ادا جعفری کی یاد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اردو ادب میں تین خواتین نے اپنی انفرادیت کی بنا پر افسانہ، شاعری اور تنقید میں اپنا منفرد شناخت نامہ مرتب کیا ہے۔ افسانوی ادب میں عصمت چغتائی، دنیائے نقد میں ممتاز شیریں اور شاعری کی دنیا میں ’ادا جعفری‘ ۔ ادا جعفری کو اردو شاعری کی خاتون اول بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا شمار بہ اعتبار طویل مشق سخن اور ریاضت فن کے صف اول کی معتبر شاعرات میں ہوتا ہے۔

ادا جعفری اردو زبان کی معروف شاعرہ تھیں۔ آپ 22 اگست 1924ء کو بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا خاندانی نام عزیز جہاں ہے۔ آپ تین سال کی تھیں کہ والد مولوی بدرالحسن کا انتقال ہو گیا۔ جس کے بعد پرورش ننھیال میں ہوئی۔ ادا جعفری نے تیرہ برس کی عمر میں ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ وہ ادا بدایونی کے نام سے شعر کہتی تھیں۔ اس وقت ادبی رسالوں میں ان کا کلام شائع ہونا شروع ہو گیا تھا۔ ادا جعفری عموماً اختر شیرانی اور اثر لکھنوی سے اصلاح لیتی رہی۔ ان کے شعری مجموعہ ’شہر درد‘ کو 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ ”جو رہی سو بے خبری رہی“ کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔ وہ کراچی میں رہائش پذیر تھیں۔

ان کی شاعری کا دورانیہ کم و بیش 75 برس پر محیط ہے جس میں انھوں نے گاہے گاہے یا بہ غرض تفریح طبع نہیں بلکہ تواتر و کمال احتیاط کے ساتھ شاعری کی ہے اور جو کچھ کہا وہ شعور حیات اور دل آویزی فن کے سائے میں کہا۔ حرف و صوت کی شگفتگی اور فکر و خیال کی تازگی کے ساتھ کہا۔ فکر و جذبے کے اس ارتعاش کے ساتھ کہا جس کی بدولت ان کا شعر ان کی شخصیت کی شناخت بن گیا۔

ادا جعفری کی تصنیفات :

1۔ میں ساز ڈھونڈتی رہی 1950 (شاعری)
2۔ شہردرد 1967 (شاعری) 1968 ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔
3۔ غزالاں تم توواقف ہو 1974 (شاعری)
4۔ ساز سخن بہانہ ہے 1982 (شاعری) ہائیکو
5۔ حرف شناسائی (شاعری)
6۔ موسم موسم (کلیات 2002 ء)
7۔ جو رہی سو بے خبری رہی 1995 ( خود نوشت)

اردو ادب کے معتبر نام ادا جعفری کی 12 مارچ کو چھٹی برسی تھی، وہ اردو ادب کی پہلی مقبول خاتون شاعرہ گردانی جاتی ہیں۔

میں آئینہ پہ بھلا اعتبار کیسے کروں
مجھے تو صرف اسی کی نگاہ نے دیکھا

انھیں آدم جی ادبی ایوارڈ کے علاوہ حکومت پاکستان کی طرف سے تمغۂ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ آغاز میں انھوں نے ادا بدایونی کے نام سے شعر کہے۔ 1947ء میں نورالحسن جعفری سے شادی کے بعد اپنا نام ادا جعفری لکھنے لگیں۔ ادا جعفری کی شاعری اور خودنوشت سمیت 6 کتابیں منظر عام پر آئیں۔

ادا جعفری شاعری کے ساتھ خوبصورت نثر بھی لکھتی تھیں اور معاصر اردو ادب میں انہیں نمایاں مقام حاصل تھا۔ انہیں پاکستان رائٹرز گلڈ نے بھی ایوارڈ سے نوازا جب کہ شمالی امریکا اور یورپ کی ادبی تنظیموں نے بھی ان کی شاندار خدمات پر اعزازات دیے۔ ادا جعفری کی ایک مشہور غزل کو مرحوم استاد امانت علی خان نے اپنی مدھر آواز میں گا کر امر کر دیا:

ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے

ادا جعفری بنیادی طور پر غزل کی شاعرہ تھیں لیکن انھوں نے آزاد نظم اور ہائیکو پر بھی طبع آزمائی کی۔ انھوں نے چند مضامین بھی لکھے۔ وہ حقوق نسواں کی علم بردار تھیں اور اس کا اظہار انھوں نے اپنی شاعری اور نثر میں بھی کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply