تپ دق (ٹی بی) کا عالمی دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک وقت تھا جب کینسر کے بعد ایڈز دنیا کی سب سے خطرناک بیماری سمجھی جاتی تھی لیکن جب تپ دق کے مریضوں کی شرح اموات حد سے بڑھ گئی تو عالمی ادارہ صحت نے تپ دق کو سب سے مہلک بیماری قرار دے دیا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں موت کی وجہ بننے والی دس اہم بیماریوں میں کورونا کے علاوہ تپ دق بھی ہے۔ سن 1882ء میں امریکہ اور یورپ میں اچانک موت کے سائے ہر طرف منڈلانے لگے، ہر سات میں سے ایک شخص ایک نئی اور انجانی بیماری میں مبتلا ہو کر ہلاک ہونے لگا تو سائنس دانوں نے اس بیماری کا کھوج لگانے کے لئے دن رات تجربات شروع کر دیے۔

آخر جرمنی کے شہر برلن کے ایک سائنس دان ڈاکٹر رابرٹ کوچ نے اس بیماری کاکھوج لگا لیا، ڈاکٹر مارکس کوچ نے 24 مارچ 1882ء میں ”تپ دق“ بیماری کے جرثومے ”مائیکرو بیکٹیریم ٹیوبر کلاسس“ کی تشخیص کر لی جس کے بعد اس بیماری کا علاج دریافت کرنے کی راہیں ہموار ہو گئیں۔

ڈاکٹر رابرٹ کی اس کامیابی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ہر سال 24 مارچ کو تپ دق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس عالمی دن کے موقع پر ڈاکٹر رابرٹ کے کارنامے کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو تپ دق کے تباہ کن صحت، معاشرتی اور معاشی نقصانات کے بارے میں شعور بیدار کیا جاتا ہے تاکہ وہ اس موذی مرض کو ختم کرنے کے لئے اپنی کوششیں مزید تیز کر سکیں۔

اس سال اس دن کا موضوع ہے ”THE CLOCK IS TICKING“ ۔  اس دن کا موضوع اس بنیاد پر رکھا گیا ہے کہ عالمی رہنماؤں کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ تپ دق کے خاتمہ کے لئے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا وقت گزرتا جا رہا ہے خصوصاً کورونا کی وبا کے دوران تپ دق کے خاتمہ کی کوششیں مزید پیچیدہ اور مشکل ہوتی جا رہی ہیں۔

1921ء میں پیرس میں پہلی مرتبہ تپ دق کا حفاظتی ٹیکہ بی سی جی استعمال کیا گیا  جس کے بعد اس بیماری کو قابل علاج قرار دے دیا گیا۔ اس سے قبل تک یہ بیماری لاعلاج رہی۔ حفاظتی ادویات کی بدولت 1950ء سے 1990ء تک اس مہلک بیماری پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا لیکن جب ایچ آئی وی ایڈز اور کورونا کی وبا دنیا میں پھیلنے لگی تو ایک مرتبہ پھر تپ دق نے بھی سر اٹھا لیا۔ ٹی بی دنیا کے سب سے مہلک متعدی قاتلوں میں سے ایک ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق ہردن تقریباً 4000 افراد، تپ دق کی بیماری میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جبکہ 28000 افراد اس مرض سے بیمار ہو جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق تپ دق سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں کے باعث سال 2000 سے اب تک تقریباً 63 ملین زندگیوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سن 2019 میں دس ملین افراد تپ دق میں مبتلا ہوئے جن میں سے چودہ لاکھ افراد بروقت علاج نہ کروانے کے باعث اپنی جا سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

پاکستان میں ہر سال تقریباً پانچ لاکھ افراد تپ دق کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ مرض زیادہ تر پسماندہ علاقوں کے رہنے والوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جہاں غربت، بھوک، افلاس، آلودہ ماحول اور صحت کی بنیادی سہولتوں کی کمی پائی جاتی ہے۔ تپ دق یا ٹی بی ان انسانوں میں بھی زیادہ پائی گئی ہے جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو۔ بدقسمتی سے دنیا کے کسی بھی ملک میں ابھی تک اس مہلک بیماری کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔

صحت کے عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2016ء میں دس اعشاریہ سات ملین لوگ ٹی بی میں مبتلا ہوئے جن میں سے ایک اعشاریہ سات ملین لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔ دنیا بھر کے ٹی بی کے مریضوں کی شرح کے لحاظ سے پاکستان سمیت سات ممالک بھارت، نائیجیریا، ساؤتھ افریقہ، چین اور انڈونیشیا میں چونسٹھ  فیصد مریض پائے جاتے ہیں جن میں بھارت سرفہرست ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے موجودہ سال کے آخر تک دنیا بھر میں اس مہلک مرض کے مکمل خاتمہ کا تہیہ کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی سطح پر بھرپور اقدامات کیے گئے ہیں جن میں تپ دق کے مرض سے متعلق ادویات کی فراہمی، عام لوگوں میں آگاہی پروگرام، ترقی پذیر ممالک کو اس مرض کی روک تھام و علاج سے متعلق خصوصی فنڈز کی فراہمی اور رہنمائی وغیرہ شامل ہیں۔

کورونا اور تپ دق کا وائرس چونکہ انسانی پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے ، اس لئے دونوں بیماریوں کی کچھ علامات ملتی جلتی ہیں۔ تپ دق اب ایک لاعلاج بیماری نہیں رہی، اس کا علاج موجود ہے جسے اختیار کر کے مریض موت کے منہ میں جانے سے بچ سکتا ہے لیکن کورونا کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا۔ اگرچہ کامیاب تجربات کے بعد اس کی ویکسین تیار ہو چکی ہے اور دنیا بھر میں کورونا ویکسین لگانے کا عمل شروع بھی ہو چکا ہے۔ کورونا اور تپ دق، دونوں بیماریوں کا حملہ چونکہ پھیپھڑوں پر ہوتا ہے اس لئے صحت کے کچھ ماہرین نے تپ دق کی ویکسین سے کورونا کے مریضوں پر تجربات بھی کیے جس کے حوصلہ افزاء نتائج برآمدہ وئے۔

پاکستان میں تپ دق کے علاج، ٹیسٹ اور مفت ادویات کی فراہمی کے باوجود تپ دق کے بہت سے مریض اپنا علاج نہیں کرواتے یا زیر علاج مریض اپنا کورس مکمل نہیں کر پاتے ، جس کے نتیجے میں وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس لئے اگر کوئی فرد مسلسل بخار، تین سے چار ہفتے تک کھانسی کا کم نہ ہونا، بھوک میں کمی اور وزن میں کمی کا شکار ہو جائے تو اسے فوراً طبی معائنہ کرانا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اسے کورونا ہے یا تپ دق۔

تپ دق اب مکمل قابل علاج مرض ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کا علاج جلد شروع ہو جائے۔ علاج میں تاخیر یا نامکمل علاج کی صورت میں ٹی بی کا جرثومہ انسانی پھیپھڑوں کو ناکارہ بنانے کے ساتھ ساتھ جسم کے دیگر حصوں میں پھیل کر موت کا سبب بن جاتا ہے۔ تپ دق میں مبتلا مریض کو عام انسانوں کی نسبت کورونا لاحق ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں ، اس لئے اب تپ دق کا خاتمہ ازحد ضروری ہو گیا ہے۔

پاکستان کو تپ دق سے پاک ملک بنانے کے لئے اس بیماری میں مبتلا افراد کو ذمہ داری کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنے علاج پر پوری توجہ دینی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *