سرکاری اساتذہ اور تلخ حقائق


میرے پچھلے کالم پہ کچھ احباب نے اعتراض کیے تھے کہ میں خواہ مخواہ ہی نجی تعلیمی اداروں کی ’واٹ‘ لگا رہی ہوں۔ اگر یہ نہ ہوں تو قوم کا تعلیمی مستقبل تاریک ہو جائے۔ ان میں سے ہمارے ایک دوست نے کچھ سوال اٹھائے ہیں۔ میں من و عن ان کے سوال یہاں درج کر رہی ہوں۔

1۔ آج اگر پرائیویٹ تعلیمی ادارے بند کر دیے جائیں تو کیا سرکاری اداروں میں اتنی گنجائش ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر سے آنے والے بچوں کو سنبھال لیں گے؟
2۔ آپ اپنے اردگرد نگاہ ڈالیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ کیا سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے؟
3۔ پری سکول یعنی پلے گروپ پریپ نرسری کی تعلیم دینے والے سرکاری ادارے کتنے ہیں؟
4۔ سرکاری اداروں میں استاد بننے کے لئے جس طرح کے امتحانات سے گزارا جاتا ہے، ان میں پڑھانے والی خوبیوں کو کس حد تک جانچا جاتا ہے؟ اس کے برعکس پرائیویٹ سیکٹر متعلقہ ڈگری کے بعد باقاعدہ ڈیمو لے کر جاب عنایت کرتے ہیں۔

حرف آخر یہ ہے کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی وجہ سے ہی سرکاری تعلیمی اداروں کی کمی پوری ہو رہی ہے۔ اگر یہ ادارے نہ ہوں تو موجودہ آبادی کو تعلیم دینے کے لئے آپ کو شام کی کلاسز کا بھی اجرا کرنا پڑے گا اور کلاس رومز کی کمی کی وجہ سے طلبا و طالبات برآمدوں میں بیٹھیں گے۔

تو جواب اس کا یہ ہے کہ

1۔ بالکل سرکاری اداروں میں اتنی گنجائش ہے اور دوسرے سوال کا جواب میں اسی میں دے دوں کہ گزشتہ کچھ سالوں میں کئی نئے کالج بنے ہیں اور کئی زیر تعمیر ہیں۔ صرف کوٹ مومن کے ساتھ ہی بھابڑہ میں نیا ڈگری کالج تکمیل کے مراحل میں ہے۔ تقریباً ہر ضلع کے اندر کئی نئے ڈگری کالج بنائے جا رہے ہیں۔

3۔ اس وقت ہر تحصیل کی ہر یونین کونسل کے اندر ایک دو ماڈل سکول بنائے گئے ہیں، جہاں نرسری کے لیے الگ کلاس روم بنائے گئے ہیں جن میں بچوں کے لیے رنگا رنگ فرنیچر، کھلونوں سمیت LED TV کا اہتمام بھی کیا گیا ہے تاکہ کنڈرگارٹن کی طرز پر باقاعدہ تعلیم سے پہلے بچوں کی ذہنی پرداخت ہو سکے۔

4۔ ڈیمونسٹریشن کسی بھی امیدوار کی قابلیت کو جانچنے کا کوئی مستند فارمولا نہیں ہے۔ اس سے آپ فرد کے غیر ضروری اعتماد کا اندازہ تو لگا سکتے ہیں مگر یہ کوئی طے شدہ فارمولا نہیں کہ اس طریقے سے کوئی بہت قابل لوگوں کی پرکھ ہو جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں سرکاری کالجوں میں اساتذہ کی تقرری پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہوتی ہے۔ جہاں تحریری امتحان کے بعد شارٹ لسٹڈ امیدواروں کو انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہے اور اب تو پبلک سروس کمیشن نے بھی انٹرویو میں ڈیمو کو شامل کیا ہوا ہے۔

اور آخری بات کا جواب یہ کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے سرکاری اداروں کی کمی کو پورا کیا ہوا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ نمبروں کی دوڑ کی جگہ طلبا کے اخلاق پہ بھی توجہ دی جائے۔

دوسرا اعتراض میری ایک دوست اور سابقہ طالب علم نے کیا جو کہ ایک نجی یونیورسٹی میں پڑھا چکی ہیں۔ ان کا اعتراض یہاں من و عن پیش کر رہی ہوں۔

”پرائیویٹ تعلیمی سیکٹر مافیا ہے۔ لیکن سرکاری کے جو حالات چل رہے ہیں، وہ کسی سے ڈھکے چھپے ہیں، سٹاف موجود ہوتے ہوئے بھی طلبہ ان کے فیض سے محروم۔ سٹاف کے کالج آنے جانے کے اوقات، پڑھانے کا طریقہ کار، ماہانہ یا سالانہ امتحانات کا طریقہ کار، اساتذہ کا طلبہ کے ساتھ عمومی رویہ اور ان کی ترجیحات، ایک طرف طالب علم اور اس کے والدین اتھارٹی ہیں اور دوسری طرف کس کی مجال ہے کہ گورنمنٹ کالج کی لیکچرر پر اعتراض کرے۔ اگرچہ اعتراضات کی لمبی لسٹ ہے جو کہ حقیقی بھی ہیں۔ سرکاری نوکری اور خود کو سرکار کا ملازم سمجھتے ہوئے اپنی ملازمت کے ساتھ وہ کتنے مخلص اور ذمہ دار ہیں، یہ سب آپ بھی جانتی ہیں۔ مجھے تو اب ایسے لگتا ہے مڈل کلاس طالب علم کے لیے نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والے حالات ہو چکے ہیں۔“

میں بہت شرمندگی کے ساتھ یہ اعتراف کرتی ہوں کہ میری اس بہن بیٹی کا اعتراض بالکل بجا ہے۔ سرکاری کالجز کے اساتذہ کا رویہ ایسا ہی ہے۔ میں چونکہ ادارے کی انچارج ہوں تو ہم میں سے ہر پرنسپل کم وبیش ان مسائل کا سامنا کرتا ہے۔

اساتذہ کا چھٹیاں کرنا، دیر سے کالج آنا اور جلدی نکلنا، کلاسز میں جانے کی زحمت نہ کرنا، مختلف ذمہ داریوں سے پہلے تو انکار کرنا اور اگر ذمہ لے ہی لی ہے تو اسے پورا نہ کرنا، پرنسپل کی سرزنش پہ پرنسپل کے خلاف لابنگ کرنا جیسے مسائل کم وبیش ہر ادارے میں ہی موجود ہیں۔

اس کی بنیادی وجہ تو ہماری اخلاقی تربیت ہے کہ جو ہمیں ایسا کچھ بھی کرنے پر شرمندہ نہیں کرتی۔ دوسری وجہ بے خوفی ہے۔ سرکاری کالج کے استاد کو معلوم ہے کہ جتنی مرضی چھٹیاں کر لے یا کلاسیں چھوڑتا رہے، زیادہ سے زیادہ اس کی سرزنش ہو گی اور بس۔ تنخواہ بھی چلتی رہے گی، انکریمنٹ بھی لگتے رہیں گے جبکہ پرائیویٹ استاد کی تنخواہ اس کے باس کے اکاؤنٹ میں ہوتی ہے، وہ دن میں دس کلاسیں ایک پاؤں پہ کھڑے ہو کے پڑھائے گا، پورا مہینہ گرمی ہو یا سردی، دھوپ ہو یا بارش وہ چھٹی نہیں کرے گا، تب اسے تنخواہ ملے گی۔

سرکاری اساتذہ تو نوکری لگنے کے بعد ویسے بھی خاندان کی مقبول ترین شخصیت بن جاتے ہیں۔ خاندان میں دور دراز شادی ہے، کسی بچے کا عقیقہ ہے، کسی کا ختنہ ہے، کوئی بیمار ہے ان کا جانا اور ان کی شرکت وہاں ضروری ہوتی ہے۔ یہی لوگ جب پرائیویٹ اداروں میں پڑھا رہے ہوتے ہیں تب خاندان میں ہونے والی ہر قسم کی سرگرمی ان پہ حرام ہوتی ہے۔ نوکری سے نکال دیے جانے یا تنخواہ کٹ جانے کا خوف انہیں باز رکھتا ہے مگر جب یہی لوگ سرکاری کالج میں آتے ہیں تو جی بھر کے ریاستی ملازم ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

یہی رویے ہیں جنہوں نے وہ خلا چھوڑے ہیں جن کا خمیازہ غریب آدمی اٹھا رہا ہے۔

Facebook Comments HS