ناسٹیلجیا سیریز 1 (ڈائل والا فون)۔


سنہ 80 کی دہائی میں جب گھر میں نیا نیا فون لگا تھا تو سسٹم اتنا آپ گریڈ نہیں تھا، کہیں کی لائن کہیں مل جاتی تھی۔ تب کسی ان چاہے نمبر کو بلاک کرنے کا یہی طریقہ ہوتا کہ رسیور اٹھا کر نیچے رکھ دیا جاتا۔ فون کو سائلنٹ موڈ میں رکھنا ہوتا یا سوئچ آف کرنا ہوتا ہمارے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا۔

لاہور میں شاید 1985 میں، جب ہمارے ہاں فون لگا تو اس میں کئی برس کی تگ و دو ( منت سماجت بعد میں تگڑی سفارش) شامل تھی۔ گھر میں میلے کا سماں تھا۔ رشتہ دار خاص طور پر مبارک دینے آئے اور سب نے کان سے رسیور لگا کر سنا کیسی ٹون آتی ہے۔ کئی ایک تو اپنے ساتھ نمبروں کی پرچیاں لکھ کر لائے تھے جنھوں نے شغل میں ہی صرف اس لئے فون کیے کہ دیکھیں فون میں آواز کیسی آتی ہے۔ مٹھائیاں بانٹی گئیں اور ہمارے گھر کا سٹیٹس یکایک محلے میں اپ گریڈ ہو گیا۔

فون کا لائن مین وی آئی پی سمجھا جاتا تھا اور محلے میں راجہ اندر کی طرح گزرا کرتا۔ ہر ہفتے بلا وجہ ہی ہمارے گھر آ ٹپکتا اور پوچھتا فون صحیح چل ریا ہے نا؟ دادا ابا کی ہدایت تھی جب بھی یہ آ کر فون کا پوچھے، اس کو کھانا کھلایا جائے اور کوکا کولا پلائی جائے۔ چاچا بھی اکثر اس کی جیب میں خاموشی سے پانچ یا دس کا نوٹ ڈالتے پائے جاتے تاکہ جب ضرورت ہو بلانے پر راجہ صاحب آ جائیں۔ ہمارا ڈاکیا اس سے بڑا جیلس تھا۔ اس کو پہلی بار کسی اپوزیشن لیڈر کا سامنا ہوا تھا اور وہ اس کی خاطر مدارت کو اپنی برسوں کی چودھراہٹ کے لئے خطرہ سمجھتا تھا اور اکثر اس کے خلاف ہمارے کان بھرتا رہتا۔

بڑا شہر ہونے کے ناتے فون 6 نمبرز کا تھا مگر چھوٹے شہروں اور قصبوں میں 4 یا 5 نمبرز کے فون بھی تھے۔ اس دور والے میری بات کی تائید کریں گے کہ جب 6 نمبرز ملانے کے بعد دوسرے کا فون مصروف ملتا تو کتنی کوفت ہوتی، کیونکہ ہر نمبر ایک ایک کر کے پھر سے گھمانا پڑتا جس میں کافی مشقت لگتی۔ مگر کچھ بھی ہو، اس ڈائل کی مخصوص آواز میں اپنا ہی ایک سحر تھا ایک نشہ تھا۔

فون گھر میں ہمیشہ بیٹھک یا ڈرائنگ روم میں ہی رکھا ہوتا تھا، کیونکہ زیادہ تر فون محلے والوں کے لئے ہوتے تھے۔ بہت سارے گھروں میں سپیشل غلاف بنا کر اس پر ڈالے ہوتے تاکہ دھول مٹی سے محفوظ رہ سکے۔ زیادہ تر کالیں بیرون ملک سے ہی آتی تھیں، یعنی مہینے میں دو ایک بار، لوکل تو فون ہی بہت کم لوگوں کے پاس تھے۔

فون کی گھنٹی بجتے ہی یوں لگتا جیسے پورے گھر میں کوئی بھونچال آ گیا یو۔ کونوں کھدروں سے بچے نکل کر فون اٹھانے کو جھپٹتے، مگر کوئی نا کوئی بزرگ پاؤں میں جلدی سے سلپر پہنتا ڈانٹ کر انھیں بھگا کر فون خود ہی اٹھاتا۔ نئے فون میں ہیلو کہنے کا چسکا سب کو ہی تھا مگر بزرگ منہ سے کہتے نہیں تھے۔

لائن رینٹ زیادہ تھا اور فون کال بہت مہنگی تھی، جو فی منٹ کے حساب سے چارج ہوتی تھی۔ ٹانگے یا بس کے کرائے سستے تھے، اس لئے ایک شہر میں رہنے والے لوگ بھی کوئی اہم خبر یا اطلاع دینے عموماً خود ہی آتے تھے۔ کچھ تو رات رک جاتے، باقی پورا دن کھا پی کر، تین وقت کا کھانا کھا کر گپ لگا کر جاتے تھے۔ مجھے یاد ہے فون آنے سے پہلے، ایک ہی شہر میں رشتہ دار ایک دوسرے کو خط بھی لکھا کرتے تھے۔

ہمارے پورے محلے میں ایک ہی فون تھا اور سارے محلے نے اپنے رشتہ داروں کو ہمارا نمبر دیا تھا۔ زیادہ تر فون بھی محلے داروں کے ہی آتے۔ ہم بچوں کی ڈیوٹی ہوتی کہ فلاں گھر سے فلاں کو بلا کر لاؤ اور کہنا ان کے فلاں کا فون آیا ہے اور کہنا گھبرانا والی بات نہیں ( آدھی خبر ہم لوگ پہلے خود ہی پتا کر لیا کرتے تھے ) ۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ ہم بچے تنگ آ جاتے مگر ہمارے بزرگوں کے ماتھے پر کبھی بل نا آیا تھا۔ فون سننے آنے والی خالہ یا خالہ کی بہو فون سننے کے بعد گھنٹوں اپنا دکھ سکھ کرتیں۔ ان سب کو شربت چائے اور کھانا پیش کیا جاتا اور اپنے سب کام چھوڑ، ان کے ساتھ باتیں کی جاتیں۔ پرائیویسی نام کی کسی شے کا وجود ہی نہیں تھا۔ پورے محلے کے ہر گھر کی سٹوری ہم بچوں تک کو پتا ہوتی۔

رات 8 بجے کے بعد فون کی گھنٹی بجتی تو سب چونک جاتے۔ میری دادی تو درود شریف کا ورد شروع کر دیتیں کہیں کوئی بری خبر ہی ہے جو کسی کو فون کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اور واقعی میں ایسا ہی ہوتا۔ اکثر ہسپتال یا فوتگی کی اطلاع ہی ہوتی ورنہ ”اتنی رات گئے“ حال چال والے فون کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔

دوسرے شہر یا ملک سے باہر کبھی بات کرنی ہوتی تو ٹرنک کال بک کروانی پڑتی کیونکہ ڈائریکٹ ڈائلنگ کی سہولت ہی نہیں تھی۔ پہلے ٹیلیفون ایکسچینج میں آپریٹر سے بات ہوتی، وہ نمبر ملاتا اور پھر اس کی مرضی ہوتی تو رسیور نیچے رکھ دیتا، ورنہ ہماری سب باتوں کے مزے لیتا رہتا۔ فون کرنے سے پہلے بتانا پڑتا کہ کتنے منٹ کی کال بک کرنی ہے۔ سٹینڈرڈ 3 منٹ کی بک کی جاتی جس میں سے ایک آدھ منٹ آپریٹر لے لیتا، باقی ایک آدھ منٹ ”ہیلو آواز آ رہی ہے؟“ میں گزر جاتا اور جو کچھ بچتا اس میں قسمت اچھی ہوتی تو مدعا بیان کرنے کا موقعہ مل جاتا ورنہ قسمت کو کوستے پھر آپریٹر کو کال ملانے کا کہتے۔ دوسرے شہر کی لائن کی آواز اکثر اتنی کم آتی کہ کمزور دل اور کمزور پھیپھڑوں والے اشخاص بعد میں اکثر کھانستے ہوئے فون سے الگ کیے جاتے۔

چھوٹے شہروں، تحصیلوں اور قصبوں تک فون پہنچا تو وہاں لوکل ڈائریکٹ کال کی سہولت بھی نہیں تھی۔ 4 نمبر کا کوڈ سا تھا جو ہر گھر کو الاٹ ہوتا تھا۔ آپ کو صرف فون ڈائریکٹ آ سکتا تھا جا نہیں سکتا تھا۔ فون کرنے کے لئے تحصیل کی ایکسچینج فون کیا جاتا اور آپریٹر خود لاہور کا نمبر ملا کر دیتا۔ یوں وہ آپریٹر تقریباً ہر گھر کا ایک فرد ہوا کرتا تھا کیونکہ فون سن سن کر وہ سب کے حالات سے واقف تھا۔ وہ فون کے درمیان رشتوں کے مشورے بھی دیتا، 3 منٹ کال ختم ہونے کی وارننگ بھی اور بھوک لگی ہوتی تو گھر سے کھانا بھی منگوا لیتا۔

80 اور 90 کی کی دہائی کے فون سے اتنی یادیں جڑی ہیں کہ آپ پڑھتے پڑھتے تھک جائیں گے، میں لکھتے لکھتے نہیں۔ اب بھی میرے میموری کارڈ پر وہ ڈیٹا اس طرح نقش ہے کہ میں لکھ بھی رہا ہوں اور ساتھ ساتھ مسکرا بھی رہا ہوں۔

Facebook Comments HS