پٹرول سستا ہے – مثبت رپورٹنگ
پیمرا کا 22 مارچ کو نیوز میڈیا کو لکھا گیا ایک خط سامنے آیا ہے۔ خط میں پہلے تو بجا طور پر یاد دلایا گیا ہے کہ حکومت درحقیقت لوگوں کی فلاح کی ذمہ دار ہے۔ پھر یہ بتایا گیا ہے کہ بہت سے ملکوں کے مقابلے میں وہ پٹرول بہت ارزاں نرخوں پر فراہم کرتی ہے۔ نیز میڈیا کو شرمندہ کیا ہے کہ وہ لوگوں کو بتاتا ہی نہیں کہ گزشتہ دو حکومتوں کے مقابلے میں بھی اس کی قیمت کم ہے۔
اس لیے تمام ٹی وی چینلوں اور ایف ایم ریڈیو والوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مناسب تشہیری کمپین لانچ کر کے قوم کو بتائیں کہ پٹرول کی قیمت کم ہے۔ خط میں مصلحت اس حکمت کی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوں پٹرول کی قیمت میں اضافے کے لیے عوام تیار ہو جائیں گے۔
ہماری رائے میں تو واقعی پٹرول کی قیمت اس خطے کے دیگر ممالک سے کم ہے۔ گزشتہ دنوں ایک حکومتی چارٹ بھی نظر سے گزرا تھا جس سے ہمیں علم ہوا ہے کہ ڈالروں میں ہمیں پٹرول خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت سستا مل رہا ہے۔ بلکہ پٹرول تو اتنا سستا ہو چکا ہے کہ اندیشہ ہے کہ کہیں لوگ پانی کی بجائے پٹرول خود پر انڈیل کر اس سے نہانا نہ شروع کر دیں۔
پہلے تو ہم تمام ٹی وی اور ایف ایم چینلز کی شدید مذمت کرتے ہیں کہ وہ ایک جمہوری حکومت کی تعریف کا حق ادا نہیں کر رہے۔ گزشتہ حکومتیں نہایت کرپٹ تھیں اس لیے اپنے کاموں کی تشہیر کروانے کے لیے اشتہار دیا کرتی تھیں۔ چونکہ یہ حکومت نہایت سمارٹ ہے اس لیے یہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں پیسے دیے بغیر اپنے اچھے کاموں کی تشہیر کروا رہی ہے۔ اس بچت پر حکومت کو داد دی جانی چاہیے۔
میڈیا مالکان کو خیال ہی نہیں کہ عوام کا پیسہ ایسے فضول کاموں پر خرچ کرنا بری بات ہے۔ وہ پیسے کے لوبھی ہیں۔ کہتے ہیں کہ حکومت اشتہار نہیں دے گی تو ہم ادارہ بند کر دیں گے، صحافیوں کو تنخواہ نہیں دیں گے، انہیں نکال دیں گے، وغیرہ۔
یہاں رک کر ان صحافیوں اور اینکروں کو بھی شرم دلانی چاہیے جو کثیر مشاہرے لے کر بھی حکومت کی خدمت کا ویسے حق ادا نہیں کر رہے جو واجب ہے۔ لیکن تعجب تو ہمیں کامران خان، صابر شاکر، غلام حسین، عارف بھٹی اور ایسے دیگر حق گو صحافیوں پر ہے کہ وہ اس اہم موضوع کو کیوں نظرانداز کر رہے ہیں۔
جہاں تک مطیع اللہ جان، عمار مسعود، طلعت حسین اور اس قبیل کے دیگر صحافیوں کا تعلق ہے تو ان کے اس حساس معاملے سے دور رہنے میں ہی بہتری ہے۔ ان لوگوں کو پٹرول کی بو پہنچی تو جلتی پر تیل چھڑکنے میں منٹ نہیں لگائیں گے۔ عوام کو یقین دلا دیں گے کہ پٹرول، گیس اور بجلی مہنگے ہو گئے ہیں۔ ساتھ مشورہ بھی دے ڈالیں گے بلکہ پوری سیریز نشر کر دیں گے کہ
اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
حکومت یہ سوچے گی کہ
صرف مانع تھی حیا بند قبا کُھلنے تلک
پھر تو وہ جان حیا ایسا کُھلا ایسا کُھلا
شاعری کے معاملے میں ہماری فہم بہت ناقص ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہاں درست تلفظ کیا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ ہو
صرف مانع تھی حیا بند قبا کُھلنے تلک
پھر تو وہ جان حیا ایسا کِھلا ایسا کِھلا
بہرحال یہ شرپسند صحافی خواہ کُھل کر بات کریں یا کِھل کر، انہیں پٹرول سے دور رکھنا ہی مناسب ہے اور قوم کو تندہی سے یقین دلانا چاہیے کہ پٹرول کی قیمت بڑھنے کے باوجود پٹرول سستا ہو رہا ہے۔



Comments are closed.