شبِ بارات ہوا کرتی تھی یہ شب برات مجھے



بہت پہلے کہیں پڑھا تھا کہ ”جس کو شعور مل گیا پھر اس کی ساری زندگی اداسی اور دکھوں سے ہی عبارت رہی“ ۔ پڑھ کر پریشان تو نہیں ہاں مگر حیران ضرور ہوئی کہ ہماری اماں جان تو روز ہماری ہر حماقت پر اللہ کے حضور بڑی رقت سے فریاد کرتیں کہ ”یا الہٰی کبھی اس کند ذہن میں بھی شعور کی کرنیں روشن کرنے کا معجزہ کر دکھا“ ۔ مگر یہاں پر تو شعور کی عطا کو ہی سراسر ”دکھ اور اداسی“ پر محمول کیا جا رہا تھا۔ سو یہ سوال برسوں ہمارے کند ذہن کے ایک تاریک کونے سے چپکا بیٹھا رہا کہ شعور نعمت ہے یا عذاب؟

اب سوچتی ہوں کہ وہ وہ لاعلمی کتنی بڑی نعمت تھی۔ وقت اور کچھ دے نہ دے،بھلا برا شعور تو دے ہی جاتا ہے، ماضی کے اوراق پلٹوں تو آج سے پندرہ سال پہلے کی شب برات جب ”شب بارات“ تھی تو کتنی خوشیوں اور بے فکریوں والی ہوتی تھی، مہینوں پہلے ہی اس کی آمد کا بے صبری سے انتظار رہتا۔ پٹاخوں کی ٹھاہ ٹھاہ، چراغوں میں مٹی کے تیل کی مہک، رنگ برنگی موم بتیوں کی ٹمٹماتی لو، اور پھلجڑیوں کی جلتی بجھتی روشنی میں رات گئے تک بے فکری سے قہقہے لگاتے رہنے میں جو مزہ آتا تھا ، اس کو اس ”موئے شعور“ نے یہ کہہ کر ختم کر ڈالا کہ ”جس گھر میں بارود کی بو ہو وہاں رحمت کے فرشتے نہیں اترتے“ ۔

بس جی تو پھر کیا تھا، ہمیں تو اپنے اللہ سے بہت سی مناجاتیں، بہت سی فرمائشیں کرنا ہوتی تھیں ( کہ بچپن سے ہی اماں جان نے اور پھر حالات نے سمجھا دیا تھا کہ جو چیز بھی مانگنی ہو اللہ سے ہی مانگو) ۔ تو رحمت کا فرشتہ اگر ہمارے گھر میں نہیں اترے گا تو ہماری وہ تمام آرزوئیں اور عرضیاں (کہ جن میں کھلونے، چاکلیٹس اور آسائشوں والی زندگی نہیں، بلکہ ہر بار کلاس میں اپنے اول آنے، اپنی اماں ابا کی لمبی حیاتی، آپسی محبت اور پہلے پہل صرف ایک بھائی دے دینے کی مانگ اور پھر یہ خواہش پوری ہو جانے پر اس اکلوتے بھائی کی زندگی اور خوشیوں کی چھوٹی چھوٹی بے ضرر سی دعائیں شامل ہوتی تھیں ) اللہ تعالیٰ کے پاس اوپر آسمانوں تک کون لے کر جاتا؟

سو اس کے بعد بوجھل دل سے پٹاخوں اور پھلجڑیوں کا جھلمل جھلمل کرتا شوق رخصت کر دیا۔ اب تو ہمسایوں کے گھر سے آنے والی اس منحوس مگر مانوس سی خوبصورت بو  کو ختم کرنے کے بھی بے سود اپائے کیے جاتے، لیکن وہ ختم نہ ہوتی۔ پھر اللہ تعالی کو بتایا جاتا کہ “ آپ تو دیکھ ہی رہے ہیں ناں کہ یہ بو ساتھ والے گھر سے آ رہی ہے۔ ہم نے پٹاخہ تو کیا ایک پھلجڑی بھی نہیں چلائی، تو اب رحمت کے فرشتے کو سمجھا دیں کہ وہ ہمارے گھر کہیں نہ کہیں سے بچتا بچاتا آ جائے اور ”۔

پھر ایک سال دادی اماں نے صحن میں لگے امرود کے درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہمارے کند ذہن میں ایک اور اداس بلکہ ڈرا دینے والا شعور داغا کہ“ اوپر آسمانوں میں اللہ تعالی کے ہاں بھی ایک بہت بڑا درخت ہے جس پر ہمارے ناموں کے پتے اگتے ہیں۔ اور جس طرح اس امرود کے پتے جھڑ رہے ہیں ناں، بالکل اسی طرح اس سال جن لوگوں نے مر جانا ہو گا اس شب برات پر ان کے نام کے پتے بھی اس درخت سے جھڑ جائیں گے ” اور مزید ستم، زمین پر گرے ہوئے ایک پتے کو اٹھا کر دکھاتے ہوئے یہ کہہ کر کیا کہ“ دیکھو اس بار میرے نام کا پتا بھی گر گیا ہو گا، ”۔

خیر ہمیں شعور تو جو آنا تھا وہ آیا، لیکن جب ٹھیک پچیس دن بعد دادی اماں فوت ہو گئیں تو میں نے کوڑے کے ڈھیر سے امرود کا وہ پتا ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی ( جس کو پکڑ کر انھوں نے وہ منحوس بات کہی تھی ) کہ میں دھاگے سے یا کسی نہ کسی طرح اس پتے کو امرود کے ساتھ ٹانک دوں اور دادی اماں پھر سے اٹھ کر بیٹھ جائیں۔ مگر وہ نہ ملنا تھا نہ ملا۔

پھر اس شعور نے شب برات کی ”جھلملاتی اور قہقہوں بھری رات“ کو میرے لیے ”خوف ناک رات“ بنا ڈالا، اب ان ساری راتوں میں، میں دعائیں کرتی رہتی کہ میرے کسی پیارے کا پتا اس درخت سے نہ گرے، لیکن جنھوں نے گرنا ہوتا وہ میری دعاؤں کے باوجود گر جاتے۔ دیکھتے دیکھتے میرے خوش الحان اور باہر سے سخت نظر آنے والے مگر اندر سے نہایت نرم دل دادا کا پتا بھی گر گیا۔ دادا جن کی جیب میں ہم سب بچوں کو برابر برابر ٹافیاں بانٹ کر بھی صرف میرے لیے مزید ٹافیاں نکل آتی تھیں۔

میرا واحد رشتہ جو بیٹے اور بیٹی کے مابین واضح تفاوت کرنے کے باوجود اپنی پنشن آنے پر اپنے اکلوتے پوتے سے زیادہ مجھے جیب خرچ دیا کرتا۔ جن کی تلاوت کلام پاک کی آواز سنتے میری ان گنت صبحیں روشن ہوتی تھیں۔ ان کے بعد صبحیں پرنور سی لگنا بند ہو گئیں۔ پھر میرے نانا ابو اور سال پہلے نانو کے پتے بھی اس موئے درخت سے جھڑ گئے۔ اب تک سوچتی ہوں کہ کاش میں بھی ”The last leaf“ کے بوڑھے آرٹسٹ کی طرح اپنے پیاروں کے ان پتوں کو گرنے سے پہلے ہی آسمان پر لگے اس درخت پر مستقل پینٹ کر سکتی۔

گو اب شب برات کے آنے پر خوشی کی بجائے دکھ اور اداسی گھیرے رکھتی ہے، لیکن ان سب وہموں اور وسوسوں کے بیچ ”حلوہ پوری“ سے سجی ہوئی شب برات پھر بھی میٹھی ہی رہی کہ گزشتہ سات سال سے diet consciousness کے ”خودساختہ آسیب“ نے میری شب برات سے ”حلوہ پوری“ کی مٹھاس کو بھی نگل لیا۔ آنے والے چند سالوں میں یہ diet consciousness,
کسی طبی معالج کے diet restrictions میں بدل جائے گی۔

سوچتی ہوں کیا ملا شعور پا کر؟ وہی اداسی ناں؟

Facebook Comments HS