ملّا اور تمغے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا یہ ایمان ہے کہ بادشاہ کے گرد منڈلانے والے نیک بزرگ عالم دین اور ناچنے گانے والوں میں کچھ فرق نہیں رہتا۔ کیونکہ دونوں کی حیثیت دل بہلانے والے ( entertainer) جیسی ہوتی ہے۔ میرے اس خیال کو مزید تقویت تب ملی جب 23 مارچ کو صدر مملکت نے ایوارڈ برائے حسن کارکردگی عطا کیے۔

ایک خاتون فلم سٹار کے ساتھ معزز عالم دین بھی اس کے حق دار ٹھہرے۔ یقین جانیے موجودہ حکومت کا یہ پہلا اقدام ہے جس میں مساوی حقوق کا خیال رکھا گیا۔ یہ الگ بات کہ دونوں ہی اس ایوارڈ کے لیے قطعاً معیار پر پورے نہیں اترتے۔ بہرحال یہ حکومت وقت کی یہ اعلیٰ ظرفی ہے کہ صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی ایک کے ”حسن“ اور دوسرے کی ”کارکردگی“ سے متاثر ہو کر دے دیا۔

آپ کو مندرجہ بالا سطور کے مطالعہ کے بعد لگ رہا ہو گا کہ شاید کوئی لبرل شخص مولوی کو آڑے ہاتھوں لے رہا ہے۔ یقین رکھیے ایسا کچھ نہیں۔ بات جو مجھ کو ناگوار گزری وہ صرف دو منٹ کا وڈیو کلپ ہے۔ جس میں ایک نیک بزرگ با ادب باملاحظہ والی کیفیت میں ایک دنیا دار صدر مملکت کے سامنے ایوارڈ وصول پانے کے لیے کھڑا ہے۔ اس کے بعد مجھ ایسے گناہ گار کا سر شرم سے جھک گیا۔

کیونکہ تاریخ بزرگان دین کی تعریف کچھ اور بیان کرتی ہے۔ تاریخ میں امام ابوحنیفہ چیف جسٹس کا عہدہ ٹھکرا کر امر ہوئے۔ یاد رہے اس وقت کے حکمران ابو جعفر عبداللہ بن المنصور کی حکومت میں چیف جسٹس کی حیثیت خلیفہ کے ثانی کی ہوتی تھی۔ اسی زمانے میں امام جعفر صادق اور امام مالک بن انس خلیفہ وقت کی ناجائز باتوں کو رد کر کے امر ہوئے۔ امام احمد بن حنبل، عباسی خلیفہ مامون کے نظریات کی نفی کر کے امر ہوئے۔

امام شافعی اور امام موسیٰ کاظم اپنے اپنے دور کے حکمرانوں کی اصلاح کر کے تاریخ میں امر ہوئے۔ امام مالک نے خلیفہ ہارون الرشید کی درخواست پر بھی ملاقات سے انکار کر دیا اور امر ہو گئے۔ ان آئمہ کرام کے زمانے میں بھی حکمرانوں سے ”تمغے“ لینے والے ملّا بھی تھے۔ جنہیں تاریخ دفن کر چکی ہے۔

میں نے ہمیشہ موجودہ بزرگان دین کو مجدد الف ثانی کا وارث سمجھا۔ برصغیر کے ان اولیاء کا وارث ، جن کے در پر وقت کے ”اکبروں“ نے ماتھے رگڑے۔ ان نیک بزرگوں کا وارث، جو بادشاہوں کی التجاؤں پر بھی شاہی دربار ملاقات تک کے لیے نہیں جاتے تھے۔ ان فقیروں کا وارث جو شاہی تحفے قبول کرنے سے انکاری ہوتے تھے۔

آج کی نوجوان نسل بھی مولانا طارق جمیل صاحب جیسے علمائے دین کو برصغیر کے بزرگان دین حضرت داتا گنج بخش سید علی ہجویریؒ، حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی ؒ، حضرت شیخ احمد سرہندی ؒ اور خواجہ سید معین الدین چشتی اجمیریؒ کا وارث سمجھتی ہے۔ وہ حضرت معین الدین چشتی اجمیری المعروف خواجہ غریب نواز جن کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد بھی اکبر جیسے بادشاہ آ گرا سے اجمیر شریف تک پیدل حاضری دینا فخر سمجھتے تھے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ آج ہمارے علمائے دین کی دوڑ شاہی دربار تک ہے اور حکمرانوں کی چاپلوسی کرنا اعزاز سمجھتے ہیں۔

تاریخ آج بھی برصغیر کے بادشاہوں کے سامنے حق کے لیے ڈٹ جانے والی ان عظیم ہستیوں کو سنہری حروف میں یاد کرتی ہے۔ اور انہی بادشاہوں کے درباروں میں قصیدے پڑھنے والوں کے نام تک تاریخ بھول چکی ہے۔ ایک لمحے کے لیے سوچیے وہ سلطنت، وہ بادشاہت، وہ جاہ و جلال اور دوسری طرف ایک فقیر ولی جس کے سامنے پوری شان و شوکت سمیت بادشاہ جھکا ہوا۔ اور ایک ہمارا ”مجدد“ جو ایک صدر مملکت جس کی حیثیت مغل شہنشاہوں کے دربانوں سے ہرگز زیادہ نہیں کہ سامنے باادب با ملاحظہ۔

بس اتنی سی مؤدبانہ گزارش ہے کہ شہنشاہوں کے سامنے سجدہ تعظیم بجا لانے والے اپنے ناموں کے ساتھ مولانا، عالم دین، مفتی جیسے سابقے /لاحقے ہٹا کر لفظ ”فیضی“ (بادشاہ اکبر کے دربار کا ایک ذہین و فطین شاہی ملا ابو الفضل فیضی ) بطور سابقہ یا لاحقہ لگا لیں۔ مثال کے طور پر فیضی عبدالقوی ،طارق جمیل فیضی وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ حقیقی نیک بزرگوں کا یہ وتیرہ کبھی نہیں رہا۔ اور آپ لوگ کسی صورت بھی شیخ احمد سرہندی، مجدد الف ثانی جیسے بزرگوں کے وارث نہیں ہو سکتے۔ جو برصغیر کی وسعتوں کے مالک شہنشاہ جلال الدین اکبر کے سامنے ڈٹ گئے اور جنہوں نے بادشاہ جہانگیر کے سامنے تعظیمی سجدے پر قید وصعوبت کو ترجیح دی۔

قارئین! اب نیک بزرگوں اور entertainers میں فرق خود ہی جان لیجیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *