پاکستانی آئین کا ارتقا: 1973 کا آئین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے تمام طبقات کی آرا کی آئین میں شمولیت۔ آئین میں حقوق دینے کے ایک دن بعد انہیں معطل کر دیا گیا۔ بھٹو کے دور میں آئین میں سات ترامیم کی گئیں جن میں حزب اختلاف کو بلڈوز کیا گیا۔ ضیا الحق کے زمانے میں آئین کو منسوخ نہیں معطل کیا گیا۔ جسٹس انوار الحق نے بیگم نصرت بھٹو کیس میں لکھے ہوئے فیصلے پر اپنے قلم سے لکھ کر جنرل ضیا کو آئین میں ترامیم کا اختیار بھی دے دیا۔ جنرل ضیا نے ایک صدارتی ہی حکم کے تحت آئین میں سو سے زیادہ ترامیم نافذ کر دیں۔ بعد میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے آئین کو بہت حد تک صدارتی کر دیا گیا۔ 258 ٹو بی کی شق جو صدر کو حکومت ختم کرنے کا اختیار دیتی تھی۔ یہ اختیار ہاتھ سے نکلنے کے باعث ہی پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا ورنہ پہلے کی طرح صدر کے ذریعے حکومت کو گھر بھیج دیا جاتا۔ جنرل پرویز مشرف کی سترہویں آئینی ترمیم۔

وکلا تحریک اور جنرل پرویز مشرف اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کی چپقلش۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم سنہ 1973 کے آئین کی تخلیق کے بعد ہماری سیاسی قیادت کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ترمیم ہے۔

کیا آئین کو تبدیل کرنے کا اختیار اسمبلی کو حاصل ہے؟ کیا آئین کے لیے آئین ساز اسمبلی درکار ہوتی ہے یا کوئی بھی اسمبلی ایسا کر سکتی ہے؟

Evolution of Constitution of Pakistan. It was an all inclusive constitution. Zulfiqar Ali Bhutto suspended basic rights just one day after approval of the constitution. Bhutto bulldozed opposition and made 7 amendments in the constitution. General Zia Ul Haq suspended constitution. Chief Justice Anwar Ul Haq gave Gen Zia right to change constitution in Begum Nusrat Bhutto case. Gen Zia made 100 changes in the constitution. Later they were included in the 8th amendment. The most important was 258-2B. General Musharaf’s 17th amendment. The lawyer movement. General Parvez Musharraf and General Ashfaq Parvez Kiani. Can an assembly amend the constitution?

 

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply