جھوٹا خواب: الطاف بھائی کی حکومت اور حقیقت
الطاف بھائی نے عقلمندی سے کام لیتے ہوئے عباسی شہید اسپتال میں پرائیویٹ ونگ کو گرا کر دس منزلہ پرائیویٹ وارڈ اور کمرے بھی بنوائے تھے جہاں سارے شہر سے مریض آنے لگے تھے اور اس کی آمدنی سے عباسی کے جنرل اسپتال میں مفت علاج فراہم کیا جا رہا تھا اور قابل ڈاکٹروں، نرسوں، مڈوائفوں کو منہ مانگی تنخواہ دی جا رہی تھی۔ عباسی شہید اسپتال کا شمار ملک کے بہترین اسپتالوں میں ہونے لگا تھا جہاں عرب ممالک سے بھی مریض علاج کے لیے آرہے تھے۔
حکومت سندھ کے محکمہ صحت پر دباؤ بڑھ گیا تھا کہ وہ بھی سول اسپتال اور اندرون سندھ کے اسپتالوں کو عباسی شہید اسپتال کی طرح سے چلائے اور سندھ حکومت کے میڈیکل کالجوں اور ٹیچنگ اسپتالوں کے فیکلٹی کو کل وقتی بنایا جائے۔
کراچی میونسپل کارپوریشن نے کراچی کے امیر لوگوں کی مدد سے سمندر پر کئی ریورس اسموسس پلانٹ لگائے تھے جو سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کر کے سمندر کے پانی کو پینے کے قابل بناتے تھے۔ چار سال کے اندر کے ایم سی کراچی کے ہر شہری کو پینے کا صاف پانی مہیا کرنے لگی تھی۔ کراچی کے شہریوں میں گندے پانی سے ہونے والی پیٹ کی بیماریوں کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ نیو کراچی، اورنگی، سعود آباد، کھوکھرا پار اور لانڈھی کورنگی کے علاقوں میں گھر کی عورتیں نلوں سے پانی بھرنے نہیں جاتی تھیں۔
الطاف بھائی نے جناح اسپتال کی پروفیسر صادقہ جعفری کی مدد سے کے ایم سی کے تحت چلنے والے 28 میٹرنٹی ہوم کو بھی کل وقتی بنا دیا تھا۔ ہر میٹرنٹی ہوم میں مڈوائفری کے اسکول کھول دیے گئے تھے۔ چار سال کے اندر کراچی میں ماؤں کی شرح اموات پچاس فیصد کم ہو گئی تھی اور خاندانی منصوبہ بندی کی مہم بہت کامیاب ہو گئی تھی۔ ایم کیو ایم نے نرسوں، مڈوائف اور پیرامیڈیکل کارکنوں کی تنخواہ میں چار گنا اضافہ کر دیا تھا۔ کراچی کی کئی لڑکیوں نے نرسنگ اور مڈوائفری کے اسکولوں میں داخلہ لے لیا تھا۔ کراچی شہر میں پولیو کا مکمل خاتمہ ہو گیا تھا۔ شہر کے میڈیکل اسٹور سائنسی بنیادوں پر کام کرنے لگے تھے۔ الطاف بھائی نے کہا تھا کہ ایک فارمیسٹ کی حیثیت سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کراچی کے شہریوں کو جعلی دواؤں سے چھٹکارا دلانا ضروری ہے۔
ایم کیو ایم نے مشہور آرکیٹکٹ عارف حسن اور یاسمین لاری کو شہر میں پرانی عمارتوں کے تحفظ کی ذمہ داری دی تھی۔ ان کے تعاون سے پورے شہر میں جدید سیوریج نظام چار سال کے عرصے میں بنا دیا گیا تھا۔ کراچی کے سمندر کے ساحل صاف ہو گئے تھے اور کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے کراچی سے ناجائز تجاوزات کا مکمل خاتمہ کر دیا تھا۔ ایم کیو ایم کی شہری حکومت نے کراچی سرکلر ریلوے کا نام بدل کر بشریٰ زیدی کراچی سرکلر ریلوے کر دیا تھا۔ سرکلر ریلوے کو دو سال میں بحال کر کے اس کی نئی لائنیں نیو کراچی اور سہراب گوٹھ تک پہنچا دی گئی تھیں۔ ایک نئی لائن کے ذریعے ملیر کے میمن گوٹھ اور کورنگی انڈسٹریل ایریا کو سرکلر ریلوے سے ملا دیا گیا تھا۔
کے ایم سی نے کراچی میں موجود تمام پارکوں کو بحال کر دیا تھا۔ گاندھی گارڈن کو بہت منظم کر دیا گیا تھا، جہاں اسکول کے بچے مفت آسکتے تھے۔ کراچی میں ہی فٹ پاتھوں، اسکولوں کی زمینوں، پارکوں اور سرکاری زمینوں پر بنی ہوئی مسجدوں، مدرسوں اور ان کے ساتھ شاپنگ پلازوں کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ کے ڈی اے کی طرف سے مسجدوں اور عبادت گاہوں کے لیے مختص زمینوں پر مسجدیں بنانے میں مدد کی گئی تھی۔ مذہب کے نام پر شہر میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر کراچی کے بزرگ عالم نے زمینوں پر قبضہ کر کے مسجدوں اور پلازوں کی تعمیر کے خلاف فتویٰ دے دیا تھا۔ کراچی میں نئے سینما گھر کھولے گے تھے اور کھیلوں کی سرگرمیوں پر وافر رقم خرچ کی جا رہی تھی۔ کراچی کی لڑکیوں کی کرکٹ اور ہاکی کی ٹیم ہالینڈ، سویڈن اور آئرلینڈ سے جیت کر آئی تھیں۔
ایم کیو ایم نے ایک نئے کلچر کا آغاز کیا تھا۔ ایم کیو ایم کے وزیر کراچی میونسپل کارپوریشن کے میئر شہر میں بغیر پروٹوکول کے سفر کرتے تھے۔ ان کے لیے راستے بند نہیں کیے جاتے تھے اور نہ ہی پولیس والے سائرن بجاتے تھے۔ سڑکیں صرف اسکول کے کے بچوں کی سبز بس کے لیے بند ہوتی تھیں۔
ایم کیو ایم نے کے ایم سی کے اسپتالوں، پارک، اسکولوں میں کام کرنے والے ان تمام کارکنوں کو جو سرکاری افسروں اور سیاستدانوں کے گھروں پر کام کر رہے تھے کو ان کے سرکاری کام پر واپس بھیج دیا تھا۔ گھوسٹ اسکول اور کالجوں کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ کے ایم سی کے فوڈ انسپکٹر شہر میں کھانے پینے کی جگہوں کو مستقل دیکھتے رہتے تھے۔ مکھی، مچھر اور گندے پانی کے جوہڑوں کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ کراچی میں لانڈھی کے مذبح خانوں سے دوبارہ سے گوشت کی ترسیل کے ایم سی کی خصوصی بند گاڑیوں میں ہونے لگی تھی۔ کراچی کی مچھلی مارکیٹ دوبارہ صاف ستھری ہو گئی تھی، جہاں پہلے جانے سے لوگوں کو الٹیاں شروع ہوجاتی تھیں کے ایم سی نے کراچی میں گٹکا کی خریدوفروخت پر پابندی لگادی تھی۔ رات آٹھ بجے کے بعد ڈبو کے کھیل کی دکانیں بھی بند ہوجاتی تھیں۔ کراچی کے تمام بازار شام سات بجے بند ہونے لگے تھے۔
پیپلز پارٹی کی حکومت ایم کیو ایم سے بہت تعاون کر رہی تھی مگر پیپلز پارٹی میں موجود جاگیردار اور وڈیرے ایم کیو ایم کی کارکردگی سے ناخوش تھے کیونکہ اندرون سندھ کے شہروں میں بھی شہری اپنی شہری حکومتوں کا مطالبہ کر رہے تھے کہ وہاں بھی کراچی کی طرح کا نظام چلایا جائے۔ پورے ملک سے لوگ کراچی کا نظام دیکھنے آرہے تھے۔ کراچی میں معیاری تعلیمی نظام کی وجہ سے کراچی کے نوجوانوں کی مانگ پوری دنیا میں ہو گئی تھی۔ پڑھے لکھے کراچی کے تعلیم یافتہ لڑکے لڑکیاں سرکاری ملازمت کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ کراچی میں کمپیوٹر کے بڑے بڑے مراکز بن گئے تھے اور کراچی میں مائیکروسافٹ، آئی بی ایم، آئی فون اور دیگر بڑی بڑی کمپنیوں نے اپنے کارخانے لگا لیے تھے۔ بل گیٹس سال میں دو دفعہ کراچی آنے لگے تھے۔
حقیقت
عظیم احمد طارق کو رات تین بجے ان کے گھر میں گھس کر قتل کر دیا گیا تھا۔ عظیم احمد طارق وہی تھے جو کراچی میں ہونے والے مشاعرے میں آئے تھے تو جون ایلیا نے کھڑے ہونے سے انکار کر دیا تھا جس کی بنا پر ان کے حواریوں نے جون ایلیا کو مار مار کر اسٹیج سے زمین پر پھینک دیا تھا۔
ایم کیو ایم کے دور حکومت میں کراچی میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں، اسپتالوں کی کارکردگی بہت خراب ہو گئی تھی اور زیادہ تر اسکول گھوسٹ بن گئے تھے۔ وہاں کے ملازمین پارٹی کا کام کرتے تھے یا بڑے افسروں کے گھروں میں ڈیوٹیاں دیتے تھے۔ امتحانوں میں نقل کی آزادی تھی۔ کراچی شہر جو تعلیم یافتہ لوگوں کا شہر تھا اسے ناخواندہ لوگوں کا شہر بنا دیا گیا تھا۔
سوائے سوبھراج میٹرنٹی اسپتال اور گزری میٹرنٹی اسپتال کے علاوہ کوئی بھی کے ایم سی کا اسپتال دو بجے کے بعد کام نہیں کرتا تھا۔ ان اداروں کے بند ہونے سے طبی سہولتوں کا فقدان ہوگا تھا جس کا سب سے زیادہ نقصان کراچی کے غریب لوگوں کو ہوا تھا۔
کے ایم ڈی سی کی سیٹیں ایک حکم کے ذریعے 100 سے بڑھا کر 300 سو کردی گئیں۔ نئی اضافی فیکلٹی کا تقرر نہیں کیا گیا۔ عباسی شہید اسپتال میں کام تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ وہاں کی فیکلٹی کا حال سندھ گورنمنٹ کے میڈیکل کالجوں کے فیکلٹی سے بھی بدتر ہے۔ کے ایم ڈی سی میں مناسب تعلیمی نظام ممکن ہی نہیں ہے۔ ایم کیو ایم نے کے ایم ڈی سی کو بھی میڈیکل یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا تھا تاکہ دوسرے میڈیکل یونیورسٹیوں کی طرح یہاں بھی دوستوں کو نوازا جائے۔ بدلتے ہوئے حالات کی وجہ سے ایم کیو ایم کی خواہش پوری نہیں ہو سکی۔
پارکوں میں چائنا کٹنگ کر کے زمینیں فروخت کی گئیں جن کا کسی کے پاس کوئی حساب نہیں ہے۔ ناجائز تجاوزات کو کھلی چھٹی دیدی گئی اور ریاستی علاقوں کو راتوں رات کمرشل کر دیا گیا۔ ان کمرشل عمارتوں کے ذریعے ایم کیو ایم کے کارکنوں نے پیسہ کمایا، جن میں سے اکثر ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
الطاف بھائی نے اپنی تعلیم گاہ جامعہ کراچی کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ بلکہ جامعہ کراچی سمیت دیگر تعلیمی اداروں میں اسلامی جمعیت طلبا کے تھنڈر اسکواڈ کی طرح کام کرتے ہوئے اپنی حکومت قائم کرلی۔ مخالفوں پر تشدد کیا گیا اور ان کی جانیں بھی لی گئیں۔
سندھ کی صوبائی حکومت نے ایم کیو ایم کو ناکام کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ دونوں نے سندھ کے عوام کی بہتری کے لیے کوئی بھی قابل ذکر اور دور رس کام نہیں کیا۔ ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کی گئی۔ کئی کارکنوں کو قتل کر دیا گیا۔ عوام ایم کیو ایم کی حمایت میں فوج اور پولیس سے لڑنے کے لیے باہر نہیں آئی۔
کراچی سرکلر ریلوے کے نام پر کراچی کے عوام کو بے وقوف بنایا۔ کراچی سرکلر ریلوے کو بحال کرنے کے بجائے ریلوے کی زمین پر قبضہ کر کے یونیورسٹی بنا دی گئی۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ کراچی یونیورسٹی اور اردو یونیورسٹی کو بہتر بنایا جاتا مگر ایم کیو ایم نے وڈیروں کی طرح قبضہ مافیا کی طرح عام لوگوں کے استحصال کو یقینی بنایا۔
کراچی اور کے ایم سی میں میرٹ اور قابلیت کا جنازہ نکال دیا گیا۔ سندھ میں تعینات الطاف بھائی کے لاڈلے گورنر نے اپنے طویل ترین دور حکومت میں پورے سندھ میں ایک بھی وائس چانسلر میرٹ کی بنیاد پر نہیں آنے دیا۔ کسی بھی سیکنڈری اسکول اور ہائر سیکنڈری اسکول کے تعلیمی بورڈ میں قابلیت کی بنیاد پر چیئرمین کا تقرر نہیں کیا گیا۔
ایم کیو ایم کے کسی بھی سابق، موجودہ رہنما اور کارکن نے کراچی کے شہریوں سے اپنی نا اہلی اور خراب کارکردگی کی معافی نہیں مانگی اور نہ ہی کراچی کی بربادی اور سینکڑوں خاندانوں کے کھوئے ہوئے مقتول بچوں کے بارے میں شرمندگی کا اظہار کیا۔

