نئی پابندیاں شرعی ہیں یا غیر شرعی؟
تازہ ترین شائع ہونے والی خبر کے مطابق حکومت نے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے گرے لسٹ سے نکالنے کی شرط جس کے تحت تمام مساجد کاریکارڈ طلب کیا گیا تھا، جس پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ مساجد کے منتظمین کو چندے کے حصول، زیر ملکیت دکان یا گھر کی تفصیلات دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ حکومت سندھ نے صوبے بھر کی تمام مساجد کے ذرائع آمدن معلوم کرنے کے لیے فارم جاری کردیے ہیں۔ صوبائی محکمہ اوقاف نے تمام مساجد کو سوالنامہ بھی ارسال کر دیاہے۔
محکمہ اوقات کی جانب سے مساجد کے منتظمین کو چندے کے حصول، زیر ملکیت دکان، گھر کی تفصیلات دینے کا حکم دیا گیا ہے اور تمام آئمہ مساجد کو جمعے کے جمعے ہونے والے چندے اور اخراجات کی تفصیل فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ جس پر علمائے کرام نے حکومت کے سوال نامے کو غیر شرعی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فارم اور سوالنامے کو مسترد کر دیا ہے۔ ذرئع بتاتے ہیں کہ مساجد سے ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے تحت تفصیلات مانگی گئی ہیں، جس کے بعد محکمہ اوقاف مساجد سے تفصیلات حاصل کر رہا ہے۔
کسی چیز کا غیر قانونی ہونا یا اسے غیر شرعی قرار دے کر مسترد کر دینے کا معاملہ ایک مختلف نوعیت کا معاملہ ہے لیکن جو بات غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں لاکھوں کی تعداد سے بھی کہیں زیادہ مساجد ہیں جن میں چند مساجد ہی محکمہ اوقاف کے تحت آتی ہیں۔ ملک بھر کی 90 فیصد سے بھی زیادہ مساجد وہ ہیں جنھیں مخیر افراد کی امداد نے ان کی بنیاد سے لے کر مسلسل جاری تعمیراتی کام تک سنبھال ہوا ہے۔ ان مساجد کے تمام اخراجات کسی بھی حکومت پر کبھی کوئی بوجھ نہیں رہے ہیں۔
ان میں گلی محلوں کی چھوٹی چھوٹی مساجد سے لے کر بڑے بڑے دارالعلوم اور مدرسے بھی شامل ہیں جن کے ہر قسم کے اخراجات مخیر حضرات ہی پوری کرتے ہیں یا اہل محلہ چندہ دے کر اپنے اپنے محلوں کی مساجد کو کسی نہ کسی طرح قائم رکھنے میں کامیاب ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے جو بھی پرفارمے یا سوال نامے جاری کیے ہیں آیا وہ کن مساجد اور کن مدرسوں کے لئے جاری کیے ہیں۔ اگر یہ پرفارمے ”سرکاری“ مساجد اور سرکار کے وظیفہ خوار آئمہ کرام کے لئے جاری کیے گئے ہیں تو یہ پرفارمے اور سوال نامے از خود ایک بہت بڑا سوال ہیں اس لئے کہ جو مساجد ہیں ہی سرکار کی تحویل میں اور جس کے سارے منتظمین سرکار سے ہی وظیفہ حاصل کرتے ہیں تو برس ہا برس سے اس کا سارا ریکارڈ بہر صورت سرکار کے علم میں ہونا چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہے تو محکمہ اوقاف سے ایسا نہ کرنے اور مکمل ریکارڈ نہ رکھنے کی باز پرس کر کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لانی چاہیے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسی مساجد جو چلائی تو سرکار کے تحت جا رہی ہوں پھر بھی انتظامیہ کچھ ایسے ”کھاتے“ بھی رکھتی ہو جو سرکار کے علم میں نہ ہوں، نہ صرف تعجب خیز بات ہے بلکہ یہ سرکار کی غفلت کی ایسی انتہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
اگر محکمہ اوقاف کے تحت چلنے والی مساجد کی انتظامیہ مساجد کے لئے سرکار کے علاوہ بھی کچھ اور ”کھاتے“ رکھتے ہوں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ مساجد اور ادارے پر ہی خرچ ہوتے ہوں۔ کیا انتظامیہ سب کو بائی پاس کر کے ان کو آپس میں تقسیم کرنے کے جرم میں ملوث نہیں ہو سکتی۔
دوسری جانب ایسی مساجد جن کو نہ تو سرکار نے بنایا ہو اور نہ ہی ان کی انتظامیہ کے اخراجات کی ذمہ داری محکمہ اوقاف پر عائد ہوتی ہو بلکہ ایسی مساجد کی بنیاد سے لے کر جاری اخراجات ملک اور محلوں کے مخیر حضرات اٹھاتے ہوں، ان کے آئمہ کرام اور انتظامیہ کے لئے پرفارمے اور سوالنامے جاری کیے جا رہے ہوں تو کیا حکومت کے لئے ایسا کرنے کا کوئی جواز بنتا ہے؟ یہ ہے وہ بنیادی سوال جس کا اطمنان بخش جواب حکومت کی جانب سے آنا بہر صورت بنتا ہے۔
اگر حکومت ملک کی تمام مساجد کو محکمہ اوقاف کے تحت کرنا یا با الفاظ دیگر ”قومیانہ“ ہی چاہتی ہے تو اس قدم کو غیر شرعی یا غیر قانونی کہنا کہاں تک درست ہے۔ ایک اسلامی حکومت اس قسم کے اقدامات اٹھانے کی مجاز ہے لیکن کیا پاکستان کی حکومت ”اسلامی“ ہے اور کیا حکومت مساجد کو قومیائے جانے کے بعد اس کی دیکھ بھال سے لے کر تمام اخراجات اٹھانے کی ذمہ داری لیتی ہے؟
بے شک حساب کتاب کو بہر لحاظ رکھا بھی جانا چاہیے اور اس کا درست ہونا بھی ضروری ہے۔ خاص طور سے مساجد اور دینی اداروں کی ذمہ داری باقی تمام اداروں سے بڑھ کر ہے۔ اس قسم کے کسی بھی قدم کو غیر قانونی یا غیر شرعی کہنا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں۔ ملک کے تمام آئمہ اور علمائے کرام یہ بات خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس ملک کو ”پاکستان“ کہتے ہیں وہاں روز اول سے غیر اسلامی نظام راج ہے۔ تمام آئمہ اور علمائے کرام کو حکومت کے بہت سارے اقدام کو غیر شرعی ہونے کے فتوے جاری کرنے کی بجائے اصل جد و جہد اس ملک ”پاکستان“ میں اس نظام کو نافذ کرنے کی صدق دل سے جد و جہد کرنے کا عزم باندھنا چاہیے جس کے لئے اس ملک کی سر زمین کو حاصل کیا گیا تھا۔
تمام علمائے کرام جب تک غیر اسلامی نظام کے خاتمے کے لئے عملی جد و جہد کرنے کے لئے تیار نہیں تو اس بات میں کوئی فرق نہیں کہ وہ انگلینڈ یا امریکا میں رہتے ہیں یا پاکستان میں۔ اگر انگلینڈ اور امریکا کے مسلمان وہاں کے قوانین کے پابند اور مطمئن ہیں تو پھر لازمی ہے کہ آئمہ ہوں یا علمائے کرام، پاکستان میں ہر بنائے جانے آئین و قانون کے مطابق چلیں بصورت دیگر اپنے خلاف قانون کے مطابق کارروائیوں کا انتظار کریں۔


