ہمارے ملک کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر پاکستان اور بنگلادیش دونوں ممالک کی ترقی کا موازانہ کیا جا رہا ہے۔ جہاں پر اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ بنگلادیش جس کو ماضی میں ہم اپنے اوپر بوجھ سمجھتے تھے ، جن کے قد کا ہم مذاق اڑاتے تھے۔ آج وہ بنگلادیش ہم سے معاشی، تعلیمی میدان میں آگے ہیں۔ بنگلادیش کی کرنسی ہم سے مضبوط ہے۔ ہاں البتہ ایک چیز میں بنگلادیش کو ہم نے مات دی ہے اور وہ ہے آبادی۔ آزادی سے پہلے بنگلادیش آبادی میں ہم سے زیادہ تھی۔ آج ہم اللہ کے فضل سے آبادی میں ان سے کہیں آگے ہیں۔

آج وہ سولہ کروڑ ہیں ، ہم بائیس کروڑ سے زیادہ۔ کیا بحیثیت قوم ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اصل مسئلہ کہاں پر ہے؟ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ملک میں قیادت کا فقدان ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان میں سیاست زوال کی طرف جا رہی ہے، ہمارے ملک میں قیادت کو زمین سے پھوٹنے ہی نہیں دیا جاتا بلکہ آسمانوں سے لا کر بٹھا دی جاتی ہے، مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت ایک ہی فیکٹری میں تیار ہونے کے بعد ان کو آگے لایا جاتا ہے۔

سول حکومت کے بہت سارے اختیارات اس کے اپنے ہی ماتحت ایک محکمے کے پاس چلے گئے ہیں، ریاست کے اندر ریاست کی ایسی شاندار مثال دنیا کی کسی پروفیشنل فوج میں نہیں جو کسی ریاست میں اتنے زیادہ کاروبار براہ راست کرتی ہو اور ریاستی وسائل پر ایسے انداز میں تصرف سے لطف اندوز ہوتی ہو۔ تقریباً تیس سال سے زائد تو جرنیلوں نے براہ راست یہاں حکومت کی اور باقی کے برس بھی ان ہی کی چھتری کے نیچے ان ہی کی مرضی کے حکمراں ’نصب‘ کیے گئے۔

پھر جس نے بھی سویلین بالادستی کی کوشش کی ، اس کا حشر سب نے دیکھا۔ کوئی ایک وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا۔ قومی سلامتی وغیرہ تمام ثانوی چیزیں ہیں ۔ اول چیز شہریوں کے بنیادی حقوق ہیں۔ قومی سلامتی کے نام پر بنیادی حقوق ختم کرتے جائیے نہ قوم رہے گی نہ سلامتی۔ گزشتہ 73 برسوں میں فیصلہ کن قوتوں نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے جتنی توانائیاں ہربار نظام بدلنے پر لگائی ہیں ،اگر اس سے آدھی توانائیاں عوام کے حالات بدلنے پر لگائی ہوتیں تو آج پاکستان اپنے خطے کے ممالک میں سب سے پیچھے کی بجائے سب سے آگے کھڑا ہوتا۔

ہمارے فوجی بھائی سویلین معاملات کی بابت بالکل تربیت یافتہ نہیں ہیں۔ ایف اے تعلیم کے بعد بندوق چلانا سکھائی جا سکتی ہے، جہاز سے چھلانگیں لگائی جا سکتی ہیں، مگر بیس کروڑ انسانوں کے ملک کی خارجہ، داخلہ، سلامتی، اقتصادی، تعلیمی، سیاسی اور صحت عامہ کی پالیسی نہیں بنائی جا سکتی۔ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوریت ہے اور نہ ہی ان میں آزادنہ فیصلے کرنے کی صلاحیت، ہمارے ہاں کہنے کو پارلیمنٹ ہی بالادست ہے مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو سیاسی جماعتیں اسے اپنی قوت کا منبع بنانے سے گریز کرتی ہے۔

پارلیمنٹ ایک ایسا ادارہ ہے جو اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا سکتا ہے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ حکمران جماعت اور اپوزیشن پارلیمنٹ سے قریباً لاتعلق ہی رہیں جس سے غیرسیاسی قوتوں کو اپنی اخلاقی دلیل کے ذریعے حکومت کو پچھاڑنے کا موقع مل جاتا ہے۔ جمہوری نظام کی مضبوطی سے سیاست دانوں کی عزت بڑھے گی۔ موجودہ جمہوری حکمومت ہو یا سابقہ تمام حکومتوں کو غیر ضروری مسائل میں الجھایا گیا جس کی وجہ سے تمام حکومتیں اصل مسائل پر توجہ نہیں دے سکیں۔

ملک کی تاریخ میں اصل لیڈر شپ کو یا تو مار دیا گیا ہے یا غدار قرار دیا گیا ہے ، اسی وجہ سے ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا لیکن ہم اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھ سکے بلکہ مزید غلطیوں پر غلطیاں کرتے چلے گئے۔ ہمیں ماضی میں اپنی کی گئی غلطیوں سے سیکھنا پڑے گا۔ اپنے ماضی کی غلطیوں کی تلافی کرنی پڑے گی ، لیکن افسوس تلافی تو دور کی بات ہمیں اپنی غلطیوں کا احساس ہی نہیں، بلکہ ہم تو مزید غلطیوں پر غلطیاں کیے جا رہے ہیں۔

ہمیں اپنی غلطیوں سے سیکھنا ہو گا کہ ایسا کوئی سانحہ پھر ہمارا در نہ کھٹکھٹائے۔ سیاسی معاملات کو طاقت کے بل پر حل کرنے کی کوشش نے ہمیشہ ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ماضی میں مجیب الرحمان آزادی پسند تب بنے جب ان کی آواز نہ سنی گئی، اکبر بگٹی کو وہاں سے مارا گیا کہ خبر نہ ہو سکتی مگر خبر ہو گئی۔ بزور طاقت مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مسائل جنم لیتے ہیں۔ غداری کے سرٹیفیکٹ آخر کب تک بٹیں گے۔ اپنے شہریوں کو مساوی حقوق دینے، ملکی دستور کی پاس داری کرنے، اداروں کو اس دستور سے ہم آہنگ کرنے، تعلیم، صحت، تحقیق اور ثقافت کی جہتوں میں سرمایہ خرچ کرنے اور قومی ترقی کے ذریعے ہم اپنی قوم کے مستقبل کو ہمیشہ کے لیے محفوظ بنا سکتے ہیں۔

پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا ہو گا۔ ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا ہو گا۔ ملک میں صرف انہی سیاست دانوں کو آگے انے دیا جاتا ہے جو سب اچھا کی رپورٹ پیش کریں اور ایک ادارے کے ہاں میں ہاں ملائیں۔ اصل میں ہمیں لیڈر نہیں بلکہ مالشیے اور پالشیے چاہیے ہوتے ہیں ، جس نے بھی لیڈر بننے کی کوشش کی اس کو عبرت کا نشان بنایا گیا۔ ایسی ریاست جو اپنے شہریوں کو صرف اس لیے بونے بنا کر رکھتی ہے تاکہ وہ اطاعت شعار رہیں، اسے یاد رکھنا چاہیے کہ چھوٹے لوگوں سے کوئی بڑا کام نہیں لیا جا سکتا۔

بطور صحافی جب ہم سیاست دانوں کی غلطیوں کے بارے میں لکھتے ہیں یا بولتے ہیں تو ہر طرف سے واہ واہ ہوتی ہے لیکن جب ان سیاست دانوں کو لانے والوں، سیاسی پارٹی بنانے والوں کے بارے میں بات کریں تو نہ صرف مزاحمت ہوتی ہے بلکہ مسائل بھی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن سوال تو ان سے ہی بنتا ہے جن کے پاس اختیار اور طاقت ہو۔ ہمارا سارا بجٹ قرضوں کی ادائیگی یا دفاع میں خرچ ہو جاتا ہے۔ تعلیم، صحت، عوام، ملک کو معاشی طور پر مضبوط کرنا ہماری ترجیح کبھی نہیں رہی ہے۔

کسی بھی ملک کی معیشت مضبوط ہو تو اس کی بات دنیا میں اچھے طریقے سے سنی جاتی ہے۔ معیشت کی مضبوطی کا دار و مدار ملک کے سیاسی استحکام سے ہوتا ہے۔ پاکستان سے رقبہ اور آبادی میں بہت سے چھوٹے ملک دنیا کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ ان قوموں نے ترقی کے حصول کے لئے علم پر مبنی معیشت کو فروغ دیا، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے بغیر کوئی قوم ترقی یافتہ قوم نہیں کہلا سکتی ، اس کے لئے ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہو گا۔ محض جنگی جنون اور کھوکھلے نعرے پاکستان کو مضبوط نہیں بنا سکتے۔

اب جنگ معیشت کی ہے، ہتھیاروں کی نہیں۔ پیسے ہوں تو سائنس ٹیکنالوجی ہتھیار سب آ جاتے ہیں۔ اگر ہم سمت کا تعین کر لیں ، اگر ہم ملکی معیشت کی بہتری کے لئے سنجیدہ ہیں تو ہمیں تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے فنڈز میں اضافہ کرنا ہو گا۔ کوئی بھی ملک تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ ہمیں نصاب میں جدید دور کے مطابق تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ اسے ہمارا المیہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا نظام تعلیم مفلوج اور بوسیدہ ہے۔

ہم اس نظام تعلیم کے ذریعے آج تک ایسے سائنس دان، انجینیئر یا ڈاکٹر پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں جو بہتر طور پر اپنا فریضہ انجام دینے کی قابلیت رکھتے ہوں اور اپنے ہنر میں بھی ماہربھی ہوں۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے اندر جمہوریت لانا ہو گی۔ ملک میں جمہوریت کے تسلسل سے ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے۔ معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام لازمی ہے اور اگر ملک میں معاشی استحکام نہیں ہے تو نئی صنعتیں نہیں لگیں گی اور پاکستان میں یہ ہی ہو رہا ہے کہ اس وقت نئی صنعتیں نہیں لگ رہیں، موجودہ صنعتیں بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں، ایسی صورت میں بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

سیاسی عدم استحکام اور امن و امان میں بگاڑ کی وجہ سے ملکی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم اپنی ترجیحات کا تعین کرنا پڑے گا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہماری عزت ہو۔ ہمارا ایک مقام ہو۔ تو ہم کو اپنی ترجیحات کا از سرِنو جائزہ لینا پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *