کھلاڑی سرکار اور معجزے کی منتظر قوم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سب کچھ الٹا شروع ہو جائے تو پھر کسی کو دوش دینے کی قطعاً ضرورت نہیں رہتی، جہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہو تو وہاں کسی چیز کا درست نظر آنا ناممکنات میں سے ہوتا ہے۔

ہمارے یہاں نظام بھی عجب ہے، یہاں کا دستور بھی نرالا ہے، رسم و رواج بھی انوکھے ہیں اور روایات سے یکسر دور اپنی لاٹھی گھمائے چلے جا رہے ہیں اور لاٹھی سے یاد آیا کہ یہاں جس کے پاس لاٹھی ہے اسی کا سکہ رائج ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں بلکہ خواص ہیں، اور خواص کی مرضی ہے کہ وہ جسے چاہیں تخت دیں اور جسے چاہیں تختۂ دار پر چڑھا دیں اور انہی کی منشا چلتی ہے کہ کون سا بیان غداری کے زمرے میں آئے گا اور کون سا جملہ بولنے پر حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ دیا جائے گا۔

قانون میں تو یہاں اداروں کی حدود و قیود ہیں مگر عملاً ہر ادارہ ان قیود سے باہر اور اداروں میں بیٹھی شخصیات حدود سے باہر نکلنا اپنا حق سمجھتی ہیں، ویسے تو دنیا میں یہی اصول ہے کہ شخصیات اداروں کی محتاج ہوتی ہیں اور ادارے کی کریڈیبلٹی اور نام ہوتا ہے مگر یہاں ادارے شخصیات کے مرہون منت ہیں، اس لیے یہاں ادارے کمزور ہیں اور ان میں موجود شخصیات طاقتور ہیں جو روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جاتی ہیں اور یہی شخصیات بجائے اداروں کے ساتھ مخلص رہنے کے ، کچھ سیاسی جماعتوں کے ساتھ روابط رکھتے ہوئے ان کے کام آنا اپنا فرض منصبی سمجھتی ہیں۔

بیوروکریسی ہی یہاں سب کچھ ہے، چاہے تو کچھ کر گزرے اور اگر من کرے تو کسی کو کچھ بھی نہ کرنے دے، ہمارے ایک بڑے قلم کار تو یہ کہتے ہیں کہ یہ جو بیورو کریسی ہے درحقیقت۔ ’برا کریسی‘ ہے، ہمارے یہاں سب کچھ ہی اس نے کرنا ہوتا ہے، اچھا بھی اور برا بھی۔ ویسے تو ساری بیوروکریسی مضبوط ہے مگر جس کے ہاتھ میں بندوق ہو تو وہ والی سب سے زیادہ طاقتور تصور کی جاتی ہے اور اس کی مرضی سے ہی یہاں سب کچھ ہوتا ہے، سیاہ بھی اور سفید بھی۔

یہاں سب آوے کا آوا ایسا بگڑا کہ کوئی سدھار نہیں سکا، کبھی کسی مداری نے تماشا دکھایا تو کبھی کوئی فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کر کے یہاں رخصت ہوا، کبھی تو صاحبان نے خود ہی مسند اقتدار کو رونق بخشی مگر پھر بھی سب کچھ الٹ ہوتا چلا گیا، بگڑتا گیا۔

پھر نوازنے والوں نے عنان اقتدار ایک کھلاڑی کے حوالے کی جس نے تبدیلی کا نعرہ بلند کیا، وہ جد و جہد میں مصروف ہے مگر اس کی بدقسمتی کہیں یا کچھ اور کہ اس نے نئی بلڈنگ بنانے میں انہی معماروں کا انتخاب کیا ہے جنہوں نے بلڈنگ کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا تھا ، مگر پھر بھی کھلاڑی میدان میں اچھل کود میں مگن ہے اور قوم معجزے کی منتظر ہے۔

کیونکہ ابھی تک کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا سوائے اس کے کہ جنہوں نے یہ نعرہ زور و شور سے بلند کیا تھا ، ان کی تعداد کم ہو گئی اور زور و شور رخصت ہوا مگر آج بھی ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان، جو اس پریشان حال قوم کو مسلسل تسلیاں دیے جا رہا ہے کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

یہ سب کچھ الٹ ہوتا دکھائی دیتا ہے تو یہ خیال ذہن میں کلبلاتا ہے کہ جب سسٹم خراب ہو گا تو پھر کوئی سیاست دان کچھ کر پائے گا نہ آمر اور نہ ہی کوئی کھلاڑی، تو اس کا حل یہی نکالا جائے پوری بساط کو لپیٹ دیا جائے، نیا تجربہ کیا جائے، ایک نیا نظام لایا جائے ، وہ ایسا نظام ہو جس میں حاکم وقت قوم کا خادم ہو اور عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے ادارے عوام کو جواب دہ ہوں، چاہے اسے صدارتی نظام کہیں، چاہے تو کوئی اور نام دے دیں مگر اس بگڑے نظام کو لپیٹ دیں جس میں چند مخصوص لوگوں کی ہی اجارہ داری ہے اور چند ادارے ہی یہاں قابض ہیں۔

شاید کہ پھر اس چمن میں خوشحالی آئے جب عوام کی نمائندے ہی عوام میں سے ہوں اور عوام کو ہی جواب دہ ہوں یہ والی نام نہاد جمہوریت نہ ہو جس میں عوام پر حکومت کچھ خاص خاندان کرتے ہیں اور جنہیں بیلٹ پیپر کے ذریعے عوام نہیں بلکہ بلٹ والے منتخب کرتے ہیں، بس امید بہار کے سہارے چند نفوس آج بھی طلوع سحر کا خواب دیکھ رہے ہیں ، نہ جانے کب اس طویل تاریک رات کا اختتام ہو گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply