اساتذہ حکومت پنجاب کے خلاف سراپا احتجاج کیوں ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ دسمبر 2020 ہے۔ اسلام آباد کی ایک شام نے دیکھا کہ پولیس جوانوں کے ایک جتھے پہ پل پڑی۔ لتر پولا، لاٹھی چارج، شیلنگ سے بھرپور سواگت کیا گیا۔

یہ جوان بانکے پنجاب بھر سے آئے تھے بنی گالہ دھرنا دینے۔ یہ پنجاب کے سکولوں کے سیکنڈری سکول ٹیچرز اور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز تھے۔

ان کا مطالبہ تھا کہ سات سال ہو گئے سرکار کی نوکری کرتے۔ ہم NTS ٹیسٹ پاس کر کے، محکمانہ انٹرویو دے کر بھرتی ہوئے ہیں۔ گویا ایک مکمل مقابلہ جاتی پراسیس۔ سرکار ہے کہ انہیں مستقل کرنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ بلکہ اب انہیں PPSC کا امتحان پاس کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ یعنی ایک اور مقابلہ جاتی پراسیس!

اساتذہ بڑی سرکار کی بارگاہ میں جا کر اپنا یہی مقدمہ پیش کرنا چاہتے تھے۔ مار کھانے کے بعد کمشنر پنڈی آگے بڑھے اور ضمانت دی کہ میں تمہارا مسئلہ حل کروا دیتا ہوں۔ کمشنر صاحب نے وزیر قانون کو آن بورڈ لیا۔ یہ ٹیچر ٹولہ ہنسی خوشی واپس آ گیا ہے کہ بس اب کام پکا ہو گیا مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہ ایک لالی پاپ تھا جس پہ یقین کرنا ایک بڑا پاپ تھا۔ راجہ بشارت نے حسب عادت چکر لگوا لگوا کر ٹیچرز کو ادھ موا کر دیا۔ کمشنر صاحب آرام سے پتلی گلی نکل لیے۔

جوان خون نے جوش مارا۔ پورے پنجاب سے سیکنڈری سکول ٹیچرز اور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز دوبارہ لاہور جا پہنچے اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے قریب دھرنا دے دیا۔ وزیرتعلیم آگے بڑھے، بچوں کو چمکارا، اور بڑی معصومیت سے کہا:

اوہو بڑا ظلم ہو گیا مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کہ یہ معاملہ کیا ہے۔ آپ سب گھر جاؤ ، میں اپریل تک آپ کا معاملہ حل کرواتا ہوں۔ یہ آزمایا ہوا چہرہ تھا سو ان کی باتوں پہ اعتبار نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

دھرنا جاری ہے۔ ٹیچرز اپنے شیر خوار بچوں کے ساتھ دھرنے میں موجود ہیں اور پورے پنجاب میں اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز کی طرف سے قلم چھوڑ ہڑتال جاری ہے۔ مراد راس صاحب غصے میں لال پیلے ہو رہے ہیں اور ٹویٹری محاذ سے شیلنگ کر رہے ہیں کہ جاؤ جو کرنا کر لو۔ ہم نہیں مانتے تمہارے مطالبے۔

دھرنے والے کہتے ہیں کہ یہی وزیر موصوف تھے جنہوں نے دو سال دلاسے دیتے، مسئلہ حل کروانے کے وعدے کرتے آخر ایک شام ہاتھ کھڑے کر لیے کہ میں بے بس ہوں۔ جاؤ مجھ سے تمہارا مسئلہ حل نہیں ہوتا اور پھر جب جوان خون بنی گالہ کی روڈ پہ بہا تو موصوف میڈیا کو کہہ رہے تھے کہ یہ ن لیگ کے بھیجے ہوئے لوگ ہیں۔ سبحان تری قدرت!

کل کہ یوتھیے بیک جنبش قلم پٹواری بنا دیے گئے۔

اب تک مکمل ڈیڈ لاک ہے۔ دھرنا کے شرکاء کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ ٹیچرز کی فیملیز بھی دھرنے کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ مطالبہ یہی ہے کہ وزیراعلیٰ صاحب آگے آئیں اور ہمیں یہ مسئلہ حل کرنے کی ضمانت دیں۔

حکومت کہتی ہے کہ یہ قانون ہے کہ PPSC کے بغیر مستقلی ممکن نہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ یہ قانونی سقم دور کرنا حکومت کا کام ہے۔ قانون عوامی فلاح کے لیے ہوتے ہیں نہ کہ ذاتی انا کی تسکین کے لیے۔ عوامی فلاح کے لیے ترمیم کر لینے میں کیا حرج ہے۔

اگر آئین پاکستان میں عوامی و قومی مفادات میں پچیس ترامیم کی جا سکتی ہیں تو کیا ریگولرائزیشن ایکٹ آئین پاکستان سے زیادہ محترم ہے کہ اس میں ترمیم نہیں ہو سکتی؟

کچھ حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ٹیچرز اگر قابل ہیں تو PPSC کا امتحان پاس کر لیں جبکہ ٹیچرز کا کہنا ہے کہ سات سال کے عرصے میں ہماری کارکردگی کا جائزہ ہمارے کام سے لیا جائے، جس کا فیصلہ ہماری ACRs اور رزلٹس کریں گے۔ باقی PPSC کی طرف بھی جائیں تو اس ادارے کی کریڈیبیلیٹی ساری دنیا نے دیکھ لی ہے۔ ہمارے پاس PPSC کا پاپی پیٹ بھرنے کے لیے لاکھوں روپے نہیں ہیں جو کمیشن کا ٹیسٹ پاس کرنے کی شرط اولین ٹھہری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *