نادرا کے قومی شناختی چیتھڑے سے زیادہ ہماری اوقات نہیں


یادش بخیر! آج یک شنبہ کو معاصر اخبارات کے ڈھیر کا جائزہ لیا تو نگاہ ”پاکستان“ اور ”اوصاف“ کے اولین صفحات پر جا ٹھہری۔ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی مالیاتی اداروں کی دل داری کے حوالے سے شائع ہونے والی شہ سرخیوں نے ہمیں خامہ فرسائی پر مجبور کر دیا۔

مملکت خداداد ماشاء اللہ اسلامی اور الحمدللہ جمہوری پاکستان کی موجودہ ”مدنی“ حکومت جس طرح ہمارے ”مربی“ آئی ایم ایف کے سامنے لیٹتی چلی جا رہی ہے ، اس پر اسے مبارک باد نہ دینا کم ظرفی ہو گی۔

70ء کی دہائی کے بعد سے لگتا ہے کہ ہماری ”ماں“ سمان ریاست اور ”سیاہ ست“ دونوں کس طرح ایک طرف مذہب اور دوسری طرف عالمی اور مقامی مالیاتی مالکان کا دم چھلا بنی چلی آ رہی ہیں۔ ان سطور میں ہم ”خوف فساد خلق“ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ”دلال“ کا لفظ استعمال نہیں کر رہے کہ اس سے ہماری نام نہاد تہذیبی اور اخلاقی اقدار پہ حرف آتا ہے۔

جہاں تک جمہوریت کی حرمت کا سوال ہے تو ہمارے جیسے کم فہم یہ حقیقت سمجھنے سے عاجز ہیں کہ آمریت اور جمہوریت میں سوائے طرز کی تبدیلی کے فرق ہی کیا ہے؟ گزشتہ چار دہائیوں سے مذہبیت، حب الوطنی اور ”وسیع تر قومی مفاد“ کے نام پر عام انسانوں کا مالیاتی قتل عام ہی اس ملک کی اشرافیہ کا وتیرہ بن کر رہ گیا ہے۔

ہمارے جیسی کروڑوں ”مردود حرم“ انسانی مخلوق جن کو ”جمہور“ کے مرصع نام سے پکارا جاتا ہے، اگر اس دوہرے جبر کا شکار ہیں تو اسے ہماری قسمت قرار دیا جاتا ہے۔ قسمت کا بد ہونا پتہ نہیں کیا ہوتا ہے اور کیسے ہوتا ہے، اس کا جواب تو صرف ہمارے قدامت پسند اور جدید ”موٹیویشنل سپیکرز“ ہی دے سکتے جن کا آج کل دور دورہ ہے۔ غرض کہ من حیث القوم ہماری اوقات نادرا کے قومی شناختی چیتھڑے سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔

Facebook Comments HS