گلگت بلتستان اسمبلی کی کمزور ترین قرار داد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلگت بلتستان اسمبلی ایک متفقہ قرارداد میں گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ قرارداد کی منظوری پر بعض حلقے بہت زیادہ بغلیں بجا رہے ہیں کہ بس اسمبلی سے قرارداد کی منظوری کی دیر تھی اب گلگت بلتستان صوبہ بن کر ہی رہے گا۔ اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی قراردادیں ماضی میں کبھی بھی مسائل کے حل میں زیادہ موثر ثابت نہیں ہوئی ہیں۔ جن کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ عبوری صوبہ کے قیام کے لئے گلگت بلتستان اسمبلی کی قراردادیں محض ایک رسمی کارروائی سے زیادہ اہمیت کی حامل نہیں۔

گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے لئے اس قرارداد کی منظوری سے قبل جو اقدامات ملکی سطح پر اٹھائے جا رہے تھے وہ مد نظر رہے تو اس مسئلے کی حقیقت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کسی بھی مسئلے کے حل کے لئے کوئی مناسب وقت ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان کو صوبہ بنائے جانے کے اسی مناسب وقت کا گلگت بلتستان کے لوگوں نے 72 سالوں تک انتظار کیا ہے اوراب جا کے وہ وقت آیا ہے کہ گلگت بلتستان کو ”عبوری“ طور پر قومی دھارے میں شامل کر لیا جائے۔

اس مقصد کے لئے ملکی مختلف ادارے ایک عرصے سے کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو ملک کا پانچواں صوبہ بنانے کے لئے تیزی سے کام شروع کر دیا تھاجس کو وفاقی کابینہ اور پھر وزیر اعظم سے حتمی منظوری لینے کے لئے سمری بھی تیار کر لی گئی تھی لیکن کشمیری قیادت کی مداخلت کے بعد اس مسئلے کو مکمل طور پر سرد خانے میں ڈال دیا گیا تھا۔ سی پیک منصوبے پر بھارت کے اعتراضات اور چین اور بھارت کے مابین گولان کے علاقے میں پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد دوست ملک چین کی بھی یہ خواہش تھی کہ گلگت بلتستان جو کہ سی پیک کا گیٹ وے ہے اس کی آئینی حیثیت سے متعلق موجود ابہام کو دور کیا جائے۔

پھر یہ مسئلہ ایک بار پھر مقتدر حلقوں میں زیر غور آنے لگا۔ 21 ستمبر 2020 کواسلام آباد میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی سربراہی میں قومی جماعتوں کے سربراہوں کے ہونے والے اجلاس میں دیگر اہم قومی امور کی طرح گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم شریک نہیں تھے جبکہ کئی وفاقی وزرا شریک تھے۔ اپوزیش کی جانب سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور چیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر راہنما شریک تھے۔

اس فیصلے پر عمل در آمد میں تاخیر اس لئے ہوئی اجلاس میں اپوزیشن کے راہنماؤں نے عسکری قیادت سے گزارش کی تھی چونکہ ابھی گلگت بلتستان میں اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں اس فیصلے پر عمل در آمد سے حکمران جماعت کو اس کا براہ راست فائدہ پہنچے گا لہذا اس پر عمل درآمد کو گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات تک روک لیا جائے اس مطالبے کو موقعے پر منظور کر لیا گیا تھا۔ انہی جاری اقدامات کا تسلسل تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے گلگت میں یکم نومبر 2020 کو یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان کوعبوری صوبہ بنانے کا ا علان کر دیا تھا۔

وزیر اعظم نے یکم دسمبر 2020 کو گلگت میں گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ خالد خورشید کی حلف برادری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں آئینی اصلاحات سے متعلق سفارشات کی تیاری کے لئے نئے سرے سے کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان سے گلگت بلتستان کے لوگوں میں اس لئے بھی مایوسی پھیلی تھی کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے دوران وفاقی وزرا تسلسل سے یہ کہتے رہے تھے کہ گلگت بلتستان اب عبوری صوبہ بن چکا ہے۔

کمیٹی سے لوگ اس لئے بھی الرجک ہیں کیونکہ ملک میں کسی بھی مسئلے پر اور بالخصوص گلگت بلتستان کے آئینی مسئلے پر ماضی میں بننے والی کمیٹیوں کا تجربہ بہت تلخ رہا ہے۔ دوسری جانب اب گلگت بلتستان اسمبلی میں منظور ہونے والی متفقہ قرارداد کے ذریعے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے اور وفاق کی سطح پر بھی اس مسئلے کے حل میں پیش رفت کا آغاز ہو چکا ہے۔ اب اس مسئلے کے حل کے لئے پیش رفت کی توقع کی جا سکتی ہے وگرنہ یہ حقیقت بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی قراردادوں پر عمل در آ ٓمد تو در کنار ان میں اٹھائے جانے والے نکات کا کسی بھی ذمہ دار ادارے کی جانب سے نوٹس لینے کی بھی روایت موجود نہیں۔

اسمبلی نے جن اہم قومی مسائل جن پر حکمرانوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے قراردادوں کی منظوری دی ہے ان میں سے سکردو کرگل روڈ کھولنے، جگلوٹ سکردو روڈ پر ٹنلز کی تعمیر، گلگت بلتستان کو ملک کا صوبہ بنانے جیسی قراردادوں کا خاص طور پر حوالہ دیا جاسکتا ہے جو اب بھی حکام کی توجہ کی طلب گارہیں۔ جہاں تک عبوری صوبہ بنانے سے متعلق اسمبلی کی قرارداد کا تعلق ہے یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی سے اس مطالبے کے ساتھ منظور کردہ یہ پہلی قراداد نہیں ہے بلکہ آج کی اسمبلی کی نسبت ماضی کی اسمبلیوں نے اس موضوع پر نہ صرف ایک سے زیادہ قرارداوں کی منظوری دی ہے بلکہ زیادہ واضح اور غیر مبہم انداز میں قراردادوں کی منظوری دی ہے۔

ماضی کی اسمبلیوں سے پاس کردہ قراداوں میں زیادہ واضح الفاظ میں گلگت بلتستان کو ملک کا پانچواں صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قابل توجہ پہلو یہ بھی ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی موجودہ قرارداد کا لب و لہجہ معذرت خواہانہ اور مبہم ہے۔ اس قرارداد میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور اس کی حساسیت کی نسبت مسئلہ کشمیر کا زیادہ ذکر کیا گیا ہے۔ آئین میں ترمیم کا مطالبہ بھی دو ٹوک اور واضح انداز میں نہیں کیا گیا ہے بلکہ آئین میں مناسب ترمیم اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں بھی مناسب نمائندگی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

آئین کے متعلقہ شقوں میں ترمیم اور قومی اسمبلی اور سینیٹ میں براہ راست نمائندگی گلگت بلتستان کا بنیادی مسئلہ ہے۔ قراردادمیں صاف صاف الفاظ میں ملکی آئین میں ترمیم اور قومی اسمبلی اورسینیٹ میں نمائندگی کا مطالبہ ہونا چاہیے تھا۔ قراداد کا مسودہ تیار کرنے سے پہلے ماضی کی اسمبلیوں کی قرادادوں اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کامطالعہ کیاہوا ہوتا تو آئین میں واضح ترمیم اور قومی اسمبلی اور سینیٹ میں براہ راست نمائندگی کا براہ راست مطالبہ کرنے سے نہ گھبراتے۔

قرارداد میں ”مناسب ترمیم“ اور پارلیمنٹ میں ”مناسب نمائندگی“ کی اصطلاح سمجھنے سے قاصر رہا۔ مناسب نمائندگی کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ حکمران چاہے تو گلگت بلتستان کو پارلیمنٹ اور دیگر آئینی اداروں میں بطور ممبر نمائندگی دے اور چاہے تو بطور مبصرکے شامل کرے۔ اسی طرح آئین میں مناسب ترمیم کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ مناسب سمجھے تو آئین کے آرٹیکل ون بی میں بھی ترمیم کے ذریعے گلگت بلتستان کو عملی طور پر پاکستان میں شامل کرے اور مناسب نہ سمجھے تو صرف ان شقوں میں ترامیم کی جائیں جن میں اسمبلی ارکان کی تعداد کا ذکر موجود ہے آرٹیکل ون بی میں ترمیم کر کے پاکستان کی جغرافیائی حدود میں بے شک شامل نہ کرے۔

قراداد میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ کہیں گلگت بلتستان میں آئینی اصلاحات کا نفاذ کرتے ہوئے حکومت اتنی فراخدلی کا مظاہرہ نہ کر جائے کہ اقوم متحدہ کی کشمیر سے متعلق قراردادوں کو ہی فراموش کربیٹھے۔ لہذا قراداد میں حکومت پاکستان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان سے متعلق پارلیمنٹ سے بل منظور کراتے ہوئے اس بات کا خاص طور پر خیال رکھے کہ اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر سے متعلق قردادوں کی روشنی میں پاکستان کا اصولی موقف برقرار رہے۔

قرارداد تیار کرنے والوں کو غالباً یہ خدشہ تھا کہ گلگت بلتستان کو حقوق دیتے وقت کہیں حکومت جذباتی نہ ہو جائے اور کچھ زیادہ ہی دے جائے لہذا سوچ سمجھ کر اصلاحات تیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ قرارداد کا متن کچھ اس طرح ہے۔ ”گلگت بلتستان کا یہ مقتدر ایوان عوام کی دیرینہ خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت، وزیر اعظم پاکستان اور دیگر ریاستی ادروں کے حکام بالا سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ کا درجہ دے کر قومی سمبلی، سینیٹ اوردیگر وفاقی اداروں میں مناسب نمائندگی دی جائے۔

عبوری صوبہ کا درجہ دینے کے سلسلے آئین پاکستان میں مناسب ترامیم کا بل پارلیمنٹ سے منظور کرایا جائے اور اس کا خیال رکھا جائے کہ مذکورہ ترامیم سے اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر سے متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں پاکستان کا اصولی موقف برقرار رہے۔ یہ مقتدر ایوان اس بات کا بھی اعادہ کرتا ہے کہ گلگت بلتستا ن کے عوام مقبوضہ کشمیرمیں اپنے بھائیوں کی جد و جہد آزادی میں اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔“

اس قراداد کی نسبت ماضی کی اسمبلیوں نے گلگت بلتستان کو ملک کا صوبہ بنانے کے حوالے سے جو قراردادیں منظور کی ہیں وہ زیادہ واضح، غیر مبہم اور دوٹوک مطالبات پر مشتمل ہیں۔ جن میں سے چند ایک قراردادوں کا ہم ذیل میں جائزہ لیتے ہیں۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے 12 ستمبر 2012ء کو ہونے والے اجلاس میں اس وقت کے وزیرترقیات و منصوبہ بندی راجہ اعظم خان، ارکان اسمبلی محمدایوب شاہ، دیدار علی، مطابعت شاہ، مولانا سید سرور شاہ، آغا سید محمد علی شاہ اورآمنہ انصاری نے مشترکہ طور پر یہ قرارداد اسمبلی میں پیش کی جس کی اسمبلی نے منظوری دی۔

قراداد کے الفاظ یہ ہیں ”قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستا ن کا یہ مقتدر ایوان 74 ہزار 2 سو مربع کلو میٹر علاقے پرپھیلے ہوئے تقریباً 20 لاکھ آبادی کے دیرینہ حسرت و خواہش کی ترجمانی کرتے ہوئے اسلامی مملکت خداداد پاکستان کی حکومت سے پر زور الفاظ میں مطالبہ کرتا ہے کہ وہ عوامی جذبات و خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کو وطن عزیز کے آئینی صوبے کی حیثیت دے دے۔ گلگت بلتستان کے بہادر سپوتوں نے گلگت بلتستان کو خود سے آزاد کر کے اس کایک طرفہ پاکستان کے ساتھ الحاق کر دیا۔

یہ ا مر بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام گزشتہ 65 سالوں کے دوران بیشتر اوقات میں احساس محرومی اور مایوسی کا شکار بھی رہے لیکن انھوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا تاآنکہ 2009 ء میں اسے ایمپاورنمنٹ اینڈسلف گورننس آرڈر کے تحت کسی حد تک خودمختاری حاصل ہوئی لیکن یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی آخری منزل آئینی صوبہ کاحصول ہے۔ باری تعالی کی بارگاہ سے مکمل امید ہے کہ حکومت پاکستان یہاں کے صابر وبہادر عوام کی خواہشات و جذبات کے عین مطابق گلگت بلتستان کو ایک آئینی صوبہ کی حیثیت دے کر وطن عزیز کے قومی دھارے میں شامل کرے گی تاکہ یہاں کے عوام کو بھی ترقی کے تمام مواقع میسر ہوں جو ملک کے دوسرے صوبوں کو حاصل ہیں“ ۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے 8 دسمبر 2014 کو ہونے والے اجلاس میں ارکین اسمبلی محمد ایوب شاہ اور عبدالحمید کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کی ارکان کی اکثریت نے منظوری دی۔ قرارداد کے الفاظ یہ ہیں ”یہ ایون وفاقی وزرا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے اور اس بات کی بھر پور مذمت کرتا ہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے۔ وفاقی وزرا کا یہ بیان جنگ آزادی کے شہیدوں، غازیوں اور مجاہدوں کے شاندار اور ناقابل فراموش جذبہ حب الوطنی کے سراسر منافی ہے۔

گزشتہ کئی سالوں سے گلگت بلتستان میں بڑے بڑے ہائیڈل پروجیکٹس پر منصوبہ بندی ہو رہی ہے اور چائنا سے موٹر وے اور ریلووے ٹریک کی باتیں ہو رہی ہیں ایسے میں اس علاقے کی آئینی حیثیت کے بارے میں مشکوک اورمتضادبیانات داغنا یہاں کے غیور عوام کے مالی وجانی قربانیوں سے انحراف اور محب وطن عوام کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 1999 ء میں پاکستان کے دیگر صوبوں کے شہریوں کے مساوی بنیادی بنیادی حقوق اور سیلف رول کا حق گلگت بلتستان کے عوام کو دینے کاتاریخی فیصلہ کیا ہے۔

موجودہ حکومت کے وزرا ء کا غیر ذمہ دارانہ بیانات سراسر اس فیصلے سے بھی انحراف ہے۔ گلگت بلتستان کا یہ مقتدر ایوان اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے اور یہاں کے عوام اپنے آپ کو محب وطن شہری سمجھتے ہیں اور حکومت وقت سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کی دیرینہ خواہش کے مطابق اس علاقے کو آئینی صوبہ کی حیثیت دے کر مکمل حقوق دیے جائیں نیز قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی دی جائے تاکہ یہاں کے عوام علاقے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہوں“

اسی طرح گلگت بلتستان اسمبلی اجلاس منعقدہ 11 اگست 2015 ء میں یہ قرارداد رکن اسمبلی کیپٹن (ر) محمد شفیع اور عمران ندیم نے پیش کی اور اسمبلی نے متفقہ اس کی منظوری دی۔ قراداد کے الفاظ یہ ہیں ”گلگت بلتستان کا 72 ہزار مربع کلو میٹر پر مشتمل علاقہ 1948 ء میں ڈوگروں کے تسلط سے آزاد کرالیا گیا اور جذبہ ایمانی کے تحت مملکت خداداد پاکستان میں شامل کیا گیا۔ بدقسمتی سے تاحال اس خطے کو آئینی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام نے اس مقتدر ایوان کے اراکین کو جہاں حق رائے دہی کے تحت ووٹ دے کر منتخب کیا ہے، حکومت کو چاہیے کہ گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق دیتے ہوئے قومی اسمبلی، سینیٹ آف پاکستان اورتمام قومی اداروں میں نمائندگی اقوام متحدہ کے قرارداودوں کی روشنی میں کشمیر کا فیصلہ ایک منصفانہ اورآزادانہ رائے شماری کے ذریعے ہونے تک کے لئے دیا جائے۔ خصوصاً جبکہ حکومت وقت کی نذاکت اور ضرورت کے پیش نظر اس خطے کو آئینی حقوق دینے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔ لہذا گلگت بلتستان کا یہ مقتدر ایوان بھر پور مطالبہ کرتا ہے کہ گلگت بلتستان کو فی الفور طور پر آئینی صوبے کی حیثیت دے کر یہاں کے عوام کی دیرینہ محرومی کو دور کیا جائے“ ۔

پچھلے نو سالوں سے گلگت بلتستان اسمبلی اپنی قراردادوں کے ذریعے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے مطالبات کرتی چلی آ رہی ہے۔ لیکن ابھی تک اس معاملے کے حل کے لئے سنجیدہ اور ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ اب کی بار جیسا کہ ذکرہوا ہے ملکی اور قومی مفاد میں اس مسئلے کے حل کے لئے اقدامات جاری ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے کئی ایک کمیٹیاں وفاقی اور صوبائی سطح پر کام کرہی ہیں۔ صوبائی سطح پر خود وزیر اعلی کی سربراہی میں ایک پارلیمانی کمیٹی قائم ہے جس مختلف سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد اسمبلی کا قرارداد کا مسودہ تیار کیا تھا۔

ایک کمیٹی وفاقی سطح پر وفاقی وزیرگلگت بلتستان و امور کشمیر علی امین گنڈا پور کی سربراہی میں قائم ہے جس میں آٹارنی جنرل، خزانہ، خارجہ، دفاع اور پارلیمانی امور کے وفاقی سکریٹرز، وزیر اعلی گلگت بلتستان اور گلگت بلتستان کے چیف سکریٹری، گلگت بلتستان کونسل کے جوائنٹ سیکرٹری اور سکیورٹی ادروں کے نمائندے شامل ہیں۔ 15 مارچ 2021 کو وزیر اعظم کے پارلیمانی امور کے مشیر ڈاکٹر بابر اعوان اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی ہونے والی ملاقات میں طے پایا ہے کہ گلگت بلتستان میں آئینی اصلاحات پر مشاورت کے لئے قومی اسمبلی کے سپیکر کی سربراہی میں ایک پارلیمانی کمٹی تشکیل دی جائے گی جس میں حکومتی اور حزب اختلاف دونوں بنچوں کو نمائندگی دی جائے گی۔ کمیٹی اس ضمن میں مسودہ قانون کی تیاری پر کام کرے گی۔ یوں ابھی گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے جاری کوششوں کو منطقی انجام تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply