ناروے میں مہاجر اور تارکین وطن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ناروے میں باہر سے آنے والوں کا سلسلہ زمانہ قدیم نویں صدی سے جا ملتا ہے۔ اس کے بعد 1535 سے لے کر 1814 تک ڈنمارک سے بہت لوگ آئے اور یہیں بس گئے۔ ناروے میں دوسرے ملکوں سے آنے والوں کو تین گروپس میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ریکروٹنگ، مین پاور اور پناہ گزین۔

باہر کے کسی ملک سے ریکروٹ کرنا۔ یعنی کچھ خاص لوگ کسی خاص مقصد، کسی خاص شعبے کے ماہر۔ کام یا عہدے کے لیے بلائے جایں۔ اس میں ڈنمارک، جرمنی اور سویڈن سے لوگ آئے۔ اس میں آئی ٹی کا شعبہ، ماہر معاشیات، سائنسی محقق اور اسپورٹس کوچز نمایاں ہیں۔ یہ لوگ ایک معاہدے کے تحت بلائے جاتے ہیں۔ جب ناروے نے انڈسٹری میں قدم رکھا تو اسے ہر شعبہ میں ماہروں کی ضرورت پڑی اور یہ اس وقت کے دوسرے ترقی یافتہ ملکوں سے بلائے گئے۔

مزدور۔ وہ لوگ جو ناروے کام کی تلاش میں آئے۔ انہیں بلایا نہیں جاتا یہ خود آتے ہیں۔ یہ گروپ سب سے بڑا ہے۔

پچاس اور ساٹھ کی دہایوں تک ناروے اسکینڈے نیویا میں کوئی خاص مقام نہیں رکھتا تھا۔ ناروے کو سویڈن اور ڈنمارک کا غریب کزن کہا جاتا تھا۔ لوگ کم ہی اس طرف آتے تھے۔ لیکن ساٹھ کی دہائی کے آخر میں یہاں تیل کی دریافت نے ناروے کے حالات کو یکسر بدل ڈالا۔ اور آج ناروے دنیا کے امیر ترین ملکوں میں سے ایک ہے۔ تیل کی دریافت نے ناروے کی معیشت کو تیزی سے آگے بڑھایا اور ناروے کو مین پاور کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ستر کی دہائی میں ناروے آنے والوں کا تانتا سا بندھ گیا۔

اس وقت ناروے میں آٹھ لاکھ کے قریب غیر ملکی آبادی ہے۔ یعنی کل آبادی کے پندرہ فیصد کے قریب۔ اس میں اکثریت ان کی ہے جو کام کی تلاش اور بہتر مستقبل کی امید میں یہاں آئے ہیں۔ مزدوروں کے گروپ میں سب سے بڑی اکثریت پولینڈ کی ہے۔ اس کے بعد سویڈن، جرمنی، پاکستان، ڈنمارک اور روس کا نمبر ہے۔

1971 میں ناروے کے ابتدائی تارکین وطن کا ایک پاکستانی گھرانہ

پولینڈ کے لوگ تعمیراتی کاموں میں مہارت رکھتے ہیں اور کام بھی محنت سے کرتے ہیں اس لیے ان کی یہاں مانگ بھی ہے اور قدر بھی۔ یوں تو پاکستانی ساٹھ کی دہائی کے آخر میں ہی یہاں آنا شروع ہو گئے تھے۔ لیکن ستر کی دہائی شروع ہوتے ہی پاکستانی محنت کشوں کی بڑی تعداد ناروے آئی۔ اور اس میں اضافہ ہوتا گیا۔ آنے والے زیادہ تر پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ 2020 میں نارویجین پاکستانیوں نے اپنی ناروے آمد کی پچاس سالہ جوبلی منائی۔

پاکستانی محنت کش تارکین وطن ناروے کا ایک بڑا گروپ ہے۔

1975 میں پارلیمنٹ طے کیا کہ اب مزید مزدور درکار نہیں۔ اس سے پہلے قانون اجازت دیتا تھا کہ جو بھی ناروے کام کی تلاش میں آئے اور اسے کام مل جائے تو وہ یہاں رہ سکتا ہے۔ اس کے بعد یہ آسان نہیں رہا۔ ناروے میں بس جانے والوں نے اپنے دوسرے رشتے داروں کو بلانا شروع کیا۔ یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا ریا۔ اب اس میں مشکلات ہیں۔ اپنے ملک کے شہری سے شادی کر کے اسے ناروے بلانے کا بھی ایک لمبا اور طویل پروسیجر ہے۔

سب سے پہلے پناہ کی خاطر آنے والوں میں یورپ میں بسنے والے یہودی تھے جو 1700 میں آئے۔ 1917 میں ناروے نے پاسپورٹ اور ویزا سسٹم کا قانون بنایا۔ یہ قانون اس لیے بنایا گیا کہ عالمی جنگ شروع ہونے سے یہ خطرہ ہوا کہ کہیں دوسرے ملکوں سے جاسوس نہ آجائیں۔ اس کا اطلاق سویڈن اور ڈنمارک کے باشندوں پر نہیں ہوتا تھا۔ وہ بلا روک ٹوک آ جا سکتے تھے۔ جنگوں کے بعد دنیا میں پھر سرد جنگ شروع ہوئی تو مشرقی یورپ سے لوگ آئے۔ اس کے بعد کئی برسوں تک مہاجرین کے آنے کا سلسلہ رکا ہوا تھا۔

ستر کی دہائی میں پناہ اور تحفظ کے لیے مہاجرین کی آمد شروع ہوئی۔ اور 80 کی دہائی میں اس میں شدید اضافہ ہوا۔ ہجرت زیادہ تر بحالت مجبوری کی جاتی ہے۔ ہجرت کی تاریخ زمانہ قدیم سے جا ملتی ہے۔ وجوہات کئی ہیں۔ پرانے زمانے میں قحط سالی، جنگ، سیلاب قدرتی آفات یا طاقت کے زور پر بیدخل کر دیے جانے کے اسباب ہوتے تھے۔

اوسلو (1976) پاکستانی طلبہ کمرہ جماعت میں

آج ان بنیادی وجوہات میں کچھ اور اضافہ ہوا ہے۔ جنگ، قحط کے علاوہ خانہ جنگی، بہتر مواقع، بے روزگاری، سیاسی اختلافات، مذہبی منافرت یا اقلیتی فرقے سے امتیازی سلوک وغیرہ۔ لوگ وطن سے نکل کر دربدر ہوئے۔

قوام متحدہ کے ادارہ یو این ایچ سی آر کے مطابق مہاجرین یعنی ریفیوجی کی تعریف کچھ یوں ہے۔
آپ اپنے وطن سے دور ہوں۔
آپ واپس اپنے ملک جانا نہیں چاہتے یا جانے کی ہمت نہیں رکھتے کیونکہ وہاں آپ کو تحفظ حاصل نہیں۔

آپ نژاد، مذہب، شہریت، کسی سماجی گروپ کی ممبرشپ یا سیاسی رجحان رکھنے کی وجہ سے وہاں رہنے میں خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

1975 میں ناروے نے اپنے پہلے سیاسی پناہ گزینوں کے گروہ کو خوش آمدید کہا۔ سمندر میں ناروے کا ایک کارگو شپ جا رہا تھا۔ موجوں میں ڈولتی ایک کشتی نظر آئی جس میں لوگ بھی سوار تھے۔ ان کی جانوں کو خطرہ تھا۔ کارگو شپ نے ان کی مدد کی اور جہاز پر سوار کر لیا۔ لوگوں کا تعلق ویت نام سے تھا۔ ویتنامیوں نے واپس اپنے ملک جانے سے انکار کیا اور پناہ کی درخواست کی۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا اور یہ ”کشتی والے لوگ“ کہلانے لگے۔ ناروے نے اپنے آئین کے مطابق انسانی ہمدردی میں پناہ کے لیے آنے والوں کو پناہ دی۔

ویت نام کے بعد 80 کی دہائی میں ایران عراق جنگ اور سری لنکا میں خانہ جنگی کی وجہ سے لوگ پناہ کی تلاش میں نکلے۔ ناروے نے انہیں سیاسی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ دی گئی۔ اس کے بعد جب سابق یوگوسلاویہ میں خانہ جنگی ہوئی تو وہاں سے بوسنیا اور سربیا دونوں طرف کے مہاجرین یہاں آئے۔ پاکستان سے بھی سیاسی اختلافات اور مذہبی منافرت کی وجہ سے پناہ لینے والے آئے۔ ان میں ہزارہ کمیونیٹی کے شیعہ اور احمدی افراد شامل ہیں۔ ایران میں سخت مذہبی قوانین ہیں۔ ان میں ہم جنسیت کی سزا موت ہے۔ ایران اور افغانستان سے کچھ لوگ اس بنا پر پناہ کے خواہشمند ہوئے۔ ناروے پناہ مانگنے والے کو ایسی صورت واپس نہیں بھیجتا اگر وہاں ان کی جان کو خطرہ ہو۔ اس لیے ان افراد کو بھی پناہ دے دی گئی۔ بعد میں ان میں سے کچھ نے اپنے پارٹنرز بھی بلوا لیے۔ کچھ کے بارے میں بعد میں علم ہوا کہ وہ ہم جنس نہیں تھے صرف پناہ کے لیے ایسا کیا گیا۔ لیکن پھر بھی انہیں ڈیپورٹ نہیں کیا گیا کیونکہ اس صورت میں بھی ان کی جانوں کو خطرہ تھا۔

ابتدائی پاکستانی محنت کشوں کا ایک منظر

اس وقت تقریباً 65 ملین لوگ اپنے وطنوں سے نکل کر پناہ کی تلاش میں در بدر ہیں اور بیشتر یورپ میں آ کر بسنا چاہتے ہیں۔ جب امریکہ میں نائن الیون ہوا تو دہشت گردی کے خلاف ایک جنگ شروع ہو گئی۔ دنیا کے بیشتر ملکوں نے امریکہ کے موقف کی حمایت کی اور اس کا ساتھ دیا اور مسلم ممالک ناپسندیدہ سمجھے جانے لگے۔ ناروے بھی محتاط ہو گیا اور مسلم ملکوں سے آنے والوں کو پناہ دینے میں تامل ہوا۔ شک یہ تھا کہ پناہ مانگنے والوں میں دہشت گرد بھی ہو سکتے ہیں۔ اور اس شک کی بنیاد پر کچھ ایسے لوگ بھی متاثر ہوئے جو واقعی پناہ کے حقدار تھے۔ اور اب اس پر بھی بات ہو رہی ہے کہ ہر آنے والا سیاسی پناہ کا حقدار نہیں۔ ان میں بہت سے ہیں جو صرف اپنی معاشی حالت کو بہتر کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔

ناروے کو اپنی امیگریشن پالیسیز کو تبدیل کرنا پڑا جو کافی نرم تھیں۔ لیبر حکومت کے بعد جب دائیں بازو کی حکومت آئی تو انہوں نے مہاجرین کی ناروے آمد پر کافی پابندیاں لگا دیں۔ 2015 میں ایک بار پھر مہاجرین کی آمد میں تیزی آئی۔ یہ شام اور افغانستان سے آنے والے تھے۔ یہ ہجرت جنگ، خانہ جنگی، سیاست اور مذہب کی بنیاد ہوئی۔ ناروے کو کچھ مہاجرین کو لینا پڑا۔ ہر کیس کا انفرادی جائزہ لیا جاتا ہے۔ اور مطمئن ہونے کے بعد انہیں وقتی یا پرماننٹ ویزا دیا جاتا ہے۔ اس میں کافی وقت لگتا ہے۔ درخواست کا جواب آنے تک انہیں مہاجر کیمپ میں ہی رہنا ہوتا ہے۔

ناروے میں یہ ذمہ داری وزارت انصاف کی ہے کہ وہ حکومت کی پالیسیز کو سامنے رکھتے ہوئے امیگریشن کے قوانین بنائے۔ گورنمنٹ بدلنے سے قوانین میں بھی تبدیلی آجاتی ہے۔ دائیں بازو کی موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ غیر ملکیوں کی آمد پر کنٹرول سخت تر کیا جائے اور پناہ کے لیے آنے والوں کے کیسز جلد از جلد نمٹا کر جن کو واقعی پناہ کی ضرورت ہے انہیں رکھا جائے باقیوں کو فوری طور پر روانہ کر دیا جائے۔

Syrian immigrants in Norway

حالیہ برسوں میں ملک شام کے باشندوں کی اجتماعی ہجرت خبروں کی سرخیاں بنتی رہیں۔ جیسے ہی شامیوں نے محفوظ مقام کی تلاش میں نقل مکانی شروع کی آس پاس کے مالدارعرب ملکوں کے سربراہوں نے دروازوں کی کنڈیاں بند کر لیں اور پہرے دار بڑھا دیے۔ دنیا میں اس وقت پانچ ملین سے زیادہ شامی مہاجرین دوسرے ملکوں میں ہیں۔ سب سے زیادہ ترکی میں ہیں۔ اس کے بعد لبنان، اردن اور جرمنی میں۔ یہ مہاجرین یورپ کے کسی ملک میں جا کر بسنا چاہتے ہیں۔ جہان فلاحی نظام ہو۔ آزادی ہو۔ معاشرہ کھلے دل کا ہو اور انسانی حقوق ہوں۔ شام کے یہ مہاجرین جب اپنی جانوں پر کھیل کر دربدر ہوئے تو یورپ سے آوازیں اٹھیں کہ ان شامیوں کی مدد ان کے ہمسائے ممالک کو کرنی چاہیے۔ ان کے پاس دولت بھی ہے اور زمین بھی۔ وہ ہم مذہب بھی ہیں اور ہم زبان بھی۔ لیکن مالدار عربوں نے آنکھیں چرا لیں اور سرحدوں پر پہرا کڑا کر دیا۔

یورپ اور بالخصوص ناروے ایک لمبے عرصے تک کھلے اور درد مند دل کے ساتھ مہاجرین کو اپناتا رہا ہے۔ لیکن اب لگتا ہے کہ ان کے ذہن کشمکش میں ہیں۔ لوگ دوسرے زاویوں سے سوچ رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply