یوم پاکستان، لاہور کی دھرتی اور اساتذہ کی فریاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

23 مارچ 2021ء کے دن میں اپنے پنجاب بھر سے آئے اپنے ساتھی اساتذہ (ایس ایس ایز اور اے ای اوز ) کے ساتھ وزیراعلیٰ آفس کے سامنے ڈیوس روڈ پر کھلے آسمان کے نیچے طوفان بادو باراں سے نبرد آزما یہ سوچ رہا تھا کہ آ ج سے اکیاسی سال پہلے اسی دن اسی شہر لاہور میں ہم سے چند کلومیٹر کی دوری پر ہمارے آباء و اجداد آنکھوں میں حسیں سپنے سجائے، دلوں میں جوش و ولولے بسائے، ہاتھوں میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تھامے منٹو پارک میں موجود تھے۔

چشم تصور نے ان کے جوش و خروش، ولولے اور عزم و ہمت کو دیکھا تو آنکھوں سے اشکوں کے دھارے رواں ہوئے اور لبوں پہ فیض احمد فیض کی نظم ”صبح آ زادی“ کے اشعار رقصاں ہوئے

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہو گا شب سست موج کا ساحل
کہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غم دل

23 مارچ 1940ء کے دن ہمارے بزرگوں کی آ نکھوں میں امید کی شمعیں روشن تھیں تو اکیاسی برس بعد 23 مارچ 2021ء کی صبح ہماری آنکھوں میں مایوسیوں کے گہرے سائے اور دل خوف کے شکنجے میں تھا۔ مایوسی تاریک ہوتے مستقبل کی اور خوف معاش کے چھن جانے کا۔

وقت کی رو میں ماضی کے طرف بہتے ہوئے میں نے چشم تصور سے دیکھا کہ 23 مارچ 1940ء کو منٹو پارک میں برصغیر کے طول و عرض سے آئے مسلمان الگ وطن کا مطالبہ کر رہے تھے تاکہ وہ اس پاک سر زمین پر آ زادی کے ساتھ اپنی زندگیاں گزار سکیں۔ ان کو مذہبی، معاشرتی، معاشی اورتمدنی آزادی حاصل ہو گی۔ جہاں ان کے اپنے حاکم ہوں گے جن سے وہ اپنے دکھ درد بانٹ سکیں گے۔ جہاں مساوات ہو گی۔ جہاں عدل و انصاف ہو گا۔ جہاں مال و اسباب محفوظ اور عزتیں مامون ہوں گی۔

جہاں امن و آشتی کا دور دورہ ہو گا۔ جہاں اظہار رائے کی آ زادی ہو گی۔ فلاحی ریاست ہو گی جہاں ریاست ہر شخص کے بنیادی حقوق کی نہ صرف ضامن ہو گی بلکہ مہیا کرنے والی بھی ہو گی لیکن اکیاسی برس بعد ہمارے بزرگوں کے خوابوں کی سر زمین کچھ اور ہی منظر پیش کر رہی ہے۔ دیگر آ زادیاں تو کیا ملنا تھیں، شخصی آزادی ہی چھن گئی۔ معاش کیا محفوظ ہونا تھا، جینے کا حق ہی سلب کر لیا گیا۔ عزتیں کیا مامون ہونی تھیں، تن پہ پہنے لباس ہی تار تار کر دیے گئے۔ اظہار رائے کی آزادی کیا ملنا تھی، لب ہی سی دیے گئے اور جس نے جسارت کی اسے نشان عبرت بنا دیا گیا۔

ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد

اس مملکت خداداد میں کوئی شعبہ زندگی ایسا نہیں جو اہل اقتدار کی دست درازیوں سے محفوظ و مامون ہو۔ کوئی دن نہیں جاتا جب کوئی سراپا احتجاج نہ ہو۔ ماضی کے حکمران کے برعکس موجودہ حکمران ”ریاست مدینہ“ کی طرز کی حکمرانی کے دعویدار تھے۔ اسی بنیاد پر انھوں نے اپنی پارٹی کا نام ہی ”تحریک انصاف“ رکھا تھا۔ جن کا سفر بائیس سال پہلے ”ایاک نعبدو ایاک نستعین“ سے شروع ہوا تھا اور اقتدار میں آ تے کی ”انا للہ و انا الیہ راجعون“ پہ ختم ہو گیا۔ ”ریاست مدینہ“ کی طرز پر والی فلاحی ریاست کا خواب دیوانے کا خواب ثابت ہوا۔ پہلے ہی سال وعدہ خلافی کو یوٹرن کا خوب صورت نام دے کر اس خواب کو نہ صرف دفنا دیا گیا بلکہ فاتحہ بھی پڑھ دی گئی۔

اسی یوٹرن روایت کا سلسلہ پنجاب میں بھی جاری و ساری ہوا۔ اس سے خاص طور پر تعلیم کا شعبہ اور اس شعبہ سے وابستہ معلم ( ایس ایس ایز اور اے ای اوز) متاثر ہوئے۔ صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے اپنے پارٹی سربراہ کی یوٹرن کی روایت کو آ گے بڑھاتے ہوئے 2014ء سے 2018ء تک بھرتی ہونے والے گیارہ ہزار ( 11000 ) ایس ایس ایز اور تین (3000) اے ای اوز کے ایشوز پر بار بار یوٹرن لیا اور ساتھ ساتھ انہیں تضحیک کا نشانہ بنایا۔ صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس صاحب کے سابقہ ٹویٹس میرے اس دعویٰ کی سچائی کو ثابت کرتے ہیں۔ عاصم واسطی نے شاید وزیر محترم کے لیے ہی کہا تھا:

مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں
میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا

صوبائی وزیر تعلیم کی یوٹرن پالیسی سے متاثرہ اساتذہ (ایس ایس ایز اور اے ای اوز) قراداد لاہور کی اسی سر زمین پر پچھلے کئی دن سے سڑکوں پر موسم کی سختیاں، حالات کا جبر اور اپنوں کے دشنام برداشت کر رہے ہیں۔ یہ وہ ایس ایس ایز اور اے ای اوز جن کو پچھلی گورنمنٹ نے مکمل اور جامع طریقہ کار (Procedure) کے ذریعے بھرتی کیا۔ یہ طریقہ کار ابتدائی ریکروٹمنٹ ٹیسٹ (جو نیشنل ٹیسٹنگ سروس ( NTS) کی کڑی نگرانی میں منعقد ہوا) ، انٹرویو اور انتہائی سخت میرٹ (جس میں امیدواروں کا تمام امتحانات میں حاصل کردہ نمبروں کو فارمولا کے تحت جمع کیا گیا اور میرٹ بنایا گیا) پر مشتمل تھا۔

ہر مشتہر آ سامی پر ہزاروں امیدواروں کا مقابلہ ہوا اور اس میں سے سینکڑوں کامیاب ہوئے۔ ان امیدواروں میں اکثریت ان کی ہے جو پہلے ہی محکمہ تعلیم میں نچلے گریڈوں پر مستقل طور پر کام کر رہے تھے اور اپنی دس دس، بیس بیس سال کی مستقل نوکری کو چھوڑ کر بہتر مستقبل اور بہتر گریڈ کے لیے ایس ایس ایز اور اے ای اوز کی آ سامیوں پر بھرتی ہوئے۔ اب یہ سب لوگ سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود ان کا مسئلہ ہنوز حل طلب ہے۔

ان کا قصور صرف یہی ہے کہ ان کے سینوں میں علم کی شمعیں منور ہیں اور وہ ان شمعوں کی روشنی سے معاشرے میں چھائی ظلم و جبر، استحصال اور جہالت کی تاریکی کو دور کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ یہ معاشرے کی کریم ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، جدید علوم اور سائنٹفک طریقہ ہائے تدریس کے ماہر اساتذہ کو ان کے اصل مقصد سے ہٹا کر سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ کس لیے؟ صرف ایک شخص کی انا کی تسکین کے لیے جو فرعونی لہجے میں بات کرتا ہے۔ کیا امور مملکت اناؤں سے چلتے ہیں؟ جس گھر کا سربراہ انا پرست ہو تو اس گھر کا خدا حافظ ہے۔

وزیر موصوف کی طرف سے دھونس اور دھاندلی سے بنایا گیا ایک ویڈیو بیان جاری کیا گیا جس میں ایس ایس ایز اور اے ای اوز مستقلی تحریک کی کور کمیٹی کو عقب میں کھڑے کر کے ایک اور وعدہ پر ٹرخانے کی بھونڈی کوشش کی گئی۔ وزیر موصوف یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ سابقہ وعدوں کا کیا ہوا؟ وزیر موصوف کے دل میں اپنوں کے لیے تو درد موجود ہے لیکن ان ہزاروں اساتذہ کے لیے ہمدردی کا جذبہ ناپید ہے جو اپنا گھر بار، بیوی بچے، بوڑھے بیمار والدین کو چھوڑ کر کھلے آ سمان کے نیچے ننگی سڑک پر بیٹھے ہیں۔

محترم ڈاکٹر مراد راس صاحب! ان اساتذہ کے لیے اپنے دل میں نرمی پیدا کریں۔ سربراہ تو باپ کی طرح ہوتا ہے۔ اس ایشو کو جلدی حل کروائیں۔ ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے اور کوئی ناخوشگوار صورت حال پیدا ہو جائے اور تاریخ میں آپ کا نام ”معلم دشمن“ کے طور پر رقم ہو جائے۔ ”معلم دوست“ بنیں اور انا کو ایک طرف رکھ کر ایس ایس ایز اور اے ای اوز کا جائز مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے انہیں فی الفور مستقل کروانے میں اپنا بھرپور اور مؤثر کردار ادا کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *