لاہور یونیورسٹی کا واقعہ اور والدین کا المیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں لاہور کی ایک یونیورسٹی کی ویڈیو وائرل ہوئی۔ اس ویڈیو میں ایک لڑکی اپنے ساتھی طالب علم سے محبت کا اظہار کر رہی تھی۔ یہ ویڈیو منظر عام پر آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے دونوں لڑکا لڑکی کو یونیورسٹی سے برخاست کر کے دو لاکھ روپے جرمانہ کر دیا۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا نے اس واقعے کو کوریج دی۔ سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا، کسی نے یونیورسٹی کے اس عمل کی تائید کی تو کوئی مخالفت کرتا ہوا دکھائی دیا۔

نیز ہر ایک شخص نے اس واقعے پر تبصرہ کرنے کی کوشش کی۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر یونیورسٹی طالب علموں کو اس قسم کی سرگرمی سے نہیں روکتی تو باقی طالب علموں کے لئے بھی بے حیائی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ جبکہ بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ محبت کرنے کا حق سب کو حاصل ہے، اگر کوئی کسی سے محبت کا اظہار کرتا ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟

محبت کرنا، کسی کے ساتھ محبت میں مبتلا ہو جانا ایک فطری عمل ہے۔ ہر دوسرے شخص کو زندگی میں کبھی نہ کبھی اور کسی نہ کسی موڑ پر محبت ہو جاتی ہے۔ اور ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی محبت کا سرعام اظہار بھی کر دیتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر اس لڑکا لڑکی نے بھی ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کیا تھا تو ایسی کون سی قیامت آن پڑی تھی کہ انہیں یونیورسٹی سے ہی نکال دیا گیا؟

یہاں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ چونکہ یونیورسٹی میں محبت ممنوع ہے، اس لئے انہیں نکال دیا گیا۔ ارے بھئی پوچھا جائے کہ کیا یہ کمبخت محبت بھلا کوئی جگہ دیکھ کر ہوتی ہے؟ پھر ایک اور بھی دلیل سامنے آتی ہے کہ طالب علم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں محبت کرنے نہیں۔ لہٰذا کسی لڑکے لڑکی کو دوران تعلیم محبت نہیں ہونی چاہیے۔

محبت کا کیا کیا جائے کہ یہ ظالم ہو جاتی ہے کچھ خبر نہیں رہتی۔ کیا اس دنیا کے پہلے قتل کو محبت کا شاخسانہ کہیں تو درست نہ ہو گا؟ کیا کسی نے زلیخا سے پوچھا کہ اس نے شاہ مصر کی بیوی ہونے کے باوجود کیوں ایک غلام پر اپنا دل ہار دیا۔ یقیناً آپ کو کٹی ہوئی انگلیوں کی صورت میں جواب مل گیا ہو گا۔

جہاں تک یونیورسٹی کی بات ہے تو تعلیمی اداروں میں ہر جگہ کیمرے موجود ہوتے ہیں۔ اگر یونیورسٹی قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی تھی تو یونیورسٹی انتظامیہ کو ازخود اس واقعے کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔ مگر یونیورسٹی نے سوشل میڈیا سے آنے والے دباؤ کے بعد نوٹس لیا۔ وگرنہ اس یونیورسٹی سے ایسی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر آتی رہتی ہیں کہ انہیں الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی یونیورسٹی کی طرف سے لیا گیا کوئی ایکشن سامنے آیا۔

اس مسئلے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی، اسے یونیورسٹی کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے کہ یونیورسٹی نے لڑکے لڑکی کو نکال کر درست کیا یا نہیں۔ یہ ویڈیو اگر منظر عام پر نہ بھی آتی تب بھی سرعام یا پس پردہ روزانہ ایسے واقعات یونیورسٹیوں، پارکوں اور ریستورانوں میں وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ یونیورسٹی اور پارک رہی دور کی بات سکولوں میں بھی بچے جنس مخالف کی رنگینیوں میں گم ہو رہے ہوتے ہیں اور وہاں بھی محبتیں جنم لے رہی ہوتی ہیں۔

دراصل مسئلہ والدین اور بچوں کے درمیان موجود ہے۔ میرے ایک عزیز جو لاہور میں ہی رہائش پذیر ہیں، ان کے کسی دوست کی بیٹی نے گھر سے بھاگ کر شادی کی۔ جس کے باعث اس لڑکی کے والدین کو اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے کے بعد میرے اس عزیز نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم نہیں دلوائیں گے، بس رسمی سی تعلیم دلوا کر گھر تک محدود رکھیں گے۔ حالانکہ کہ ان کی بیٹیوں کی عمر بمشکل دس بارہ برس ہو گی۔ یونیورسٹی کے اس واقعے کے بعد بھی بہت سے لوگوں نے اعتراض کیا کہ اب والدین اپنی بیٹیوں کو یونیورسٹی بھیجتے ہوئے سو مرتبہ سوچیں گے۔ کیا یہ بیٹیوں کے ساتھ زیادتی نہیں؟ کیا یہ ان پر عدم اعتماد نہیں؟ کیا یہ والدین کا اپنی تربیت پر عدم اعتماد نہیں؟

یہیں سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسئلہ والدین اور بچوں کے درمیان ہے۔ والدین اول تو اپنے بچوں سے بے خبر ہو کر کسی اور ہی دنیا میں مگن ہوتے ہیں، ان کے مسائل اور ان کی ذہنی و معاشرتی ضروریات سے نا آشنا رہتے ہیں۔ پھر اگر بچے اس کا متبادل باہر کہیں ڈھونڈیں اور ایسا کوئی معاملہ کر بیٹھیں تو والدین آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ والدین اپنے بچوں کو گھر سے نکالتے ہوئے ان کی اچھی تربیت کریں، انہیں معاشرے کے مسائل سے آگاہی دیں، ان کی فکری و ذہنی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے ان کی تربیت کریں۔

اپنے بچوں کو بتائیں کہ اگر انہیں کوئی پسند آ جائے تو اس صورت میں بہتر راستہ کیا ہے؟ بیٹی کو سکھائیں کہ اگر اسے کوئی شخص ترچھی نظروں سے دیکھے تو اسے کیا کرنا ہے۔ بیٹے کو بتائیں کہ خواتین سے بات کیسے کرنی ہے، ان کا احترام کیسے کرنا ہے۔ ایک لمحے کے لئے سوچیں کہ اگر اس لڑکے لڑکی کے والدین نے انہیں بتایا ہوتا کہ اس طرح سرعام محبت کا اظہار کرنے سے قدامت پسند معاشرے میں کیا صورتحال پیدا ہو سکتی ہے تو شاید اس طرح یہ ویڈیو وائرل نہ ہوئی ہوتی۔

میری ایک ہم جماعت جو صحافت کی ہی طالبہ ہیں، انتہائی پراعتماد شخصیت کی مالک ہیں۔ اس کے والدین نے اسے پر اعتماد بنایا ہے اور اس کی اچھی تربیت کی ہے۔ اسے معاشرے کی پستیوں آگاہ کیا ہے۔ یونیورسٹی میں اگر کوئی لڑکا اپنی حد سے نکل کر اس سے بات کرنے یا جملہ کسنے کی کوشش کرے تو وہ صرف نظر کرنے کی بجائے سب کے سامنے اس لڑکے کو وہ اخلاقیات سکھاتی ہیں جو اسے ان کے والدین نہیں سکھا پائے۔

میری چھوٹی بہن نویں جماعت کی طالبہ ہے، میں اکثر اسے مختلف چیزیں سکھاتا اور پڑھاتا رہتا ہوں۔ ایک دن اسے میں غالب کا شعر پڑھا رہا تھا کہ

غنچہ ناشگفتہ کو، دور سے مت دکھا، کہ یوں
بوسے کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں

جب بات بوسے تک پہنچی تو میرا بھائی جو درس نظامی کا طالب علم ہے بھڑک اٹھا اور کہنے لگا کہ لڑکی کو اس قسم کا غیر اخلاقی شعر پڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ درس نظامی کے پہلے سال میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے اس کے سامنے غالب کی یہ ’واہیاتی‘ کچھ بھی نہیں ہے۔ اور لڑکے اور لڑکی کی تفریق کے بغیر بچوں کی تربیت کی جانی چاہیے اور انہیں ہر ممکن بات بتانی چاہیے۔

اس لئے والدین اور بچوں کے درمیان دوستانہ تعلق ہونا چاہیے۔ والدین کو اپنے بچوں کو ہر چھوٹی بات سکھانی چاہیے۔ انہیں مذہب، کلچر اور معاشرے کے بارے میں بتائیں۔ لیکن ہمارے ہاں والدین اور بچوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور بچے والدین سے چھپ کر نہ جانے کیا کیا کرتے پھرتے ہیں۔ اس تعلق میں فاصلہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ دوستانہ تعلق رکھتے ہوئے ان کی اچھی تربیت کرنی چاہیے۔ تاکہ ان میں اعتماد بڑھے اور ان کے بچے اچھے شہری کے طور پر معاشرے میں زندگی گزاریں۔ لیکن اگر یونیورسٹیوں کو ہی قصور وار قرار ٹھہرانا ہے اور لڑکیوں کو تعلیم نہ دلوا کر انہیں گھر بٹھانا ہے، ان پر اپنے فیصلے مسلط کرنے ہیں تو ایسی صورت میں بہتری کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ محبت صرف یونیورسٹیوں میں ہی نہیں ہوتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
زین علی، صادق آباد کی دیگر تحریریں

Leave a Reply