گومل یونیورسٹی سٹوڈنٹس کا فٹورے برباد مت کرے
سوشل میڈیا پر معتبر ذرائع کے توسط سے گومل یونیورسٹی ”ڈیئر اسماعیل خان“ کا ایک سرٹیفکیٹ نظر سے گزرا ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیا الدین کے دستخط سے جاری ہوا ہے۔ اس سرٹیفکیٹ میں لکھا ہے کہ
INSTITUTE OF COMPUTING AND INFORMATION TECHNOLOGY, GOMAL UNIVERSITY, DEAR ISMAIL KHAN
CERTIFICATE
Fine Rs 5000 of the following students of this Institute for lestening of music in the department ….
بعض نادان لوگ سوچے سمجھے بغیر اس پر الٹے سیدھے اعتراض کر رہے ہیں۔ آئیے ہم باری باری ان اعتراضات کا رد کرتے ہیں۔
پہلا اعتراض تو یہ کیا جا رہا ہے ڈیئر اسماعیل خان کیوں لکھا ہے؟ بھیا وہ آپ کی طرح مغرب زدہ نہیں ہیں جو انہیں اپنی دھرتی سے پیار نہ ہو۔ اور پیار میں بندہ ڈیئر نہیں کہتا تو کیا گدھا کہتا ہے؟ ڈیرہ اسماعیل خان کو ڈیئر اسماعیل خان لکھ کر اس ادارے نے اپنے شہر سے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔ بلکہ ہمیں یقین ہے کہ اردو میں ڈائریکٹر صاحب اسے ڈیئر اسمائل خان لکھتے ہوں گے اور اسے دیکھتے ہی ان کے لبوں پر مسکراہٹ چھا جاتی ہو گی۔
دوسرا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ لفظ لیسٹننگ یہاں استعمال کرنے کی کیا تک تھی؟ پہلے دیکھتے ہیں کہ یہ لفظ کیا ہے۔ لیسٹ، انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے کسی ناگوار چیز کا تدارک کرنا، یعنی اس انگریزی جملے میں ان طلبا کو انسٹی ٹیوٹ کے اندر موسیقی کا تدارک کرنے پر فائن کہا جا رہا ہے یعنی شاباش دی جا رہی ہے۔ اوپر موجود لفظ سرٹیفیکٹ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تعریفی سند ہے۔ بعض افراد کہہ رہے ہیں کہ یہاں فائن کا مطلب جرمانہ ہے۔ یہاں فائن کا مطلب جرمانہ ہوتا تو اوپر عنوان میں سرٹیفکیٹ کی بجائے پنلٹی لکھا ہوتا۔
جہان تک انگریزی گرائمر کی ٹانگ توڑنے کا تعلق ہے، تو اس سے بھی وطن سے محبت اور فرنگیوں کی زبان سے بے زاری چھلک رہی ہے۔ فرنگیوں سے اپنی غلامی کا ایسے ہی انتقام لینا چاہیے۔
اچھا اگر ہم منفی ذہنیت سے کام لیتے ہوئے بھی سوچیں اور فرض کر لیں کہ ڈیئر اور لیسٹننگ سپیلنگ کی غلطیاں ہیں، اور یہ درحقیقت موسیقی سننے پر جرمانہ ہوا ہے، تو پھر بھی یہ ایک قابل تعریف امر ہے۔ اس صورت میں ہمیں یقین ہے کہ یہ سٹوڈنٹ اپنے کاندھوں پر ایک بڑا سا سٹیریو اٹھائے ڈپارٹمنٹ میں بلند آواز سے موسیقی سنتے پھر رہے ہوں گے۔ ہم نے انگریزی فلموں میں یہ منظر دیکھ رکھا ہے، عین ممکن ہے کہ سٹوڈنٹس نے اسی کی نقل کی ہو۔ لیکن ہم پانچ ہزار روپے کے جرمانے سے بہرحال اتفاق نہیں کرتے۔ اگر موسیقی کو خلاف شریعت سمجھ کر اس پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے تو بہتر ہوتا کہ ان سٹوڈنٹس کو تین ماہ کے تبلیغی دورے پر جانے کی سزا دی جاتی، اس سے وہ ہدایت بھی پاتے اور ڈائریکٹر صاحب کو ثواب بھی ملتا۔
سوشل میڈیا پر ایک واقعہ پڑھا تھا۔ بخدا ہم نے اسے ہمیشہ لطیفہ سمجھ کر پڑھا مگر اب شبہ ہونے لگا ہے کہ کہیں وہ گومل یونیورسٹی کے انفارمیشن ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ کے محب وطن لوگوں کا سچا واقعہ نہ ہو۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ یونیورسٹی کی کلاس میں تمام سٹوڈنٹ خاموش بیٹھے تھے۔ آج معائنے کے لیے وائس چانسلر آنے والے تھے۔
وائس چانسلر نے بورڈ پر لکھا
nature
اور سٹوڈنٹس سے پوچھا کیا لکھا ہے؟
باری باری سب سٹوڈنٹس نے کہا : ”نٹورے“
وائس چانسلر کو بڑا غصہ آیا آفس گئے اور انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کو طلب کیا۔ نہایت غضب کے عالم میں پوچھا ”یہ کیا پڑھاتے ہو؟ ایسی انگلش؟ میں تمہیں نوکری سے نکلوا دوں گا“ ۔
ڈائریکٹر صاحب نے پریشان ہو کر کہا ”سر ایسا نہ کریں ورنہ میرا فٹورے برباد ہو جائے گا“
تو گومل یونیورسٹی ڈیئر اسمائل خان کے وائس چانسلر صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اپنے طلبا کا فٹورے یوں برباد مت کریں، واضح کر دیں کہ یہ تعریفی سند ہے یا خلاف شریعت کام پر جرمانہ تاکہ یہ بحث ختم ہو اور تمام سٹوڈنٹ اپنی اپنی نٹورے کے مطابق اپنے اپنے فٹورے پر کام کریں۔


