EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

نیو ہاسٹل اداس ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب کے بار بھی بہار چپکے چپکے، دبے پاؤں، خاموشی سے گزر رہی ہے۔ پھول کھل رہے ہیں۔ کھل کھل کر فضاؤں کو عطر بیز کر رہے ہیں۔ خوشبوئیں، ہواؤں کے سنگ رامش و رنگ کے محفلیں برپا کر رہی ہیں۔ مگر بہار آشنا کوئی بھی نہیں۔ وباء، خدرین (vaccine) آنے کے باوجود چرکے لگانے سے باز نہیں آ رہی۔ لوگوں کو چاٹتی چلی جا رہی ہے۔ خدرین، اس قہرناک، الم ناک، درد ناک، اندوہ ناک وبا کے سامنے سد سکندری قائم کرنے سے لڑکھڑا رہی ہے۔ تعلیمی ادارے حالت گومگو میں سفر کر رہے ہیں۔ کبھی کھل جاتے ہیں اور کبھی بند۔ آج سے چند ماہ قبل جب تعلیمی ادارے کھلے، تو یوں محسوس ہوتا کہ رونق لوٹ آئی ہے۔ مسرتیں زقند بھرنے کو ہیں۔ خوشیاں سب کی خواب گاہوں، کمین گاہوں میں نقب لگا رہی ہیں۔

ہر جانب چہل پہل اٹھلاتی نظر آتی۔ محبت کے خیمے ہر سو آباد نظر آتے۔ صحرا میں نخلستان۔ آبادان۔ جن میں ندیمان خاص و عام، واقفان حال، ستاروں کی طرح درخشاں، پھولوں کی مانند شگفتگی سے مہکتے، چہکتے تھے۔ دوستوں، صحبت آشناؤں کی بہار، عطر ساماں رہ نورد کی طرح، خوشبوئیں بکھیرتی، ارمانوں کو تر کرتی، خیالات کو چمکاتی آگے سفر کر رہی تھی۔ نیو ہاسٹل جام کی مانند چھلکا جاتا تھا۔ جیسے بنارس کی صبحیں اور اودھ کی شامیں یہاں سمٹ آئی ہوں۔ کس تام جھام سے کوہ البرز کی طرح استادہ نظر آتا! وہ دن انتہائی پر کشش تھے، جب یہ اقامت گاہ طلباء سے معمور تھی، اس کی ہریالی اپنے جوبن پر تھی۔ پھر سے سب، یک لخت ڈھے گیا۔ بکھر گیا۔ تلپٹ ہو گیا۔ ہنستی مسکراتی، بل کھاتی زندگی ایسے ویسے ہو گئی۔

نیو ہاسٹل میں تاریخ سانس لیتی ہے۔ اس میں تاریخ اب تک جیتی ہے۔ مگر، وہ زمانہ لد گیا جب گورنمنٹ کالج میں قطرے، گوہر بنا کرتے تھے، سیپ کے منہ میں پڑا کرتے تھے۔ بہار کے دنوں میں، رات، گہری رات میں سلسبیل قمر کا نظارہ دل میں گدگدی اور خیالات میں تلاطم برپا کر دیتا۔ ارمانوں کو کریدتا۔ چاندنی کی نوک سے انتہائی نرماہٹ کے ساتھ جذبات کے جوار بھاٹے کو مزید مہمیز دیتا۔ رات کے وقت جب چاندنی پگھل پگھل کر، نیو ہاسٹل کے رواق پر ڈالیوں سے چھن چھن کر پڑتی، مدور جالیوں سے الجھتی ہوئی، جھانکتی ہوئی، غلام گردشوں کو منور کرتی تو یہ نظارہ انتہائی دیدہ زیب، دل نواز و دل گداختہ، طلسم کشا اور تڑپا دینے والا ہوتا۔

اس اقامت گاہ کے سینے میں جوہی، چنبیلی، رات کی رانی، عنابی، گلابی اور سفید گلاب مہکتے تو خواب گاہوں تک خوشبو کی حکمرانی محسوس ہوتی۔ پنکھڑیوں پہ پڑی شبنم، لیل تقاطیر کی چغلی کھاتی۔ پرندے چہچہاتے تو، خوب چہچہاتے۔ ایسے محسوس ہوتا یہ اقامت گاہ فطرت کا منبع ہے۔ اس کے افق پر رنگ رنگ کے چہرے نظر آتے۔ الف لیلیٰ کے حجام سے بڑھ کر باتونی اس اقامت گاہ کے مینا بازار میں اپنی دکان سجائے ہوتے۔ کوئی اخبار کے تھڑے پر ملکی و بین الاقوامی سیاست کی زلفیں سنوار رہا ہے۔

کوئی صحن میں، روشنیوں کے سیلاب تلے، میدان داریاں کر رہا ہے اور بہت سے میدان آرائی کیے ہوئے ہیں۔ کچھ کیفے کے سامنے جمے ہوئے ہیں۔ جرعہ جرعہ چائے پی رہے ہیں اور حال دل و واردات قلب بیان کرنے کے لیے سر بہ گریباں ہیں۔ اس بار ارادہ تھا کہ نیو ہاسٹل کی اصلی زندگی سے نقاب اٹھائیں، راز طشت از بام کریں، پردہ جو اٹھتا ہے۔ ، مگر شہر آشوب کہنا پڑ رہا ہے۔ معاصرانہ چشمک تو سمجھ میں آتی ہے مگر لٹھ بازی، جو گورنمنٹ کالج کی پررونق زندگی بیان کرنے پر ہوئی، سمجھ سے اوپر کی چیز ہے۔ لیکن لفظوں کی لٹھ بازی کی ضربیں ارد کی سپیدی جتنی بھی کاری ثابت نہ ہوئیں۔

اب کے برس بھی نیو ہاسٹل بہار کی رعنائی کی لپیٹ میں ہے مگر اداس اداس، خاموش خاموش۔ کہیں بھی تو قہقہے نہیں گونجتے۔ کہیں بھی تو ہلڑ بازی نہیں ہو رہی۔ غلام گردشیں، راہ داریاں، شہ نشینیں سب میں خاموشی اور سکوت چیخ رہے ہیں۔ اندھیرا حکمران ہیں، رونق مفقود، میدان چپ اور خواب گاہیں مہر بہ لب۔ اک رستی بستی زندگی ختم ہو گئی ہے۔ مکان کی رونق اس کے مکین کی بدولت ہوتی ہے۔ غم، اداسی، کسمپرسی، سوختہ سامانی، بد مذاقی نیو ہاسٹل کے رواں رواں سے بہ رہی ہے، تھی وہ اک شخص کے تصور سے والا معاملہ ہوا چاہتا ہے۔ اس حالت میں شہر آشوب نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ آتش رفتہ اس اقامت گاہ میں بھڑکی ہوئی ہے۔ اس کی التہاب کی تپش ہر جانب پہنچ رہی ہے۔ کونے کونے میں محسوس کی جا رہی ہے اور اس اقامت گاہ کے لبوں پہ ترانۂ غم ہے۔

چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں
جہاں تیرے پیروں کے کنول گرا کرتے تھے
ہنسے تو دو گالوں میں بھنور پڑا کرتے تھے
تیری کمر کے بل پر ندی مڑا کرتی تھی
ہنسی تیری سن کر فصل پکا کرتی تھی
جہاں تیری ایڑھی سے دھوپ اڑا کرتی تھی

وہ گلیاں، وہ راہیں، وہ قدم، وہ آشنا، وہ یار، وہ یار غار، وہ چہچہے، وہ قہقہے، وہ لچر پن، سب یاد آتے ہیں۔ یہ راہیں ترستی ہیں۔ دلدوز خاموشی چیختی ہے۔ اداسی سنسناتی ہے۔ بہار، اندھی اور بہری ہو کر اس برس بھی گزر رہی ہے۔ یہ اقامت گاہ اس کے مکینوں کو بلاتی ہے۔ آواز دیتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے