میڈرڈ ٹریڈ مارک سسٹم کیا ہے؟ پاکستان کی اس میں شمولیت سے ملکی مصنوعات کو کیسے تحفظ ملے گا؟

تنویر ملک - صحافی، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ٹیکسٹائل

Getty Images

وزیراعظم پاکستان کے مشیر تجارت رزاق داؤد نے گذشتہ ماہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ پاکستان میڈرڈ ٹریڈ مارک سسٹم میں شامل ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سسٹم میں شامل ہونے سے نہ صرف پاکستان میں بننے والی مصنوعات کو بین الاقوامی منڈی میں فائدہ حاصل ہو گا بلکہ یہ دنیا کے مشہور برانڈز کو پاکستان میں لانے میں مددگار ثابت ہو گا۔

مشیر تجارت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پیغام میں کہا کہ یہ سسٹم بین الاقوامی سطح پر ٹریڈ مارک کے تحفظ کا آسان اور سستا ذریعہ ہے۔

پاکستان میں لذیذہ برانڈ، جو کھیر، مصالحے اور پیسٹ بناتا ہے، کے مالک آغا شہاب نے میڈرڈ سسٹم میں پاکستان کی شمولیت کو خوش آئند قرار دیا۔

انھوں نے کہا ان کی تیار کردہ مصنوعات دنیا کے مختلف ممالک میں برآمد ہوتی ہیں اور پاکستان کے ٹریڈ مارک سسٹم میں نہ ہونے کی وجہ سے انھیں مسائل کا بھی سامنا رہا اور ان کی مصنوعات کے نام پر جعلی یا ملتے جلتے ناموں کی مصنوعات بھی بھیجی جاتی رہی ہیں۔

ادھر ملک میں کام کرنے والی الکرم ٹیکسٹائل نے بین الاقوامی سطح پر اپنے برانڈ کے لیے پاکستان کی میڈرڈ سسٹم میں شمولیت کو ایک انتہائی مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ الکرم ٹیکسٹائل کے مینجنگ ڈائریکٹر فواد انور نے کہا کہ میڈرڈ سسٹم میں پاکستان کی شمولیت سے ان کے برانڈ کو بھی تحفظ حاصل ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کو گلابی نمک کے حقوق محفوظ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

باسمتی چاول پر انڈیا کا دعویٰ پاکستانی برآمدات کے لیے کتنا بڑا خطرہ

انڈیا، بنگلہ دیش میں لاک ڈاؤن سے پاکستان کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟

میڈرڈ ٹریڈ مارک سسٹم کیا ہے؟

پاکستان میں سرکاری سطح پر کام کرنے و الے ادارے حقوق دانش یعنی انٹیلیکچول پراپرٹی آرگنائزیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میثاق عارف نے بتایا کہ عالمی ادارہ حقوق دانش یعنی ورلڈ انٹیلیکچول پراپرٹی آرگنائزیشن (ڈبلیو آئی پی او) اقوام متحدہ کے ماتحت کام کرنے والا ادارہ ہے اور اس کے زیر نگرانی میڈرڈ ٹریڈ مارک سسٹم کام کرتا ہے۔

یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اس عالمی تنظیم کے اراکین ممالک اس معاہدے کے تحت ٹریڈ مارک کو تحفظ دینے کے پابند ہیں۔

اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایک کمپنی اپنی تیارہ کردہ مصنوعات پر ٹریڈ مارک کا حق محفوظ کرنا چاہتی ہے تو وہ اس تنظیم کے رکن ممالک کے ملکی سطح پر کام کرنے والے ادارہ حقوق دانش کو درخواست دے گی اور پھر یہ درخواست عالمی تنظیم کے پاس جائے گی اور وہ اس کا جائزہ لے کر کہ اس میں کوئی مسائل تو نہیں، اس کا ٹریڈ مارک اس کمپنی کے نام محفوظ کر دے گا۔

میثاق عارف نے بتایا کہ ملکی سطح اور بیرونِ ملک دونوں جگہوں پر ٹریڈ مارک کے حقوق اس کمپنی کے نام محفوظ ہوں گے۔

برانڈ فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیگٹو شیخ راشد عالم نے اس سلسلے میں کہا کہ ان کا ادارہ عالمی ادارہ حقوق دانش میں مبصر کے طور پر کام کرتا ہے اور میڈرڈ سسٹم میں پاکستان کی شمولیت کے لیے وہ عرصہ دراز سے کوشاں تھے۔

انھوں نے کہا کہ آج دنیا میں ’نالج اکانومی‘ اور ’نالج انڈسٹری‘ یعنی معلومات پر مبنی معیشت اور معلومات پر مبنی صنعت کا دور ہے اور تحفظ حقوق دانش بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے اور میڈرڈ سسٹم کے ذریعے ٹریڈ مارک کا تحفظ اس کا حصہ ہے۔

حقوق دانش کی کتنی قسمیں ہیں؟

حقوق دانش کے شعبے میں مختلف قسم کے حقوق ہوتے ہیں جو تحفظ حقوق دانش کے قوانین کے تحت عالمی اور ملکی سطح پر محفوظ بنائے جاتے ہیں۔

میثاق عارف نے اس سلسلے میں حقوق دانش کی قسموں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان میں ایک کاپی رائٹ حقوق ہوتے ہیں جو تخیلقی چیزوں پر لاگو ہوتے ہیں۔

’مثال کے طور پر کوئی فلم، گانا یا تحریر لکھی گئی ہو تو اس کے حقوق کاپی رائٹ کے تحت محفوظ بنائے جاتے ہیں۔ ٹریڈ مارک کے حقوق چیزوں کے ناموں، علامات یا ٹائٹل پر محفوظ بنائے جاتے ہیں کہ کسی کمپنی کا کوئی برانڈ ہے تو وہ ٹریڈ مارک حقوق کے ذریعے اسے اپنے نام پر محفوظ کرتا ہے۔‘

اسی طرح کوئی نیا ڈیزائن کسی نے ایجاد کیا یا دوا سازی کے شعبے میں کسی دوائی کا فارمولہ ہو تو اسے پیٹنٹ (کسی ایجاد کے حقوق کسی کے نام محفوظ کرنا) کے تحت تحفظ دیا جاتا ہے۔

میثاق عارف نے بتایا کہ حقوق دانش میں جغرافیائی انڈیکیشنز (جی آئی) بھی شامل ہیں جس میں کسی چیز کے اس کے کسی خاص علاقے، موسم اور زمین وغیرہ کے لحاظ سے حقوق محفوظ بنائے جاتے ہیں کہ فلاں چیز صرف ایک خاص علاقے اور زمین سے ہی وابستہ ہے۔

گروسری

Getty Images
پاکستان کا ٹریڈ مارک سسٹم میں نہ ہونے کی وجہ سے مسائل کا سامنا رہا اور کئی پاکستانی مصنوعات کے نام پر جعلی یا ملتے جلتے ناموں کی مصنوعات بھی بھیجی جاتی رہی ہیں

میڈرڈ ٹریڈ سسٹم میں شمولیت کا کیا فائدہ ہے؟

مشیر تجارت رزاق داؤد کے سماجی رابطے پر پیغام کے مطابق پاکستان کی اس سسٹم سے شمولیت ملکی مصنوعات کو بین الاقوامی مارکیٹ میں فائدہ حاصل ہو گا تو دوسری جانب یہ ملک میں بین الاقوامی برانڈز کو لانے میں بھی مدد گار ثابت ہو گا۔

شیخ راشد عالم نے اس سلسلے میں کہا کہ یہ دو طرفہ سسٹم ہے۔ ’ایک جانب پاکستان میں کام کرنے والی کوئی کمپنی اپنی مصنوعات کو ٹریڈ مارک سسٹم کے تحت اپنے نام پر رجسرڈ کرائے گی تو عالمی مارکیٹ میں اس کے سوا یہ مصنوعات بیچنے کا حق کسی کے پاس نہیں ہو گا۔‘

’اسی طرح انٹرنیشنل برانڈز کو بھی پاکستان میں یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اس سسٹم کے ذریعے رجسٹرد کرا کر اپنی چیزیں فروخت کر سکیں گے اور کسی دوسرے کو یہ اختیار حاصل نہ ہو گا کہ وہ جعل سازی سے ان کی چیزوں کو بیچ سکے۔‘

شیخ راشد نے کہا کہ میڈرڈ سسٹم کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی مصنوعات کو مسئلہ درپیش تھا اور بین الاقوامی مارکیٹ میں کوئی بھی ان چیزوں کو اپنے نام سے بیچ سکتا تھا۔

میثاق عارف نے اس سلسلے میں کہا کہ اس پیشرفت سے ملک میں معاشی سرگرمی کو فروغ حاصل ہو گا۔

’مقامی کمپنیوں کو بین الاقوامی مارکیٹ میں ٹریڈ مارک حقوق کے تحت تحفظ حاصل ہو گا تو انٹرنینشل برانڈز کی آمد بھی اس سلسلے میں سودمند ثابت ہو گی۔ اسی طرح رجسٹریشن فیس کی حکومت کو آمدنی ہو گی تو دوسری جانب قانون کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے بھی اس میں فائدہ ہے کیونکہ رجسٹریشن کے عمل میں ان کی قانونی معاونت درکار ہو گی۔‘

الکرم ٹیکسٹائل کے فواد انور نے بتایا کہ پاکستان کی میڈرڈ سسٹم میں شمولیت ضروری تھی کیونکہ میڈرڈ سسٹم میں نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے مختلف مسائل تھے جس میں سے سب سے بڑا مسئلہ ہمارے برانڈز کا تحفظ تھا۔

انھوں نے کہا کہ الکرم ٹیکسٹائل کی بیڈ شیٹ اس کا عالمی سطح پر برانڈ ہے ’لیکن میڈرڈ سسٹم میں نہ ہونے کی وجہ سے جب ہمارے برانڈ کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو یہ ہمارے لیے بہت سارے مسائل کی وجہ بنتی ہے۔‘

گروسری سٹور

Getty Images
پاکستان میں کام کرنے والی کوئی کمپنی اپنی مصنوعات کو ٹریڈ مارک سسٹم کے تحت اپنے نام پر رجسرڈ کرائے گی تو عالمی مارکیٹ میں اس کے سوا یہ مصنوعات بیچنے کا حق کسی کے پاس نہیں ہو گا

میڈرڈ ٹریڈ مارک سسٹم پرعمل درآمد کب شروع ہوگا؟

مشیر تجارت کے پیغام کے مطابق پاکستان کی میڈرڈ ٹریڈ مارک سسٹم میں شمولیت اس سال مئی کی 24 تاریخ سے مؤثر ہو گی۔

ادارہ حقوق دانش کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میثاق عارف نے بتایا کہ پاکستان نے رسمی طور پر تو اس سسٹم میں شمولیت کر لی ہے۔

’اب ہم اس کی تیاری کریں گے کہ اس سسٹم کے لیے درکار مطلوبہ انفراسٹرکچر، مہارت اور میکنزم بنائیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس سسٹم میں شامل ہونے کی درخواست بھی ان کے ادارے نے دی تھی جسے وفاقی حکومت نے منظور کر کے عالمی ادارہ حقوق دانش کے سامنے پیش کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں حقوق دانش سے متعلق قوانین میں ترمیم کرنی پڑے گی جس کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے اور اس سسٹم میں پاکستان کی شمولیت کے صحیح طور پر مؤثر ہونے میں پانچ سے چھ مہینے لگیں گے۔

حقوق دانش کی پاکستان میں موجودہ صورتحال کیا ہے ؟

پاکستان میں حقوق دانش کے سلسلے میں اکثر اوقات شکایات ابھرتی رہتی ہیں۔ ملک میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے چیمبر نے گذشتہ برس کے آخر میں ایک سروے میں اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ کہ حقوق دانش کی خلاف ورزی کی وجہ سے ان کمپنیوں کو آمدنی میں پانچ سے 20 فیصد کے درمیان نقصان ہو رہا ہے۔

اس سلسلے میں شیخ راشد نے کہا کہ اگرچہ گزشتہ چند برسوں میں اس میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن صورتحال مثالی نہیں۔

انھوں نے کہا کہ سب سے بڑی وجہ تو حقوق دانش کے قوانین ہیں، جو کاغذوں پر تو موجود ہیں لیکن ان کا نفاذ نہیں ہوتا۔

اس بارے میں میثاق عارف نے کہا کہ پاکستان میں گذشتہ چند برسو میں بہت بہتری آئی ہے۔

انھوں نے امریکہ کی جانب سے جاری کردہ واچ لسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں دنیا کے مختلف ممالک میں حقوق دانش کی خلاف ورزی پر مختلف ملکوں کو شامل کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق جن ممالک میں حقوق دانش کی بہت زیادہ خلاف ورزی ہو انھیں ترجیحی واچ لسٹ میں رکھا جاتا ہے اور جہاں چھوٹی چھوٹی خلاف ورزیاں ہوں انھیں واچ لسٹ میں رکھا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان چار سال قبل ترجیحی واچ لسٹ سے باہر آ گیا تھا جس میں انڈیا اور چین ابھی بھی موجود ہیں جبکہ پاکستان اپنی پوری کوشش کر رہا ہے کہ واچ لسٹ سے بھی باہر آ جائے۔

انھوں نے حقوق دانش سے متعلق کیسز کے فیصلے کے بارے میں بتایا کہ اس کے لیے خصوصی حقوق دانش ٹریبونل قائم کیے گئے ہیں جس کے ذریعے اس نوعیت کے کیسز کا جلد سے جلد فیصلہ ہو سکے۔

البتہ شیخ راشد عالم نے ان ٹریبونل کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پنجاب اور سندھ میں دو ٹریبونل قائم کیے گئے تھے تاہم حالت یہ ہے کہ سندھ ٹریبونل میں آج تک کوئی جج ہی مقرر نہیں کیا جا سکا اور بینکنگ ٹریبونل کے ایک جج کو اضافی ذمہ داری دی گئی جو اس ٹریبونل میں زیر سماعت مقدمات کو بہت کم وقت دے پاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جب ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہیں تو وہ ٹریبونل کی طرف بھیج دیتے ہیں۔

انھوں نے سرکاری سطح پر قائم ادارہ حقوق دانش کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کا ڈائریکٹر جنرل چھ مہینے سے تعینات نہیں کیا جا سکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18536 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp