محبوب دیوتا: وہ عشق جو مذہب بن گیا

دوسری صدی عیسوی میں عظیم رومی سلطنت پر پانچ بڑے شہنشاہوں کی حکومت رہی۔ میکاولی نے لکھا ہے ”اس دور کا مطالعہ کرنے سے ہم سیکھ سکتے ہیں کہ ایک اچھی حکومت کا قیام کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ تمام رومی بادشاہ جنہیں حکومت وراثت میں ملی (ماسوائے تیٹس) برے حکمران ثابت ہوئے۔ اس کے برعکس 96 سے 180 عیسوی کے درمیان نروا سے لے کر مارکس تک پانچوں عظیم حکمران اصل اولاد نہیں، لے پالک تھے۔ ان کے بعد جونہی حکومت تخمی بیٹوں کو دوبارہ ملی، تباہی شروع ہو گئی۔”

ان پانچوں میں پہلا نام ’نروا‘ کا ہے۔ اس کے بعد ’ٹریجن‘ حکمران ہوا۔ ٹریجن نے اپنی نواسی سبینہ کی شادی دور کے بھتیجے ہیڈرین سے کی۔ ٹریجن کی اچانک موت کے وقت ہیڈرین وہاں موجود نہ تھا۔ رومی قانون کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے بادشاہ کی بیوی کے کہنے پر اس کو منہ بولا بیٹا قبول کر لیا گیا اور حکومت اس کے حوالے کر دی گئی۔ ہیڈرین نے پچھلے شہنشاہوں کے برعکس روم میں رہ کر حکومت کرنے کے لئے صرف پتر کاروں کی خبروں پر انحصار نہیں کیا، بلکہ زیادہ عرصہ اپنی سلطنت میں گھومنے میں گزرا۔ شروع میں ہی اسے یہودیہ اور مشرق وسطیٰ میں بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہودیوں کی گوشمالی کے بعد صوبہ برطانیہ میں اس نے 73 میل لمبی دیوار بنا کر اپنی مملکت کو دشمنوں سے محفوظ کر لیا۔ اس دیوار کے کچھ حصے ابھی بھی موجود ہیں۔

ہیڈرین کے سبینہ سے تعلقات کبھی بھی اچھے نہ رہے۔ یہ خالصتاً سیاسی شادی تھی۔ اس کو عورتوں میں ذرا بھی دلچسپی تھی اور نہ ہی وہ کبھی خلوت صحیحہ سے لطف اندوز ہوئے۔ اس کی توجہ کا مرکز تھے نوخیز لڑکے۔ اس کا دل دھڑکتا تھا خردسال انٹینس کے ساتھ۔ جس کے ساتھ اس کی پہلی ملاقات ترکی کے شہربولو (کلوڈیپولس) میں ہوئی۔ اس وقت ہیڈرین کی عمر انچاس اور انٹینس کی چودہ سال تھی۔ یہ پہلی نظر کا عشق نہیں تھا لیکن انٹینس کو اس میں کشش محسوس ہوئی اور وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے روم آ گیا۔

دو سال بعد جب ہیڈرین روم پہنچا تو پھر ان میں میل ملاقات کا آغاز ہوا۔ اگلے تین سالوں میں وہ ہر جگہ اکٹھے دیکھے جاتے رہے۔ اب ہیڈرین اس کا اس حد تک دیوانہ ہو گیا تھا کہ وہ اس نے اس کی شان میں شہوت انگیز شاعری لکھنا شروع کر دی۔ یہ صرف جسمانی عشق ہی نہیں تھا بلکہ ہیڈرین کے بقول وہ بہت سے دوسرے لوگوں سے زیادہ ذہین اور عظیم سیاسی مدبر تھا۔ اب وہ دونوں شکار، فوجی مہمات اور سیاسی اجتماعات میں ہر جگہ اکٹھے ہی جاتے تھے۔

سکندریہ میں کچھ فیصلوں کی وجہ سے اس کی مخالفت بڑھ گئی۔ اب امرا مملکت نے اس کے جنسی تعلقات کو بھی نشانہ بنالیا حالانکہ انٹینس نے ان تعلقات کو کبھی بھی ذاتی مفادات کے حصول کے لئے استعمال نہ کیا۔ انہیں دنوں لیبیا میں ایک آدم خور شیر کا خوف پھیلا ہوا تھا۔ ہیڈرین اس کے شکار کے لئے وہاں آ گیا۔ اس شیر کو مارنے کے دوران ہیڈرین نے ایک موقع پر خود کو خطرے میں ڈال کر انٹینس کی جان بچائی۔ ہیڈرین اس واقعہ پر اتنا فخر کرتا تھا کہ اس نے اس کی تصویریں مختلف مقامات پر کندہ کروائیں، کانسی کے تمغے بنوائے اور نظمیں بھی لکھوائیں۔ اس شکار کی کہانی ابھی بھی فتح کی یادگار ’آرک آف کاسٹنٹائین‘ پر کھدی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے۔

اس دوران وہ ایک پراسرار بیماری کا شکار ہو گیا۔ جو تین سال تک اس کی صحت پر اثر انداز ہوتی رہی۔ لیبیا سے واپسی پر وہ بحری بیڑے پر دریائے نیل کی سیر کو چل نکلے۔ ایک دن اچانک انٹینس دریا میں ڈوب کر مر گیا۔ ان کے عشق کی کہانی صرف پانچ سال چلی۔ اس موت کی بہت سی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ سب سے معتبر کہانی یہ ہے کہ وہ ایک انسانی قربانی تھی۔ ایک پروہت نے بتایا تھا کہ اس کی بیماری کا علاج یہ ہے کہ وہ اپنی سب سے پیاری چیز قربان کرے۔

اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے انٹینس نے دریائے نیل میں چھلانگ لگا دی۔ وہ محبوب جس کو بچانے کے لئے اس نے اپنی جان کی پرواہ نہ کی وہ اس پر قربان ہو گیا۔ ہیڈرین انسانی قربانی کے سخت خلاف تھا اور اس کی روک تھام کے لئے اس نے قوانین بھی وضع کیے تھے۔ سخت جان، قوی دل، جنگجو حکمران جس پر آج بھی یہودہ میں قتل عام کروانے کا الزام لگتا ہے اس ناگہانی موت پر عورتوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ اس ناکردہ گناہ کی شرمندگی اس پر ساری عمر چھائی رہی۔

اس کے بعد وہ ایک سال تک وہاں رکا رہا۔ اس جگہ پر ایک شہر تعمیر کروایا۔ انٹینس کی لاش کو مصری طریقے کے مطابق حنوط کروا کر روم ساتھ لایا۔ اس شہر میں اور پوری رومی مملکت میں ہزاروں کی تعداد میں اس کے مجسمے استادہ کروائے۔ دو سو کے لگ بھگ یہ مجسمے آج بھی دنیا کے عجائب گھروں کی زینت ہیں۔ بعد میں کئی سو سال تک اس شہر میں انٹینس کی یاد میں کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوتے رہے۔ انٹینس کی موت مصری دیوتا ’اوسیرس‘ کی طرح تھی۔

وہ دیوتا جو لوگوں کی بہتری کے لئے دریائے نیل کی طغیانی رکنے پر قربان ہوا تھا۔ انٹینس کی قربانی نے اسے اوسیرس دیوتا کا ہم پلہ بنا دیا تھا۔ ہیڈرین نے اسے باقاعدہ الوہیت کے درجہ پر فائز کر دیا۔ یونانیوں نے اسے اپنے دیوتا ڈائنوسس کے برابر قرار دے دیا۔ پوری رومی سلطنت میں اس کے مندر بنا دیے گئے اور اس کی پوجا شروع ہو گئی۔ دنیا کی تاریخ میں بادشاہوں کو تواکثر دیوتا ؤں کے درجہ پر فائز کیا جاتا رہا ہے لیکن کسی عام آدمی کو یہ اعزاز شاید پہلی بارملا۔ انٹینس نے جان قربان کر کے اور شہنشاہ نے محبوب کو دیوتا کا درجہ دے کر عشق و محبت کا معیار انتہائی بلند کر دیا۔

مسیحیت اپنے آغاز میں اس کو اپنا مقابل مذہب محسوس کرتی رہی۔ تقریباً تین سو سال بعد جب رومی سلطنت نے مسیحی مذہب اختیار کیا تو اس بت پرستی پر پابندی لگائی گئی۔ کل جب پوپ نے ہم جنس پرستی کے خلاف بیان دیا تو اب بھی شاید ان کے دل میں نہاں خانوں میں بیٹھی یہی مخالفت اپنا اثر دکھا رہی تھی۔

2022 میں ہیڈرین کو لندن کا دورہ کیے انیس سو سال ہو جائیں گے۔ اسی شہر میں کئی سال پہلے ’لندن میوزیم‘ میں دونوں کو پھر ملا دیا گیا تھا۔ وہاں ان کے مجسموں کی نمائش پہلو در پہلو کی گئی ہے اور صدیوں بعد محب اور محبوب پھر اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اکتوبر 2002 میں اس مذہب کے احیا کی تحریک کا پھر آغاز کیا گیا ہے۔ 1984 میں روسٹن لیمبرٹ نے ہیڈرین کی سوانح حیات میں ان کے تعلقات کو مجازی سے بڑھ کر عشق حقیقی کا درجہ دیتے ہوئے لکھا Hadrian ’s feelings for Antinous was a ”a mystical-religious need for his companionship.“
شاید یہ وہی روحانی بالیدگی ہے جس کا ذکر ہمارے ہاں بھی ملتا ہے۔
تیرے درس دیدار دے دیکھنے نوں، آیا دیس پردیس میں چیر سائیں۔
یا پھر
شاہ حسین شہادت پائیں جو مرن متراں دے اگے

Comments - User is solely responsible for his/her words