جھوٹا خواب: الطاف بھائی کی حکومت اور حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مہاجر قومی موومنٹ کی تاریخی کامیابی پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی تھی۔ الطاف حسین نے کراچی میں ہر قسم کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے پرخچے اڑا دیے تھے۔ طلبا تنظیموں میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور اسلامی جمعیت طلبا میں اردو بولنے والے کارکن ٹوٹ ٹوٹ کر ایم کیو ایم کی طلبا تنظیم آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) میں شامل ہو گئے تھے۔ کیا شیعہ، کیا تبلیغی، کیا جماعتی، کیا وہابی، کیا بریلوی اور کیا آغا خانی سب لوگوں نے الطاف بھائی کی مکمل حمایت کر کے انہیں مکمل طور پر کراچی میں کامیاب کر دیا تھا۔ مہاجر حقوق کا نعرہ ایسا ہی نعرہ تھا جس نے سیاسی کارکنوں، عام شہریوں، طلبا اور مزدوروں کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا۔ بشریٰ زیدی کے حادثے کے بعد سے شہر میں ایسی مہم چلی کہ مہاجر ایم کیو ایم کے گرد شہد کی مکھیوں کی طرح جمع ہو گئے تھے۔

ایم کیو ایم نے پاکستان پیپلز پارٹی سے اتحاد کر لیا تھا۔ کراچی میں میونسپل کارپوریشن میں مکمل برتری کے بعد اور میئر کا عہدہ سنبھالتے ہی ایم کیو ایم نے کراچی کے تمام شہری معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا۔ ایم کیو ایم کے میئر نے الطاف بھائی کی ہدایت پر فوری طور پر شہر کراچی کے قابل اور ایماندار شہریوں پر مشتمل کئی کمیٹیاں بنا دی تھیں جو دن رات کام میں مصروف ہو گئی تھیں۔ ایم کیو ایم کو صوبائی حکومت میں بھی کئی اہم وزارتیں دے دی گئی تھیں۔

الطاف حسین نے امید ظاہر کی تھی کہ صوبائی حکومت ایم کیو ایم سے تعاون کرے گی اور بہت جلد وہ کراچی کی شکل بدل کر رکھ دیں گے۔ کراچی میں رہنے والے تمام لوگوں کی خدمت کریں گے۔ کراچی کے ہر شہری کو جینے کا حق ہوگا، چاہے وہ اردو بولنے والا ہویا سندھی، بلوچی ہو یا پٹھان، پنجابی ہو یا بنگالی، برما سے آیا ہو یا افغانستان سے۔ ویت نام کا شہری ہو یا ایران کا بہائی، وہ ہندو ہو یا پارسی، عیسائی ہو کہ سکھ۔ انہوں نے کہا تھا کہ سب مل جل کر کراچی کو ایسا شہر بنا دیں گے جو پاکستان کا بہترین شہر ہوگا۔ ایک جدید شہر، ایک عظیم شہر، جہاں شہریوں کی حفاظت کی جائے گی، ان کو تحفظ دیا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ صوبائی حکومت ایم کیو ایم کی ہر طرح سے مدد کرے گی، انہیں با اختیار وزارتیں دی گئی ہیں اور ان کے وزیروں کے کاموں میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی بلکہ پیپلز پارٹی کی حکومت ایک سہولت کار بن کر ان کا ساتھ دے گی۔ پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ فی الحال کوٹہ سسٹم کو ختم نہیں کیا جاسکتا مگر وہ ایم کیو ایم کے اس خیال سے متفق ہے کہ سارے کام صرف اور صرف قابلیت کی بنیاد پر کیے جائیں۔

ہم اس بات پر متفق ہیں کہ کچھ عرصے کے لیے کوٹہ سسٹم رہے گا اور جلد ہی اس کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ کوٹہ سسٹم کے باوجود ہر جگہ میرٹ اور قابلیت پر ہی کام کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ صوبے میں ایم کیو ایم کے تعاون سے ایسی حکومت قائم کی جائے جو صوبے میں رہنے والے تمام لوگوں کی حفاظت کرے۔ امن و امان بحال کر کے انصاف ہر ایک کو ملے اور شہریوں کی حفاظت کی جائے۔ کراچی کی پولیس کراچی کے شہریوں کے لیے کام کرے گی، شہریوں کے خلاف نہیں جائے گی۔

ایم کیو ایم کے چیئرمین عظیم احمد طارق نے بانی ایم کیو ایم کے حکم پر ایم کیو ایم کے ان کارکنوں کا داخلہ نائن زیرو میں بند کر دیا تھا جنہوں نے الطاف بھائی کی تصویر کروٹن کے پتوں اور کچھ مسجدوں میں سنگ مرمر پر ڈھونڈ نکالی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایم کیو ایم میں خوش آمدی اور چمچہ گیری کے کلچر کو قائد کے حکم سے ختم کیا جا رہا ہے اور ایم کیو ایم کے تمام کارکنوں سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ہمیشہ اور ہر حالت میں سچ بولیں گے۔ الطاف بھائی انسان ہیں نہ وہ کروٹن کے پتے پر نظر آئے تھے نہ آسمان اور نہ ہی چاند پر۔ جو لوگ انہیں پیر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں بتانا ضروری ہے کہ الطاف بھائی پیری مریدی کے خلاف ہیں۔ ان کی نظر میں سب انسان برابر ہیں۔

ایم کیو ایم نے کراچی میں تعلیم پر سب سے پہلے توجہ دی تھی، سب سے پہلے کراچی میں تعلیمی نظام کو بدلنے کے لیے کام شروع کر دیا تھا۔ سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد کے ذریعے کراچی یونیورسٹی کو مکمل طور پر خودمختار بنا دیا گیا۔ الطاف بھائی نے کراچی یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز میں کراچی کے آدم جی، باوانی، ولیکا اور کچھ اور صنعت کاروں کے خاندانوں کو شامل کیا جنہوں نے یونیورسٹی کے لیے وافر رقم جمع کی تھی۔ جس سے یونیورسٹی کے انڈومنٹ فنڈ میں کثیر رقم جمع ہو گئی تھی۔

یونیورسٹی کو کل وقتی بنا دیا گیا اور پورے پاکستان سے قابل لوگوں کو فیکلٹی میں شامل کیا گیا۔ الطاف بھائی کی اپیل پر برطانیہ اور امریکا سے کراچی یونیورسٹی کے ستائیس سابق طالب علموں نے پاکستان واپس آ کر یونیورسٹی میں کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ جامعہ کراچی سے تعلیم یافتہ سابق طالب علموں کی ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں جاوید جبار، توصیف احمد، اسد اشرف ملک سمیت چند اور نمایاں لوگوں کو شامل کیا گیا تھا۔

جنہوں نے چھ ماہ میں یونیورسٹی میں دن رات لگا کر جامعہ کراچی کی ظاہری شکل بدل کر رکھ دی تھی۔ الطاف بھائی کی ہدایت پر کراچی یونیورسٹی کے سابق طالب علموں کی تنظیم نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے۔ یونیورسٹی کے سابق طالب علموں سے ایک سو سترہ ملین ڈالر جمع کر کے یونیورسٹی کے انڈومنٹ فنڈ میں جمع کرایا تھا جس کی وجہ سے یونیورسٹی میں بہترین فیکلٹی کا تقرر کر دیا گیا تھا۔ کراچی یونیورسٹی میں ہارورڈ، کیمبرج اور یورپین یونیورسٹیوں کی طرح رات گئے تک کلاسیں ہوتی رہتی تھیں اور دنیا کے کئی ممالک سے طالب علم کراچی یونیورسٹی میں پڑھنا پسند کرتے تھے۔ دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانیوں نے بھی اپنے بچوں کو کراچی یونیورسٹی بھیجنا شروع کر دیا تھا۔ جامعہ کراچی کی لائبریری چوبیس گھنٹے کھلی رہنے لگی تھی۔ پاکستان کے دوسرے صوبوں میں بھی مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ وہاں کی جامعات کو بھی مکمل طور پر خودمختار بنا دیا جائے۔

الطاف بھائی نے کراچی اور کراچی کے اطراف میں تمام کارخانوں پر تعلیمی ٹیکس لگایا تھا جس کے مطابق تمام کارکنوں کی تنخواہ سے ایک روپیہ ماہانہ تعلیمی فنڈ کے نام سے کٹنا شروع ہو گیا تھا اور مالکان کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ بھی اتنی ہی رقم کے ایم سی کے محکمہ تعلیم کو ماہانہ ادا کریں۔

دیکھتے دیکھتے کراچی میں موجود کے ایم سی اسکولوں کا شمار کراچی کے بہترین اسکولوں میں ہونا شروع ہو گیا تھا۔ کے ایم سی کے تمام گھوسٹ اسکول بند ہو گئے تھے۔ کے ایم سی کے تمام اسکولوں میں بنچ فراہم کر دیے گے۔ کوئی طالب علم زمین پر نہیں بیٹھتا تھا۔ اسکول میں پینے کا پانی ہر وقت مہیا ہوتا تھا۔ صاف ٹوائلٹ فراہم کیے گئے تھے اور تمام بچوں کو دوپہر کا کھانا مفت فراہم کیا جاتا تھا۔ کے ایم سی کی طرف سے سبز رنگ کی خصوصی بسیں ’علم بس سروس‘ کے نام سے چلا دی گئی تھیں جو طلبا و طالبات کو اسکول لاتی لے جاتی تھیں اور کوئی بھی بچہ اسکول بسوں میں لٹک کر نہیں جاتا تھا۔ سبز بسوں کی آمد کے دوران ٹریفک رک جاتی تھی تاکہ بچے وقت پر اسکول پہنچ جائیں۔ گزشتہ تین سالوں سے کراچی بورڈ کے امتحانوں میں اورنگی، کورنگی، کیماڑی، لیاری اور ملیر کے بچے اچھے نمبروں سے پاس ہو رہے تھے اور پوزیشن لے کر گرائمر اسکول اور سینٹ جوزف اسکول کے بچوں سے بہتر نمبر لے رہے تھے۔

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر نے ایم کیو ایم کی ہدایت کے مطابق رضاکار طلبا کی ایک فوج تشکیل دی تھی جو کراچی کے ہر علاقے میں ناخواندہ جوان و بزرگ شہریوں کے لیے تعلیم کا اہتمام کر رہی تھی۔ سرکاری اسکولوں میں شام سے رات گئے تک مردوں اور عورتوں کے لیے تعلیم بالغاں کے مراکز قائم کیے گئے تھے جہاں شہری بڑے شوق سے تعلیم حاصل کرنے آرہے تھے۔ حال ہی میں ایک 69 سالہ شہری نظام الدین نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا جس کو نائن زیرو میں بلا کر سرٹیفکیٹ دیا گیا۔ الطاف بھائی نے اپنی پرانی ہنڈا 50 پر نظام الدین صاحب کو بٹھا کر عزیز آباد میں گھمایا، تاکہ لوگوں میں تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔

ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی سے ایک قانون منظور کرایا جس کے مطابق کراچی کے اسکولوں میں اردو کے ساتھ ساتھ پانچویں جماعت تک سندھی زبان کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔ ہر اسکول میں لائبریری قائم کی گئی تھی۔ ڈاکٹر اسلم فرخی، شکیل عادل زادہ، جون ایلیا، خالد علیگ اور خواجہ رضی حیدر کو شامل کر کے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جو ہر سال کے ایم سی کے اسکولوں کی لائبریریوں اور شہر میں قائم کی گئی پانچ غالب لائبریریوں کے لیے بیس کروڑ روپے کی کتابیں خریدتی تھی۔

شہر میں غالب لائبریریوں کے قیام کے لیے باہر کے ملکوں میں رہنے والے پاکستانیوں نے رقم فراہم کی تھی۔ ایم کیو ایم کے ان فیصلوں کی وجہ سے پڑھنے کے رجحان میں اضافہ ہوا تھا اور اردو اور سندھی کے ادیبوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تھا اور پڑھنے لکھنے کی فضا قائم ہو گئی تھی۔ کراچی میونسپل کارپوریشن نے کراچی کے شہری حدود میں موجود دینی مدرسوں میں بھی لائبریریاں قائم کی تھیں اور مدرسوں میں دینی تعلیم کے ساتھ ریاضی، فزکس اور بایولوجی کو لازمی مضمون قرار دیا گیا تھا۔ مولوی حضرات اس بات سے خوش نہیں تھے مگر چند دینی رہنماؤں نے اس کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

کراچی میونسپل کارپوریشن نے کراچی کی حدود میں موجود تمام دکانوں پر دس روپیہ ماہانہ کتابی ٹیکس لگایا تھا جن سے ان لائبریریوں کا خرچہ نکل رہا تھا۔ ان لائبریریوں میں ہی طلبا و طالبات کی علمی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ وہاں تقریری مقابلے، بیت بازی، ناٹک اور قصہ گوئی کی محفلیں منعقد کی جاتی تھیں۔ شہر کے شاعر اور ادیب ان لائبریریوں میں طبا و طالبات سے علمی موضوعات پر بحث کرتے تھے۔

کراچی کے مشہور ڈاکٹر اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سرگرم کارکن سرجن بدر صدیقی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنی تھی جس نے کے ایم سی کے عباسی شہید اسپتال کو الطاف بھائی کے مشوروں کے مطابق کل وقتی اسپتال بنا دیا تھا۔ جہاں تمام ڈاکٹروں کو آغا خان اسپتال سے زائد تنخواہ دی جا رہی تھی۔ الطاف بھائی نے حکم دیا تھا کہ کراچی میڈیکل ڈینٹل کالج کے طالب علموں کو بھی ویسا ہی پڑھایا جائے جیسا کہ آغا خان اسپتال کے طالب علموں کو پڑھایا جا رہا ہے۔ کے ایم ڈی سی کے پاس کیے ہوئے طلبا کالج آف فزیشن سرجن، برطانیہ اور امریکا کے امتحان اچھے نمبروں سے پاس کر رہے تھے۔ اسی طرح سے کل وقتی فیکلٹی کی وجہ سے عباسی شہید اسپتال کا شمار کراچی کے بہترین اسپتالوں میں ہو گیا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments