محمد عجیب ۔ برٹش ایشین رول ماڈل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بریڈ فورڈ میٹروپولیٹن کونسل نے برطانیہ کی تاریخ کے سب سے پہلے ایشین لارڈ میئر محمد عجیب کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔ بات بریڈ فورڈ کی ہو یا لارڈ میئر محمد عجیب کی، دونوں ترقی پسند تحریک سے جڑے ہوئے ہیں اور برطانوی تاریخ کا اہم جزو ہیں۔ تاریخ بھی ایسی جس نے نسل پرستی، فاشزم، سامراجی استحصال اور نسلی تعصبات کے خلاف، سماج میں جاری طبقاتی لوٹ کھسوٹ اور استحصال کے خلاف اہم کردار ادا کیا اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں نسلی اقلیتوں اور نظر انداز کیے گئے طبقات کو سیاسی دھارے میں لا کر برابری اور انصاف پر مبنی سماج کے قیام میں قابل فخر حصہ ڈالا۔

اس منفرد اعزاز کا اعلان بریڈ فورڈ کونسل نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں میرپور ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے محنت کش گھرانے میں پیدا ہونے والے محمد عجیب کو دینے کا اعلان کیا ہے، جو 1985 میں برطانیہ کی تاریخ کے پہلے پاکستانی، پہلے مسلمان اور پہلے ایشین لارڈ میئر منتخب ہوئے تھے۔ اس وقت محمد عجیب برطانیہ کی ہیڈ لائنز میں اس قدر آئے تھے کہ انہیں برطانیہ میں لیڈی ڈیانا کے بعد ملک کی دوسری اہم شخصیت قرار دیے دیا گیا تھا، جس کی سب سے زیادہ تصاویر بنائی گئی ہوں۔

ایک ایشین اور برٹش پاکستانی ہونے کے ناتے بریڈ فورڈ کا نام آتے ہی میرے ذہن میں تین اہم خیال آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ بریڈ فورڈ برطانیہ کا منی پاکستان کہلاتا ہے۔ ساڑھے پانچ لاکھ کی آبادی کے اس شہر میں 27 فیصد کے قریب ایشین کمیونٹی آباد ہے، 21 فیصد سے زیادہ پاکستانی ہیں۔ اس وقت وہاں سے منتخب ہونے والے 5 ممبران پارلیمنٹ میں سے 2 کا تعلق پاکستان یا پھر آزاد کشمیر سے ہے۔ دوسرا یہ کہ بریڈ فورڈ انیسویں صدی ہی میں برطانیہ کی محنت کش، انقلابی اور سوشلسٹ تحریکوں کا مرکز بن گیا تھا اور برطانیہ کی لیبر پارٹی کی بنیاد بھی بریڈ فورڈ ہی میں رکھی گئی تھی۔

1888 میں لیسٹر مل میں بہت بڑی ہڑتال ہوئی تو مزدور انجمنوں نے حکومتی ایوانوں میں نمائندے پہنچانے کا سوچنا شروع کر دیا۔ 1889 میں ٹریڈ یونینز کے ایک گروپ نے مزدور راہنماؤں جیمز بارٹلے، چارلی گلائیڈ، ایڈورڈ ہارٹلے، ویلیم ہینری ڈریو اور جوزف ہیھرسٹ کی قیادت میں بریڈ فورڈ لیبر یونین کی بنیاد رکھی۔ 1891 میں منعقد ہونے والے الیکشن میں لیبر یونین نے بریڈ فورڈ ویسٹ سے ممبر پارلیمنٹ کے الیکشن میں حصہ لیا اور اس کے امیدوار کو 33 فیصد سے زائد ووٹ ملے۔

اسی لیبر یونین نے بعد ازاں 14 سے 16 جنوری 1893 کو بریڈ فورڈ میں ولیم ہینری ڈریو کی صدارت میں ایک بڑی ملک گیر کانفرنس منعقد کر کے انڈیپینڈینٹ لیبر پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1900 میں انڈپینڈینٹ لیبر پارٹی اور ٹریڈ یونین کانگریس نے مل کر لیبر ریپریزینٹیٹو کمیٹی تشکیل دی، جسے بعد ازاں 1906 میں لیبر پارٹی کا نام دے دیا گیا۔

دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے غربت، بھوک، ننگ، بیکاری اور بے روزگاری انتہا کو پہنچ گئی جس نے عوامی ابھار پیدا کیا اور وہی بریڈ فورڈ میں بننے والی لیبر پارٹی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ گئی۔ لیبر پارٹی نے اقتدار میں آ کر برطانیہ میں سوشل سیکورٹی اور نیشنل ہیلتھ سروس کے نظام متعارف کرائے اور ملک کو ایک ویلفیئر ریاست میں ڈھال دیا۔

بریڈ فورڈ کا تیسرا اہم حوالہ 1985 میں محمد عجیب کا برطانیہ کے پہلے ایشین لارڈ میئر کے طور پر انتخاب تھا، جس نے نسلی امتیاز کو کم کیا اور ایفرو ایشین کمیونٹی کے لیے برطانوی سیاست اور ریاستی ایوانوں کے دروازے کھول دیے۔ اس انتخاب نے نہ صرف ایشین کمیونٹی کو لوکل کونسلوں اور ملکی سطح کی سیاست میں آنے کی ترغیب دی، بلکہ ایشین کمیونٹی کے لیے برطانیہ میں معاشی و سماجی محاذوں اور اعلی ملازمتوں پر بند دروازوں کو بھی کھول دیا۔ پھر آہستہ آہستہ بریڈ فورڈ ایشینز کے لیے ادبی، سیاسی، سماجی بالخصوص، روشن خیال، سامراج دشمن، نسل پرستی مخالف اور سوشلسٹ نظریات کا بھی مرکز بنتا گیا۔

محمد عجیب ایشین کمیونٹی کے لیے ایسے لیجنڈ اور رول ماڈل ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی برطانیہ میں نسل پرستی کا بت توڑنے کے لیے وقف کر دی، اور ایفرو ایشین کمیونٹیز کے لیے عزت و وقار سے زندگی گزارنا آسان بنا دیا۔ وہ ایک انتہائی با کردار، منظم، متحرک، روشن خیال ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری کمیونٹی کے لیے حقیقی رول ماڈل بن گئے۔

آزاد کشمیر کے شہر میرپور کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں چھترو کے محنت کش گھرانے میں آنکھ کھولنے والے محمد عجیب نے پرائمری تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی، اور میٹرک ڈڈیال سے کیا۔ گاؤں میں رہ کر تعلیم جاری رکھنے کے حالات نہ تھے، اس لیے وہ مزید تعلیم کے لیے اپنے چچا کے پاس کراچی چلے گیے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں ایک فیکٹری میں ملازمت مل گئی۔ اتفاق ایسا ہوا کہ چند روز بعد ہی اس فیکٹری میں بھاری گانٹھوں کی لوڈنگ کے دوران ایک مزدور حادثے کا شکار ہو گیا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

اس واقعے نے محمد عجیب کی زندگی پر گہرے اثرات ڈالے۔ محمد عجیب بچپن ہی سے حساس ذہن کے مالک تھے اور گاؤں میں غریب لوگوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر سوال اٹھاتے تھے۔ اس لیے ان کی آنکھوں کے سامنے ہونے والے اس واقع پر خاموش رہنا ممکن نہ تھا۔ انہوں نے مل کے مزدوروں کو اکٹھا کیا اور مزدوروں کی سیفٹی کے لیے اقدامات کروانے کے لیے انہیں ٹریڈ یونین بنانے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کچھ مزدوروں کو ساتھ ملایا اور حادثے کا شکار ہونے والے مزدور کے ورثا کو معاوضہ دلوانے کے لیے مل مالکان کے پاس جا پہنچے۔

اس سے ساتھی مزدوروں کا حوصلہ بڑھا اور لوگوں کا جوش دیکھ کر مل مالکان کو ان کے مطالبات ماننا پڑے، اور مناسب معاوضہ دینا پڑا۔ یہ ان کی زندگی کی پہلی بڑی کامیابی تھی، جس نے ان کی ملک کے مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات سے وابستگی، اور انقلابی سیاست کی طرف سفر میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کر لی تو اس زمانے میں برطانیہ آنے کے لیے 1100 روپے ڈیپازٹ اور 5 پونڈ فارن ایکسچینج پر ویزہ مل جاتا تھا۔ اس طرح اپنے چچا کی مدد سے وہ 1957 میں برطانیہ آنے میں کامیاب ہو گئے۔

برطانیہ پہنچ کر محمد عجیب نوٹنگھم میں آباد ہو گئے، جو ایک صنعتی علاقہ تھا اور وہاں پاکستانی کمیونٹی بھی کافی تھی۔ برطانیہ پہنچ کر مشکل حالات کا ایک نیا دور شروع ہو گیا۔ سماجی استحصال کی یہ صورت تھی کہ وہ ہفتے کے ساتوں دن کم از کم 12 گھنٹے کام کرتے تھے اور اس کا کوئی اوور ٹائم بھی نہیں ملتا تھا۔ ایک گھر میں پچیس سے تیس لوگ رہتے تھے جو مختلف شفٹوں میں کام کرتے اور شفٹوں میں ہی آرام کے لیے بیڈ ملتا تھا۔

محمد عجیب نے سب سے پہلے ایک صابن بنانے والی فیکٹری میں ملازمت کی، بعد ازاں طویل مشقت کے بعد انہیں پبلک ٹرانسپورٹ میں بس کنڈیکٹر کے طور پر ملازمت مل گئی۔ اس زمانے میں برطانوی شہری ایشینز کو ایک غلام ملک کے شہری ہی سمجھتے تھے، اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کرتے تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب محمد عجیب نے برطانیہ میں نسلی امتیاز کے خلاف بالخصوص ایشین کمیونٹی کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے خلاف کام شروع کیا اور وہ نسل پرستی کے خلاف ایک مضبوط آواز بن کر ابھرے۔ تھوڑے ہی عرصے میں ان کا شمار نسل پرستی کے خلاف ملک کی چند مضبوط آوازوں میں ہونے لگا۔ بعد ازاں انہیں نوٹنگھم ضلع کی کمیونٹی ریلیشن کمیٹی میں ہاؤسنگ افسر لگا دیا گیا۔

محمد عجیب کا 1971 میں بریڈ فورڈ آنے کا اتفاق ہوا تو انہوں نے وہاں منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ بعد ازاں 1973 میں انہیں بریڈ فورڈ میں شیلٹر ہاؤسنگ اینڈ رینیویل ایکسپیریمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی ملازمت مل گئی اور 1976 میں انہیں ادارے کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ محمد عجیب نے 1974 میں لیبر پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 1977 میں انہیں بریڈ فورڈ کمیونٹی ریلیشنز کونسل کا چیرمین بنا دیا گیا۔ انہوں نے 1979 میں پہلی مرتبہ لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر بریڈ فورڈ میٹروپولیٹن کونسل کے الیکشن میں حصہ لیا اور کونسلر منتخب ہو گئے۔

اگلے الیکشن میں انہوں نے اپنی سٹی وارڈ کی محفوظ سیٹ چھوڑ کر مقامی پارٹی لیڈر کو الیکشن لڑوایا تا کہ اسے مقامی لوگوں کے مسائل سے آگاہی ہو سکے۔ 1984 میں محمد عجیب بریڈ فورڈ کونسل میں لیبر پارٹی گروپ کے چیرمین منتخب ہو گئے۔ اور 1985 میں تو انہوں نے تاریخ رقم کر دی اور برطانیہ کے پہلے ایشین لارڈ میئر کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ 21 مئی 1985 کی صبح 11 بجے انہوں نے بریڈ فورڈ سٹی ہال کے کونسل چیمبرز میں اپنی اہلیہ محترمہ ارشاد بیگم کے ہمراہ ملک کے پہلے ایشین لارڈ میئر کے طور پر بریڈ فورڈ سٹی فائر کے حادثہ کے متاثرین کے لئے دعا کر کے پہلے ایشین لارڈ میئر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔

محمد عجیب 21 برس تک باقاعدہ کونسل کے ممبر منتخب ہوتے رہے اور 2000 میں انہوں الیکشن کی سیاست کو خیرباد کہ دیا۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ انہوں نے سیاست چھوڑ دی، وہ لیبر یارٹی، نسل پرستی مخالف تحریکوں، ترقی پسند افکار کی ترویج و ترقی میں سرگرم رہے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور آخری سانس تک جاری رہے گا۔

میں 1996 میں برطانیہ آیا تو چند ماہ بعد ہی ان سے پہلی ملاقات ہو گئی، جس کا سبب ادبی اخبار راوی کے مدیر مقصود الہی شیخ کی جانب سے منعقد کی گئی تقریب بنی۔ پھر ملاقاتیں جاری رہیں اور نظریاتی ہم آہنگی میں اضافہ ہوتا گیا، اور ہمارا رشتہ نظریاتی، سیاسی اور جدوجہد کا بن گیا۔ بعد ازاں ہم نے مل کر ساوتھ ایشین پیپلز فورم کی بنیاد رکھی اور بیسیوں تقریبات اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے۔

زندگی بھر کا کارنامہ ایوارڈ جسے برطانیہ میں لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ کہتے ہیں، ہمارے ساتھی محمد عجیب کو ایک ایسے وقت مل رہا ہے جب وہ اپنی زندگی کی 83 اننگز کھیل چکے ہیں اور چند برس پہلے کینسر جیسی موذی مرض کو بھی شکست دے چکے ہیں۔ یہ ایوارڈ نہ صرف محمد عجیب اور ان کے ساتھیوں، بلکہ برطانیہ کی پوری ایشین کمیونٹی کے لیے قابل فخر ہے۔ یہ ایوارڈ یقیناً ان کی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ان کے افکار و جدوجہد، امن، بربری، بھائی چارہ، انصاف اور سماجی تبدیلی کے سفر کو جاری رکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔

محمد عجیب بلا شبہ برطانیہ میں ترقی پسند، سیکولر اور جمہوری روایات کی ایک مضبوط آواز ہیں اور وہ ہماری نئی نسل کے لیے رول ماڈل ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی ظلم، جبر اور استحصال ہو، وہ ہمیشہ اپنے قلم، آواز، اور اپنے وجود سے اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ وہ ایک با کردار، محنتی، ایماندار، ہر انسان کی عزت کرنے والے اور ہر کسی سے محبت کرنے والے انسان ہیں۔ مسئلہ کشمیر ہو، مسئلہ فلسطین ہو یا پھر دنیا بھر میں کہیں بھی قومیتوں کے خلاف جبر ہو، محمد عجیب کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے اور وہ ہے مکمل حق خود اختیاری۔ انہوں نے دنیا میں ڈکٹیٹر شپ اور جنگی جنون کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور دنیا میں اسلحہ کی دوڑ ختم کر کے امن، محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم سب کو اپنے پیارے محمد عجیب پر بہت فخر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرویز فتح (لیڈز-برطانیہ)

پرویز فتح برطانیہ کے شہر لیذز میں مقیم ہیں اور برٹش ایروسپیس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ وہ برطانیہ میں ساوتھ ایشین ممالک کے ترقی پسندوں کی تنظیم ساوتھ ایشین پیپلز فورم کورڈینیٹر ہیں اور برطابیہ میں اینٹی ریسزم اور سوشل جسٹس کے لئے سرگرم ہیں۔

pervez-fateh has 14 posts and counting.See all posts by pervez-fateh

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *