اسلامیہ کالج سول لائنز میں دفن تاریخ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کئی بار زندگی بڑا حیران کر دیتی ہے۔ اسلامیہ کالج سول لائنز کی لائبریری کے دائیں ہاتھ ایک خستہ حال عمارت ہوتی تھی۔ اس کی چھت دیکھ کر ہم قیاس کیا کرتے کہ کبھی چھوٹا سا مندر ہو گا۔ البتہ عمارت کے تینوں گنبد اور محرابیں پنجاب کے کھلے تعمیراتی ذوق کا عکس ہیں۔ عمارت کے احاطے میں ایک تناور درخت تھا۔ بھری دوپہر میں بھی یہاں چھاؤں ہلکی سی شام کیے رکھتی ’گنبد والے ایک ملحقہ کمرے میں مالی اور بیلدار اپنے کھرپے‘ گھاس کاٹنے والی تلواریں ’کسیاں اور بیج وغیرہ رکھتے۔

نسبتاً بڑا کمرہ جو دس ضرب دس فٹ کا ہو گا وہاں کالج کی ڈسپنسری تھی۔ ایک ڈاکٹر صاحب موجود ہوتے۔ فائیکس کے گھنے پیڑ سے پرے جنوبی سمت جو جگہ دھوپ کی نظر میں رہتی وہاں پھولوں کی پنیری والے گملے پڑے ہوتے۔ بارہ بجے کے لگ بھگ مالی‘ نائب قاصد اور فراش وہاں اپنی پوٹلیاں سائیکلوں سے اتار کر آ جاتے۔ اس وقت یہ جگہ ایک لنگر خانہ معلوم ہوتا۔ عمارت ایک چبوترے پر ٹکی تھی۔ فرش لال اینٹوں کا تھا، دیواروں پر سفید اور دودھیا رنگ کا چونا پھیر کر اینٹوں کے ٹوٹے دانت چھپانے کا چارہ کیا جاتا۔

کالج کی باڈی بلڈنگ و کبڈی ٹیم کا حصہ تھا، سپورٹس آفس سے لائبریری کی طرف آنا ہوتا تو ہم ڈسپنسری والی پتلی گلی سے گزرنے کی بجائے پنیری والے گملوں کے اوپر سے چکر کاٹ کر آتے۔ ابا جی کو ڈھونڈنا ہوتا تو اسی جگہ کے گرد و نواح میں مل جاتے۔ پچیس سال ہونے کو آئے، میں کالج سے فارغ ہوا تو دو سال بعد ابا جی کا تبادلہ بھی گلبرگ کے ایک کالج ہو گیا۔ یوں ہم دونوں لگ بھگ ساتھ ساتھ یہاں سے نکلے۔ پھر نہ وہ جا سکے نہ مجھے وقت ملا۔

برادرم ڈاکٹر اختر حسین سندھو نے موقع نکالا۔ دو ہفتے قبل میں نے پنجاب یونیورسٹی میں زیتون کے ایک سو پودے عطیہ کیے ۔ اس بار کچھ پودے لے کر کالج آ گیا۔ ابا جی ساتھ تھے۔ اولڈ فارانئینز نے کالج میں پھلدار پودے لگائے پھر دیگر احباب کے ساتھ کالج کا چکر لگاتے ہوئے ہم اس چبوترے کے سامنے آ کھڑے ہوئے جہاں خستہ حال اداسی ماری عمارت میں ڈسپنسری ہوتی تھی، جہاں ملازمین مل کر کھانا کھاتے جہاں پھولوں اور پودوں کی چھوٹی سی نرسری تھی اور جہاں فائیکس کے گھنے پیڑ کے نیچے دن کے وقت بھی ’شام ڈیرے ڈالے رکھتی۔

چبوترے پر چڑھنے سے قبل ایک چکر تاریخ کا لگا لیتے ہیں۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ پنجاب کی تاریخ کا ہمیشہ رہ جانے والا باب ہے۔ مہاراجہ کی ایک بیگم کا نام راج کور المعروف نکائن کور تھا۔ راج کور قصور کے مشہور علاقے پتوکی کے نکئی سردار رن سنگھ کی بیٹی تھی۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی موت کے بعد اس کا ولی عہد قرار دیے جانے والا بیٹا کھڑک سنگھ اسی راج کور کے بطن سے پیدا ہوا۔ 27 جون 1839 ء کو مہاراجہ کا انتقال ہوا تو کھڑک سنگھ تخت و تاج کا وارث بنا۔

اس نے محض ایک سال اور تقریباً چار ماہ حکومت کی ہو گی کہ چل بسا۔ راج کور کی رنجیت سنگھ سے 1798 ء میں شادی ہوئی۔ اس خاتون کی موت 2 جون 1838 ء کو ہوئی۔ اس خاندان کی ایک اور خاتون چندر کور یا چند کور تھی۔ چندکور رنجیت سنگھ کی بہو اور کھڑک سنگھ کی بیوی تھی۔ نونہال سنگھ اس کا بیٹا تھا۔ کھڑک سنگھ کی آخری رسوم ادا کر کے لوگ واپس آ رہے تھے کہ شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد کے سامنے والے حضوری باغ کے دروازے کی چھت کا کچھ حصہ شاید کھڑک سنگھ کے سوگ میں چلنے والی توپوں کا گولہ لگنے سے گر پڑا۔

نونہال سنگھ کو باپ کا جانشین بننا تھا لیکن وہ اس گرتی ہوئی چھت کی زد میں آ گیا۔ زخم گہرے تھے اس لئے جانبر نہ ہو سکا۔ اس موقع پر وزیر دھیان سنگھ نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ایک بیٹے شیر سنگھ کو بٹالہ سے بلا بھیجا۔ اسی دھیان سنگھ کے نام پر اندرون لاہور ایک شاندار حویلی ہے جسے انگریز حکومت نے سکول بنا دیا۔ شیر سنگھ کئی یورپی جرنیلوں سے تعلق خاطر رکھتا تھا۔ اپنے سوتیلے بھائی کھڑک سنگھ اور بھتیجے نونہال سنگھ کے مرنے کے بعد تخت پر اس کا حق سمجھا جا رہا تھا کہ کھڑک سنگھ کی بیوی چند کور نے حکومت پر قبضہ کر لیا۔

چند کور شوہر کے ساتھ ستی نہ ہوئی تھی۔ کئی طاقتور سردار جن میں بھائی رام سنگھ‘ سردار عطر سنگھ اور اجیت سنگھ سندھاں والیہ شامل تھے انہوں نے رانی چند کور کا ساتھ دیا۔ رانی چند کور نے کمال دانشمندی سے امور حکومت سنبھالے ’وزیر دھیان سنگھ کو رانی ناپسند کرتی تھی اس لئے اس نے شیر سنگھ سے خفیہ ساز باز جاری رکھی۔ شیر سنگھ نے لاہور کی افواج کے بعض دستوں کو ساتھ ملا لیا اور بٹالہ سے اپنی فوجیں لے کر 14 فروری 1841 ء کو لاہور آ پہنچا۔

بدھو کے آوا پر قیام کیا۔ شاہی مسجد کے میناروں پر بندوقچی بٹھا کر قلعہ پر گولہ باری کی۔ اسی اثناء میں وزیر دھیان سنگھ جموں سے لاہور آ گیا۔ دھیان سنگھ نے رانی کے وفادار اپنے بھائی گلاب سنگھ کی مدد سے فریقین میں راضی نامہ کرا دیا۔ رانی کو مجبوراً آمادہ ہو نا پڑا۔ 18 جنوری 1841 ء کو شیر سنگھ کی تخت نشینی ہو گئی۔ رانی چند کور نے انگریز کی بڑھتی سازشوں اور اپنے ہی لوگوں کے دغا کے باوجود ساڑھے تین مہینے پنجاب پر حکومت کی۔

رانی چند کور کی پراسرار موت 11 جون 1842 ء کو ہوئی۔ ایک تیسری خاتون کا ذکر کیے بنا ہم چبوترے پر نہیں جا سکتے۔ تیسری خاتون رانی چند کور کی بہو اور نونہال سنگھ کی بیوی صاحب کور تھی۔ رانی چندکور اپنی بہو سے بہت پیار کرتی تھی۔ صاحب کور کا انتقال 1841 ء میں چند کور سے ایک سال پہلے ہوا۔ چبوترے کو ہموار کر کے وہاں روغنی ٹائلیں لگا دی گئی تھیں۔ دو کمرے کھلے تھے تیسرا بند تھا۔ ڈسپنسری اسی بندکمرے میں ہوا کرتی تھی۔

پیڑ کے نیچے نرسری ختم کر دی گئی‘ گھنی شاخیں کاٹ کر پیڑ کو ہلکا کر دیا گیا تھا ’شام کہیں نہیں تھی‘ ہر طرف دھوپ برس رہی تھی۔ کالج انتظامیہ نے محققین کی مدد سے سنگ مر مر کے ایک پتھر پر تینوں کمروں کا حال نقش کروا دیا تھا۔ یہ تینوں سمادھیاں ہیں ’یہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی بیوی راج کور‘ رنجیت سنگھ کی بہو اور پنجاب کی مختصر عرصہ تک حکمران رہنے والی چندکور اور ساتھ چھوٹے سے کمرے میں رنجیت سنگھ کے پوتے نونہال سنگھ کی کم سن بیوی صاحب کور کی راکھ دفن ہے۔ معلوم نہیں جس زمانے میں یہ سمادھیاں تعمیر ہوئیں اس وقت یہ علاقہ کس حال میں تھا۔ ایک قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ علاقہ جس پر گورنمنٹ کالج ’اسلامیہ کالج سول لائنز، ناصر باغ‘ ضلع کچہری ’سیکرٹریٹ اور ویٹرنری یونیورسٹی وغیرہ بعد میں بنائے گئے یہ رانی چندکور کی جاگیر تھی۔ (جاری ہے )
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *