میانمار کا فوجی انقلاب اور جمہوری رویوں میں تضادات


فلمی صحافت کی اصطلاح زبان میں بات کی جائے تو ماننا پڑے گا کہ میانمار کو خبروں میں رہنے کا ہنر آتا ہے۔ ہند چینی خطے کا یہ چھوٹا سا ملک بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ہمیشہ سے شہ سرخیاں بناتا رہا ہے۔ سب سے پہلے نصف صدی کے قریب اقتدار پر قابض فوجی رجیم جس کے خلاف دھان پان سی لڑکی آنگ سان سوچی کی دلیرانہ جدوجہد، طویل قید تنہائی، بڑے پیمانے پر عالمی پذیرائی اور پھر نوبل انعام۔ 2010 میں جمہوریت کا نفاذ ہوا تو کچھ عرصے بعد ہی روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اور جبری بے دخلی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اس سال جب دنیا کورونا کی وبا کے دوران لاک ڈاؤن اور معاشی بحران سے نبرد آزما تھی، ساتھ ہی ساتھ امریکی تاریخ کے سب سے زیادہ پرتشدد انتخابات کی گونج بھی ختم نہ ہوئی تھی کہ یکم فروری کا سورج میانمار سے ایک نئی خبر لے کر طلوع ہوا۔ معلوم ہوا کہ حالیہ انتخابات میں سوچی کی جماعت کی کامیابی پہ مضطرب فوج نے حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

اس خبر نے جہاں پوری دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا وہیں جمہوریت سے جڑے چند بنیادی سوالات بھی منظر عام پر آئے۔ یہ پوچھا جا رہا ہے کہ فوجی قیادت کو اس انتہائی قدم کی تحریک کیسے ملی کہ اس طویل جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والی جمہوریت کی بساط دس برسوں میں ہی لپیٹ دی گئی۔ کچھ مبصرین اسے چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں جو سرد جنگ کے زمانے کے امریکہ اور سویٹ یونین کی طرح اپنی پٹھو حکومتوں کو عالمی دباؤ کی پروا کیے بغیر سپورٹ کر سکتا ہے۔ کچھ اسے بعد از کورونا دنیا کا مظہر کہہ رہے ہیں جہاں جمہوریت کے حامی مغربی ممالک شدید معاشی اور سماجی دباؤ کا شکار ہونے کے بعد غیر جمہوری ریاستوں کے خلاف مؤثر اقدامات کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔

مگر ہمارے نزدیک جو سب سے اہم وجہ ہے وہ جمہوری قووتوں کی داخلی منافقت ہے جس کا مظاہرہ میانمار اور ہندوستان جیسے ممالک میں ہو رہا ہے جہاں جمہوریت ہر طبقۂ آبادی کے مساوی حقوق کی ضامن اور محافط بننے کے بجائے اکثریتی آبادی کے جبر کی آلہ کار بن گئی ہے۔ یہ صورتحال نہ تو جمہوریت کے لیے نیک فال ہے اور نہ ان معاشروں کے لیے جہاں یہ تجربہ اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔

جمہوریت ووٹ کی طاقت کی اندھی پرستش کا نام نہیں بلکہ ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کا میثاق ہے۔ اس اصول کو فراموش کر کے محض اکثریتی ووٹ کی بنیاد پر کسی اقلیتی گروہ پر اپنی رائے مسلط کرنے کا عمل جمہوریت نہیں اکثریت پرستی ہے۔ ایسی جمہوریت کو فسطائیت بنتے دیر نہیں لگتی۔ حقیقی جمہوری تحریکوں کو اس رجحان پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔

یہی منافقت میانمار کے جمہوری المیے کی جڑ ہے۔ ایک سنگین غلطی جو میانمار کے عوام اور ان کی عاقبت نااندیش قیادت نے روہنگیا میں فوجی آپریشن کے موقع پہ کی۔ اس ظالمانہ کارروائی کی کھلی اور درپردہ حمایت کر کے دراصل انہوں نے جرنیلوں کو بغاوت کا راستہ خود دکھایا۔ طاقت کے زور پہ کسی گروہ پر ظلم ڈھانے اور اس کا ناطقہ بند کرنے کا رویہ اپنی نہاد میں غلط ہے ۔ قطع نظر اس کے کہ وہ طاقت بندوق کی ہو یا ووٹ کی، اس رویے کی تائید کر کے میانمار کے شہریوں نے دراصل اپنی نوزائدہ جمہوریت کے خاتمے کا سامان خود ہی کر دیا۔

بھیڑیے کے منہ کو خون لگ چکا تھا ، اب اگلا حملہ کہیں بھی ہو سکتا تھا۔ کیا طرفہ تماشا ہے کہ جس وقت عالمی ذرائع ابلاغ میں قتل عام، ریپ اور جبری بیدخلی کی لرزہ خیز تفصیلات گشت کر رہی تھیں۔  عین اس وقت میانمار کے شہری اپنے ہم وطنوں پر ہونے والے مظالم پر آنکھیں موندے چین کی بانسری بجا رہے تھے اور ہمارے ذہن میں ٹالسٹائی کا شہرہ آفاق فقرہ گونج رہا ہے۔

”Count, don’t forget there is one God above us both.“

اب اسے حالات کی ستم ظریفی ہی کہیں گے کہ کل تک روہنگیا میں ہونے والے مظالم پر شرمناک خاموشی کا مظاہرہ کرنے والے آج جمہوریت کے لیے سراپا احتجاج ہیں، ہر روز درجنوں مظاہرین کے فائرنگ مین ہلاک ہونے کی خبر آتی ہے۔ یاد رہے کہ ان لوگوں کے گھروں کو کسی نے آگ نہیں لگائی نہ ان کے روزگار اور کاروبار کو چھینا گیا، نہ ہی انہیں نسل کشی اور منظم ریپ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہیں صرف اپنا حکمران خود چننے کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اب یہ منافقت نہیں تو کیا ہے کہ اپنا تو حق انتخاب بھی اتنا عزیز کہ اس کے لیے جان تک داؤ پر لگا دی جائے لیکن اپنے جیسے دوسرے انسان کے اس سے زیادہ بنیادی حقوق یعنی جان مال اور آبرو کی کوئی وقعت نہیں۔

اسی طرح کے مایوس کن رویے کا مظاہرہ معزول وزیراعظم آنگ سوچی نے کیا جو فوجی آپریشن کی مخالفت تو دور کی بات اس کی حمایت میں سرگرم رہیں، ایسا کرتے ہوئے شاید انہیں گمان تھا کہ اس طرح جرنیلوں کی گڈ بکس میں رہ کر اور مسلمانوں کے خلاف عوامی جذبات استعمال کر کے وہ اپنی حکومت بچا لیں گی مگر درحقیقت وہ اس اخلاقی بنیاد کو کھوکھلا کر رہی تھیں جس پر ان کی حکومت کھڑی تھی۔

اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کے جمہوری تجربے کی کامیابی کی امید کچے گھڑے پر دریا پار کرنے سے بڑی حماقت ہے، یہی وہ حالات ہیں جو میانمار ہی نہیں دنیا کے بہت سے ممالک میں طالع آزماؤں کو سرخ لکیر عبور کرنے پر اکساتے ہیں۔ پھر جب جرنیل قدم بڑھاتے ہیں تو بلند بانگ دعوؤں کی عمارت ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ آنگ سوچی کی جمہوری جدوجہد کو ساری دنیا نے تسلیم کیا۔ ان کا نام کبھی نیلسن مینڈیلا اور لیخ ولیسا جیسے مدبر رہنماؤں کے ساتھ لیا جاتا تھا مگر عالمی عدالت انصاف میں میانمار کی جابر فوج کا مقدمہ لڑ کر سوچی نے نہ صرف اپنی ساکھ داؤ پر لگا دی بلکہ اپنے عوام کو اس اخلاقی حمایت سے بھی محروم کر دیا جو کسی ممکنہ فوجی جارحیت کے مقابلے میں اسے حاصل ہوتی۔ اگر اپنی تاریخ کے اس اہم موڑ میانمار کے لوگ اور ان کی قیادت ایسی فاش غلطی نہ کرتے تو فوج کو اقتدار چھینے کی جرأت نہ ہوتی۔

شنید ہے کہ فوجی انقلاب کے بعد آنگ سوچی کو جرنیلوں نے ان کے گھر میں نظر بند کر دیا ہے۔ قید تنہائی میں اب ان کے پاس اپنے نامۂ اعمال کو پرکھنے کا وقت تو ہو گا مگر ماضی کو بدلنے کی طاقت نہیں۔

برطانوی مصنفہ ہیلری مینٹل کی تاریخی سیریز کرامویل کے آخری حصے میں تھامس کرامویل شاہی عدالت سے سزائے موت پانے کے بعد ٹاور آف لندن میں مقید ہے، یہ وہی زندان ہے جہاں کچھ برس قبل کرامویل کی اعانت سے بغاوت کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے روشن ضمیر مفکر تھامس مور کو رکھا گیا تھا۔ سزائے موت سے قبل آخری رات کرامویل جب اچانک نیند سے بیدار ہوتا ہے تو اسے سامنے نیم تاریک دیوار پر انسانی سایہ نما ایک ہیولہ حرکت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ تأسف اور حسرت میں ڈوبی ہوئی آواز میں کرامویل پوچھتا ہے:

”تھامس مور کیا یہ تم ہو؟“

مجھے لگتا ہے کہ یانگون کے عالیشان محل میں تنہا آنگ سوچی کو بھی درو دیوار پر سائے حرکت کرتے دکھائی دیتے ہوں گے ۔ جلی ہوئی بستیوں کے، اجتماعی قبروں میں دفن لاشوں کے اور خانماں برباد انسانوں کے قافلوں کے، اور دل کے کسی کونے سے صدا بھی آتی ہو گی

”روہنگیا کیا یہ تم ہو“

Facebook Comments HS