پرائیویٹ تعلیمی مافیا کے ہتھکنڈے اور سرکاری ادارے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری چھوٹی بہن میرے کالج میں یعنی ایک سرکاری ڈگری کالج میں اے ڈی پی کر رہی ہے۔ اس کی وجہ سے میری طالبات کی نظروں میں میرا وہ رعب نہیں جو ایک ایسے پرنسپل کا ہو سکتا ہے جس کے بہن بھائی یا بچے مہنگے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہوں۔ میری بہن اکثر مجھے بتاتی ہے کہ لڑکیاں اسے کہتی ہیں کہ ایک پرنسپل کی بہن ہونے کے باوجود وہ کوئی بدمعاشی وغیرہ کیوں نہیں کرتی، کوئی رعب شعب کوئی غنڈہ گردی کیوں نہیں کرتی۔ ان میں سے بیشتر اس کی سادگی اور معصومیت کا مذاق اڑاتی ہیں۔

اور یہ لڑکیاں پرائیویٹ کالجز سپیرئیر وغیرہ سے ایف اے / ایف ایس سی کر کے ہمارے کالج میں داخل ہوئی ہیں جو اسے اس طرح سے زچ کرتی ہیں۔ اساتذہ کی بات نہ ماننا اور انہیں پریشاں کرنا اس سے سوا ہے۔

یہ ایک سوچ اور تربیت ہے جس کا ڈول گزشتہ ایک عشرے میں ڈالا گیا ہے اور اب یہ ننھا پودا ایک تناور درخت بننے جا رہا ہے۔

پرائیویٹ تعلیمی مافیا کے کالے کرتوتوں کی داستان بہت طویل ہے۔ طلبا و طالبات کی اخلاقی تنزلی ایک طرف تو والدین کا مالی دیوالیہ دوسری طرف۔ اس سے ہٹ کر بھی کئی پہلو ہیں جن کی نشاندہی کرنے کی میں ادنیٰ سی کوشش کروں گی۔

پرائیویٹ تعلیمی مافیا کا دماغ بنیادی طور پہ چونکہ ایک کاروباری دماغ ہے لہذا نوجوان نسل کے اچھے مستقبل کے ساتھ ان کا کچھ لینا دینا نہیں۔ آپ خود سوچیے کہ کروڑوں کی بلڈنگ اور انفراسٹرکچر جو لوگ بنا رہے ہیں انہیں کچھ اعتماد تو ہے کہ وہ اس سے اربوں کمائیں گے۔ سو ان کی پی آر اور ان کی مارکیٹنگ کا طریقے بھی اتنے ہی سمارٹ ہیں۔ مثلاً

میٹرک یا ایف اے / ایف ایس سی میں 80 سے 90 فیصد نمبرز لینے والے طلبا و طالبات کا داخلہ بالکل فری۔
فرسٹ ڈویژن والے طلبا و طالبات کی فیس کم
سیکنڈ ڈویژن والے طلبا و طالبات کی فیس ذرا زیادہ ( چونکہ آپ کا بچہ / بچی پڑھائی میں کمزور ہیں اس لیے ہم نے ایکسٹرا محنت کروانی ہے )
تھرڈ ڈویژن والے طلبا و طالبات کی فیس اور بھی زیادہ۔ ( چونکہ آپ کا بچہ / بچی پڑھائی میں کمزور ہیں اس لیے ہم نے شدید محنت کروانی ہے ) ۔

اب ہوتا کیا ہے کہ 80 سے 90 فیصد نمبر لینے والے بچوں کا ایک الگ گروپ بنایا جاتا ہے۔ ان پہ ایک الگ ٹیم متعین کی جاتی ہے کہ ان کو اتنا پڑھاؤ کہ بورڈ یا یونیورسٹی میں پوزیشن آ جائے۔

دوسری طرف نمبروں کے حساب سے بالترتیب گروپ یا سیکشن بنائے جاتے ہیں۔ جو سیکنڈ یا تھرڈ ڈویژنر ماں باپ کی دولت کے زور پہ بھرتی کیے جاتے ہیں وہ عموماً یہاں بھی شتر بے مہار پھرتے ہیں۔ انہیں کچھ کہنے کی نہ ادارے کو جرات ہوتی ہے نہ ادارے کے مالکان کو۔ نتیجے کے طور پہ یہ بچے ان نام نہاد تعلیمی اداروں سے بھی فیل ہو کر نکلتے ہیں اور بار بار فیل ہونے کے بعد ہمارے غریب خانوں پہ دستک دیتے ہیں۔ جبکہ ہمیں گزشتہ سال سے یونیورسٹی نے یہ سہولت دی ہے کہ 48 فیصد سے کم نمبروں والے طلبا کی بطور ریگولر سٹوڈنٹ رجسٹریشن نہیں ہوگی۔

اب جب نتائج آتے ہیں تو پرائیویٹ ادارے بورڈ/ یونیورسٹی میں پوزیشنیں لے جاتے ہیں مگر مجموعی پاس ہونے کی شرح کبھی پچیس چھبیس فیصد سے آ گے نہیں بڑھی۔ دوسری طرف سرکاری ادارے ہیں جن کے طلبا و طالبات کی پوزیشن اتفاق سے ایک آدھ آ جاتی ہے مگر مجموعی پاس ہونے کی شرح ہماری کبھی 50 فیصد سے کم نہیں ہوتی۔ ہمارے زیادہ تر طلبا پاس ہوتے ہیں جبکہ سہولیات اور سٹاف کی طرف دیکھا جائے تو ہم ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔

پیسے کی لوٹ مار کے ایک ہزار ایک طریقے ہیں جن پہ اکثر بات ہوتی رہتی ہے۔ جن میں والدین کے سالانہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ تو مختلف ”ڈے“ لے جاتے ہیں۔

آج کلچر ڈے ہے تو اس حساب سے کاسٹیوم تیار کرنا ہے۔ اچھا اب مائیں کہاں خوار ہوتی پھریں گی ادارہ بنے بنائے کاسٹیوم فراہم کر دیتا ہے اور پیسہ بٹورتا ہے۔ یونیفارم، کتابیں، بیگ پہلے ہی یہ لوگ خود بیچتے ہیں اب تو ان کے مخصوص سٹور بھی مارکیٹ میں آ گئے ہیں۔

پھر رنگوں والے دن آ جاتے ہیں۔
پنک ڈے
ییلو ڈے
وائٹ ڈے
پرپل ڈے
ریڈ ڈے
بلو ڈے

اور ہر ڈے پہ والدین کے پرس کی شامت آتی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ والدین نے بخوشی یہ بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پہ اٹھا رکھا ہے۔

ایک اچھی اور مثبت سرگرمی ”سپورٹس گالا“ ہے جس کا انعقاد ہم بھی کر رہے ہیں گزشتہ کچھ سالوں سے۔

ان سب کے علاوہ چھٹیوں پہ بھاری جرمانے ہیں۔ ایک چھٹی پہ پانچ سو روپے جرمانہ استغفراللہ ہم تو دس روپے جرمانہ عائد کرتے ہیں اور وہ بھی سال کے آ خر میں رولنمبر سلپ کے ساتھ لیتے ہیں اس پہ بھی طلبا و طالبات احتجاج کناں ہوتے ہیں کہ جرمانہ ہی کیوں لگایا۔

ان نام نہاد اداروں کی طرف سے ٹرانسپورٹ سروس بھی مہیا کی جا رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے کی مد ایک الگ موٹی رقم سالانہ بنیادوں پر والدین کی جیب سے نکلوائی جاتی ہے۔ پارٹیاں اور فنکشن جن میں گلوکاروں کو بلانے کا فیشن انہوں نے نکالا ہے ان فنکشنز کے لاکھوں روپے یہ الگ طلبا و طالبات بٹورتے ہیں۔ عموماً یہ نائٹ فنکشن ہوتے ہیں جن میں بلحاظ عمر بچے اور بچیاں بہت شوق سے شرکت کرتے ہیں۔ ناچ گانا اور دھماچوکڑی مچاتے ہیں تو بعد میں ان فنکش کے احوال سن اور دیکھ کر ان بچوں اور بچیوں کی ضد ایسے اداروں میں جانے کے لیے اور بھی بڑھ جاتی ہے جن کے والدین نے انہیں بمشکل روکا ہوتا ہے کہ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں۔

ہمارے پاس کتنی ہی ایسی خواتین آتی ہیں جو کہتی ہیں کہ میڈم ہماری بچی کو سمجھائیں یہ سپیرئیر میں داخلے کی ضد کر رہی ہے کہ اس کی سہیلیاں وہاں چلی گئی ہیں جب کہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہم اسے وہاں پڑھا سکیں۔ اور ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ بچی کی کونسلنگ کرسکیں کہ بے سود۔ وہی ڈھاک کے تین پات۔

طالبہ وہیں کی وہیں اڑی ہوتی ہے کہ سپیرئیر یا پنجاب میں ہی جائے گی کیونکہ وہاں بہت فنکشن ہوتے ہیں، ٹرپ جاتے ہیں۔ انجوائے منٹ ہوتی ہے۔ کو ایجوکیشن ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

ہاں کوالٹی آف ایجوکیشن کا تو کوئی تصور ہی موجود نہیں ہوتا اس عمر کے طلبا و طالبات کے پاس۔ مگر والدین کے ذہن میں کوالٹی آف ایجوکیشن ہی ہوتی ہے لہذا وہ کشمکش کا شکار ہوتے ہیں کہ آ یا وہ کیا کریں۔ کہاں جائیں۔ اور بھی بچے ہیں سب کو پڑھانا ہے یہاں تو سارا سرمایہ ایک ہی بچے پہ نکل جائے گا۔

دوسری طرف اس سب کے متوازی سرکاری اداروں کے خلاف نہایت منظم پراپیگنڈا بھی ان لوگوں کے ایجنڈے کا باقاعدہ حصہ ہے۔
سرکاری اداروں میں پڑھائی نہیں ہوتی۔
اساتذہ حرام خور ہیں۔
کئی کئی دن ادارے کو منہ نہیں دکھاتے۔ محنت نہیں کرتے۔ پڑھاتے نہیں ہیں۔ سٹاف کم ہے۔ جو ہے وہ کام نہیں کرتا۔

ارے بھئی استاد تو چلیں حرام کھا رہا ہے۔ آپ کیا کر رہے ہیں؟
ایک پانچ ہزار روپیہ سالانہ فیس دے کر آپ نے بچے کی تمام تر ذمہ داری استاد اور ادارے پہ ڈال دی ہے کیونکہ آپ کم خرچ بالا نشیں پہ یقین رکھتے ہیں۔

بچہ چاہے پورا مہینہ گھر بیٹھا رہے آپ نے سرکاری کالج بھیجنا اس لیے گوارا نہیں کیا کہ کون سا 500 روپے ایک دن کے حساب سے جرمانہ لگنا ہے۔

بچہ فیل ہو جائے آپ مطمئن ہیں کہ کون سا آپ کا لاکھوں خرچ ہو گیا ہے ایک سال اور سہی۔ سارا قصور سرکاری اساتذہ کا نہیں ہوتا۔ اس میں والدین برابر کے شریک ہیں۔ جہاں ان کا روپیہ لگا ہوتا ہے وہاں والدین خود بھی ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔

جاری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “پرائیویٹ تعلیمی مافیا کے ہتھکنڈے اور سرکاری ادارے

Leave a Reply