ویکسین، ویکسینیشن اور بیچاری نیشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت صحت عامہ کا شعبہ ڈاکٹروں کے نرغے میں ہے۔ اسے آپ وطن عزیز کی خوش قسمتی کہہ لیجیے یا بدنصیبی کہ اس وقت وفاقی وزیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان (المعروف ٹیکہ لگا کر حوریں دکھانے والی سرکار) ، پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر نوشین حامد، سب سے بڑے صوبے پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ ، صوبہ سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا،  حکومت پنجاب کی ترجمان ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان (خود ساختہ وزیر صحت)، سونے پہ سہاگہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی۔

کورونا ایک وبائی مرض ہے۔ اس وقت جتنے ممالک بھی اس وبائی مرض سے نبرد آزما ہیں، میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان تمام ممالک میں سے کسی بھی ملک کا شعبۂ صحت عامہ اتنے زیادہ حکمران ڈاکٹروں کا نصیب نہیں بن سکا۔ یہ تو اتفاق سے ہماری خوش قسمتی ہے کہ عین اس وبا کے وقت اس قدر قابل حکمران ڈاکٹروں کے ہاتھ میں وطن عزیز کا شعبۂ صحت عامہ ہے۔

اور بدقسمتی اس لحاظ سے کہ درد دل رکھنے والے وزیراعظم اور صحت عامہ کے ان سب حکمران ڈاکٹروں کے ہوتے ہوئے بھی ویکسین، ویکسینیشن کے بارے میں کوئی حوصلہ افزاء خبر عام پاکستانی کو نہیں مل سکی۔

22 کروڑکی آبادی میں لگ بھگ 12 کروڑ لوگوں کی ویکسینیشن ہونی ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت جتنی بھی ویکسینز دستیاب ہیں وہ تمام 18 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے موزوں ہیں ، ماسوائے pfizer کی ویکسین کے جو 16 سال سے زائد کے لیے موزوں ہے۔ تو اس حساب سے لگ بھگ 12 کروڑ افراد کے لیے ویکسین چاہیے۔ مگر ہماری حکومت چند لاکھ مانگے تانگے کی ویکسینز پر نہ صرف اترا رہی ہے بلکہ اکتفاء بھی کر رہی ہے۔ جو نہ صرف حکومتی نا اہلی ہے بلکہ 22 کروڑ عوام کے ساتھ ظلم بھی ہے۔

یہاں تک سب قابل برداشت تھا کیونکہ ہمارے نصیب میں ہے ہی صرف ”مہنگائی کا ٹیکہ“ ۔ آپ سرکاری سطح پر عام پاکستانی کو ویکسین لگانے میں ناکام رہے۔ چلیں ہم نے سہہ لیا کہ آپ کو صرف مہنگائی کا ٹیکہ لگانا آتا ہے۔ مگر اب ایک اور ظلم اس قوم کے ساتھ ہونے جا رہا ہے۔ وہ ہے نجی کمپنیوں کو ویکسین کے ٹھیکے دینے کی شکل میں۔ حق تو یہ تھا کہ ہمارے حکمران جن مہذب قوموں کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہر شہری کو ویکسین لگوانا اپنا فرض سمجھتے۔ مگر یہاں تو ویکسین بھی جیبیں بھرنے کا سنہری موقع سمجھا جا رہا۔

نجی سطح پر ایک دوا ساز کمپنی نے 50 ہزار ویکسین درآمد کی ہیں۔ یہ اس لحاظ سے تو اچھی خبر تھی کہ چلیں ایک عام پاکستانی کی ویکسین تک رسائی تو ہو گی۔ خواہ اپنے پیسوں پر۔ کیونکہ ہیپاٹائٹس سی کی دوا کو کئی برس لگے تھے وطن عزیز کے ایئرپورٹس تک پہچنے میں۔

اس نجی دوا ساز کمپنی نے جو ویکسین درآمد کی ہے۔ وہ روسی ویکسین سپٹنک وی (Sputnik V) ہے۔ اس ویکسین کی دو خوراکیں لگائی جاتی ہیں۔ ایک خوراک کی قیمت دس ڈالر ہے ، یوں دو خوراکوں کی کل قیمت 20 ڈالر بنتی ہے جو پاکستانی روپوں میں تقریباً تین ہزار بنتی ہے۔ جبکہ ڈریپ (Drug Regulatory Authority of Pakistan) نے اس کی قیمت تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار تجویز کی ہے۔ جو سراسر ناانصافی ہے۔ حالانکہ حکومتی سطح پر سبسڈی دینی چاہیے تھی۔

اگرچہ ابھی تک یہ نرخ مقرر نہیں ہوئے لیکن مصدقہ اطلاعات کے مطابق ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد قیمت تجویز کی جا رہی ہے۔ اس ویکسین کی جو 3000 کی پڑتی ہے اور ہمارا دشمن ملک ہندوستان اپنے شہریوں کو 750 روپے میں مہیا کر رہا ہے۔

کیا ان حکمران ڈاکٹروں کا ٹولہ عام پاکستانی کو بتانا پسند فرمائے گا کہ 5500 روپے کون سا ٹیکس یا کمیشن ہے۔ جس کا ڈاکہ عام پاکستانی کی جیب پہ ڈالا جائے گا؟ کیا حاکم وقت کو اس کے بعد انگلستان کی مثالیں دیتے وقت شرم نہیں آئے گی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *