکھرنے کے قریب نظر آ رہا ہے، ایک طرف اویس نورانی اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان لفظی تصادم نے پی ڈی ایم کے باطنی انتشار کو عیاں کیا تو دوسری جانب آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف کو وطن واپس آ کر حکومت مخالف تحریک میں قائدانہ کردار ادا کرنے کا کہہ کر ساری گیم ہی الٹ دی ہے۔

آصف علی زرداری کے بیان پر مریم نواز سخت ناراض ہیں اور مولانا فضل الرحمان بھی نالاں ہیں، کہتے ہیں کہ جب پی ڈی ایم بنا رہے تھے تو اس میں استعفے کا آپشن بھی رکھا تھا، اس میں یہ نہیں لکھا کہ استعفوں کا آپشن لاسٹ ہو گا یا ایٹم بم ہیں، سیاست میں جیل جانے کا حوصلہ نہیں تو آتے کیوں ہیں، اس راستے میں جیل بھی آئے گی اور اقتدار بھی ہے، ہم حکومت کو مسلسل پریشان رکھنا چاہتے ہیں، پیپلز پارٹی 9 جماعتوں کی رائے کا احترام کرے، پی ڈی ایم متحد ہے، سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے ہوتا رہتا ہے، ہمیں پیپلز پارٹی کے موقف کا انتظار ہے۔

مولانا فضل الرحمان بے شک اچھی امید پر انتظار کریں، مگر پیپلز پارٹی استعفوں کے سوال پر کبھی پی ڈی ایم قیادت کا ساتھ نہیں دے گی، کیونکہ پی ڈی ایم سیاسی حریفوں کے درمیان ایک عارضی اور غیرفطری اتحاد ہے۔ اپوزیشن اتحاد میں جب بھی کسی سیاسی پارٹی کے مفادات پر ضرب پڑے گی، وہ اس سے الگ ہو جائے گی اور وہی کچھ ہو رہا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا پیپلز پارٹی واقعی سیاسی اتحاد سے الگ ہو گئی ہے؟ اگر پیپلز پارٹی کو الگ تصور کیا جائے تو پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتیں کہاں کھڑی ہیں اورپ ی ڈی ایم کا مستقبل کیا ہے؟

کیا پی ڈی ایم، پیپلز پارٹی کے بغیر حکومت مخالف تحریک میں کوئی نیا رنگ بھر سکے گی؟ ان سوالوں کے جوابات ہمیں پاکستان پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد ہی ملیں گے گوکہ پی ڈی ایم کی قیادت اب بھی پرامید ہے کہ پیپلز پارٹی سیاسی اتحاد کے پلیٹ فارم سے حکومت کے خلاف کی جانے والی کوششوں میں پی ڈی ایم کا بھرپور ساتھ دے گی، لیکن پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں پیپلز پارٹی کی قیادت کے جارحانہ انداز سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس کا جواب نہیں میں ہو گا، کیونکہ پارٹی کی سی ای سی پہلے بھی اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کرتی رہی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ فیصلے عموماً پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹیاں نہیں، بلکہ پارٹی قیادت کیا کرتی ہیں اور اس اجلاس میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو دونوں موجود تھے، لہٰذا پیپلز پارٹی کا فیصلہ وہی ہو گا جو پارٹی قیادت نے سنا دیا ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے پی ڈی ایم پلیٹ فارم استعمال کر کے اپنے مفادات کا حصول ممکن بنا لیا ہے، ایک بار پھر زرداری بڑا کھلاڑی بن کر سامنے آیا ہے، پی ڈی ایم کی خوش فہمی کے غبارے سے سوئی مار کر آصف علی زرداری نے ہوا نکال دی ہے، وہ ایک فاتح کی طرح مسکرا رہے ہیں اور پی ڈی ایم کے متاثرین دور کھڑے پیچ و تاب کھاتے دکھائی دیتے ہیں، یہ صورت حال پی ڈی ایم کے کے لئے سازگار نہیں، پیپلز پارٹی پی ڈی ایم سے نکل جاتی ہے تو کیا پی ڈی ایم عملاً ختم ہو جائے گی یا اس کے بعد بھی اس میں شامل دوسری جماعتوں میں اتنا دم ہے کہ حکومت گرانے کا مشن لے کر آگے بڑھ سکیں گی؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کو چھوڑ کر اپنی راہیں جدا کرنا چاہتی ہیں تو پی ڈی ایم اس کو دوبارہ اتحاد میں لانے پر بضد کیوں ہے؟

دوسری طرف اگر پیپلز پارٹی سیاسی اتحاد کے ساتھ ان کی روح اور منشور کے مطابق آگے جانا نہیں چاہتی تو کھل کر اس کا اظہار کیوں نہیں کرتی ہے، پی ڈی ایم اور پیپلز پاٹی قیادت سب کچھ جانتے ہوئے خود فریبی کا کھیل کھیل رہے ہیں، جبکہ مولانا کے الفاظ میں تحریک، تحریک ہی ہوتی ہے، تحریک کی کامیابی یا ناکامی کو نتائج سے نہیں جوڑا جانا چاہیے، پی ڈی ایم قیادت ملکی سیاسی سٹیج پر اپنی ناکامی کو جو بھی نام دیں، حکومت اسے اپنی سیاسی کامیابی سے تعبیر کر رہی ہے، لیکن حکومت کو اپنا قبلہ بھی درست کرنا ہو گا، یہ حکومت کے لئے ایک بہترین موقع ہے کہ اگر پی ڈی ایم کے دباؤ سے باہر نکلی ہے تو اس وقت کو غنیمت جان کر ایسے اقدامات کرے کہ جن سے لوگوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں، اگر ایسا نہ ہوا تو زر داری بڑے کھلاڑی کے ذریعے اپوزیشن اتحاد میں ڈالی جانے والی دراڑ سے بھی حکومت کو کچھ فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply