جمہوریت کی حسینہ کا بھرپور انتقام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواب زادہ نصراللہ خان اختلافی سیاست اور حکومت مخالف اتحاد بنانے میں ایک خاص مقام رکھتے تھے، ملتانی پختونوں کی نورزئی شاخ سے تعلق رکھنے والے نواب زادہ خان مرحوم نے جمہوریت و آئین کے بحالی کے جتنی تحریکیں چلائیں اور ناکامیاں بھی سہیں لیکن انہیں اپنے ارادوں سے کوئی نہ روک سکا۔ انہوں نے آمریت ہو یا پھر جمہوریت کی آڑ میں اختیارات کی غیر مساویانہ تقسیم، اس کے خلاف ایسی ناقابل فراموش جدوجہد کی کہ آج بھی ان کے طرز سیاست کے سبب انہیں بابائے جمہوریت کہا جاتا ہے۔

انہوں نے 9 جماعتی قومی اتحاد اور ایم آر ڈی کے بینرز سے جدوجہد کی۔ موجودہ دور میں سیاسی رواداری، قومی مفاد میں مصلحت و برداشت کا نام و نشان بھی نہیں ملتا۔ آج ان کی کمی واضح محسوس کی جا رہی ہے۔ فروعی مفادات، سیاسی انتقام اور قیادت کو درپیش مسائل کے باعث صورتحال قابو سے باہر ہو چکی ہے۔

پی ڈی ایم کے درمیان نا اتفاقی و مربوط لائحہ عمل اختیار نہ کرنے کی وجہ سے بادی النظر میں اتحاد کی ہانڈی بیچ چوراہے پھوٹتی نظر آ رہی ہے، اس کی بنیادی وجہ اگر سمجھنا ہو تو پی ڈی ایم میں نواب زادہ نصر اللہ خان جیسی شخصیت کا نہ ہونا ہے، مولانا فضل الرحمان نے نواب زداہ مرحوم کی جگہ پر کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں مسلسل اس طرح استعمال کیا گیا کہ ان کا غصہ پی ڈی ایم کی آخری پریس کانفرنس میں کھل کر سامنے آ چکا۔ اب تک جو بھی سیاسی منظرنامہ بنا تو تینوں مرکزی جماعتوں کے درمیان اعتماد و اتحاد کا فقدان ہی نظر آیا، پی ڈی ایم پلیٹ فارم پر واحد ایجنڈا آگے بڑھانے والوں کے درمیان فروعی مفادات نے ہی انہیں پسپائی پر مجبور کیا، اس میں حکومت کا کوئی کارنامہ نہیں۔

پی ڈی ایم میں شریک جماعتوں کو اپنے ہی اتحادیوں کو منانے میں وقت کا ضیائع ہوا۔ اتحاد بناتے وقت ہی پی ڈی ایم میں عہدوں کی تقسیم کا مسئلہ اٹھا، جسے بالآخر طے کر لیا گیا، افرادی قوت کے حساب سے لانگ مارچ و طویل دھرنوں کے لئے مولانا سے زیادہ کوئی تجربہ کار نہیں، تاہم پی پی پی بہت سنبھل کر ایسے پتوں سے کھیلنا چاہتی تھی کہ جس میں نقصان ہونے کی صورت میں بھی انہیں سب کچھ سے ہاتھ نہ دھونا پڑیں، یہ وقت کا تقاضا و سیاسی بلوغت کا آئینہ دار بھی تھا، کیونکہ دوسری سیاسی جماعتوں کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں، جب کہ وفاق کو ٹف ٹائم دینے کے لئے پی پی پی کی بااختیار سندھ حکومت ہے، جس کی بابت واضح تھا کہ پی پی جلد بازی یا پھر پکی چوٹ نہ لگنے کا یقین نہ ہونے تک حتمی قدم نہیں اٹھائے گی۔

پی پی پی نے سینیٹ انتخابات کے لئے دوسری جماعتوں کی نسبت اچھا کھیل کھیلا، لیکن چیئرمین و ڈپٹی سینیٹ کے الیکشن میں چوٹ کھا گئی، انہیں یہاں چوکنا رہنے کی ضرورت تھی کیونکہ یہ کوئی بھی بھول سکا تھا کہ انہوں نے صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے کے لئے مبینہ طور پر بلوچستان کا تختہ الٹا تھا، بھلا سیاست میں اتنا بڑا زخم اتنے جلدی کیسے برداشت کیا جا سکتا تھا کہ ایک طرف بلوچستان کی حکومت جائے، تو دوسری طرف سینیٹ میں اکثریت ختم ہو جائے، عدم اعتماد کی تحریک بھی ناکام ہو جائے، اس کا اجمالی جائزہ لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ جمہوریت کی حسینہ نے بھرپور انتقام لیا۔

حکمراں اتحاد کو قطعی کریڈٹ نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ سمجھنے والے جان چکے تھے کہ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں جب پی ڈی ایم کے متفقہ امیدوار مولانا عبدالغفور حیدری کو بھی اپوزیشن کے مکمل ووٹ نہیں پڑے، تو ظاہر ہو چکا تھا کہ پی ڈی ایم میں واضح اختلافات ہیں، نون لیگ کے دونوں ہاتھ خالی تھے اور رہے، پنجاب میں پانچ سیٹیں تو مل گئیں، لیکن داغ دار ہو گئے۔ چیئرمین سینیٹ بننا تھا تو پی پی پی کا بنتا، ڈپٹی چیئرمین جمعیت اسلام (ف) کا حصہ تھا، اپوزیشن لیڈر کا کھاتہ نون لیگ کے لئے رکھا گیا۔ قیاس آرائی ہے پی ڈی ایم میں اختلافات اور 26 مارچ کا لانگ مارچ کے مؤخر ہونے کے نتیجے میں شاید اپوزیشن کی بڑی جماعت ہونے کے ناتے اپوزیشن لیڈر پی پی پی کا ہی بن جائے، کیونکہ پی ڈی ایم جیت کر بھی ہار گئی، تاہم پرانا فارمولا قابل عمل ہو گا یا نہیں ، یہ وقت بتائے گا۔

ن لیگ، پنجاب میں ق لیگ کے لئے قربانی دینے کو تیار نہیں کہ تبدیلی لانے کے لئے چودھری برادران، خسرو بختیار کے ساتھ اتحاد کر لیں، انہیں صوبہ پنجاب میں عدم اعتماد کے ثمرات سے بھی کچھ نہیں ملنا بلکہ آئندہ الیکشن میں نقصان کا خدشہ زیادہ ہے، اس لئے پی ڈی ایم کا اگلا محاذ شروع ہی نہ ہو سکا، مولانا فضل الرحمان کو بھی کوئی مطمئن نہیں کر سکا کہ چلو چیئرمین کی نشست پر مہر جیسے بھی لگی وہ عدالت فیصلہ کر دے گی، لیکن ان کے امیدوار کو ووٹ ملنے والے ووٹ تحریک انصاف کو کیسے مل گئے۔یہ معاملہ پی ڈی ایم رہنماؤں کے درمیان بڑی تلخی کا باعث بنا، عدم اعتماد کی خلیج بہت گہری ہو چکی، یہی وجہ ہے کہ پی پی پی اجتماعی استعفوں کو آخری آپشن قرار دیتی آ رہی ہے، اب مارچ سے قبل استعفوں کے مطالبے پر اصرار، عدم اعتماد کی فضاء کی وجہ سے ہی ہے، نواز شریف کی واپسی کے مطالبے کو استعفوں سے نتھی کرنے کا مقصد بھی بظاہر یہی ہے۔

پی پی پی کی جانب سے مزید وقت طلب کیے جانے کے بعد حتمی امکان ہے کہ رمضان المبارک میں لانگ مارچ نہیں ہو سکتا، عیدین اور محرم الحرام میں شدید ترین گرمی کے باعث دھرنے و احتجاجی مظاہرے ممکن نہیں، جو کچھ پی ڈی ایم کی پٹاری میں تھا ، اس کے لئے یہی رجب و شعبان کا مہینہ تھا، مناسب ہو گا کہ تمام جماعتیں پارلیمان کا رخ کریں اور انتخابی اصلاحات پر توجہ دیں، الیکٹرانک ووٹ سسٹم اور اوپن بیلٹ پر اتفاق رائے پیدا کریں، کیونکہ جیسے تیسے یہ تین برس گزر گئے، باقی ماندہ وقت بھی عوام نکال ہی لیں گے، کم ازکم سیاسی جماعتیں کوئی تو ایک ایسا کام کر جائیں کہ عوام حقیقی رائے دہی سے اپنے نمائندگان کا انتخاب کر سکیں، آر ٹی ایس یا آر اوز کا الیکشن و دھاندلی کے الزامات کا خاتمہ ہو اور ایسے نمائندے سامنے آئیں جنہیں واقعتاً عوام نے منتخب کیا ہو۔ یہی اب ملک و قوم کے حق میں بہتر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply