پاکستان نیوی میں گزارے سنہرے دن: بھرتی کا دن


جنوری 1981 میں اخبار میں اشتہار دیکھا کہ پاکستان نیوی کی بھرتی 11 جنوری 1981 کو ہو گی۔ 11 جنوری کی صبح صبح شامی روڈ پر نیوی کے آفس میں پہنچ گیا۔ میرے پاس بائیک تھی اس لیے جلدی پہنچ گیا۔ لیڈنگ میڈیکل صاحب (نام بھول گیا ہے بہت پرانی بات ہے ) آفس کے گیٹ کے باہر کھڑے دھوپ سینک رہے تھے۔ سلام و دعا کے بعد پوچھا کہ بھرتی کب شروع ہو گی تو کہنے لگے آپ اس وقت اکیلے ہیں کچھ لڑکے اور آ جائیں تو کارروائی شروع کرتے ہیں۔ اس دوران ایک دوسرے کا تعارف ہوا اور نیوی کے بارے معلومات میں اضافہ بھی ہوا۔

میں نے ان صاحب سے پوچھا کہ میرا نیوی میں کیا کام ہو گا تو کہنے لگے آپ کو تو موٹر سائیکل چلانی آتی ہے نیوی میں بھی آپ کو موٹر سائیکل چلانے کو مل جائے گی۔ یہ بات سن کر میں بہت خوش ہوا۔

تقریباً دس بج گئے باتیں کرتے ہوئے۔ اس دوران تقریباً دس لڑکے آ گئے۔

لیڈنگ میڈیکل صاحب نے نیول افسر لیفٹیننٹ صاحب کو بتایا تو انہوں نے بھرتی کی کارروائی شروع کرنے کا کہا۔ سب سے پہلے میڈیکل ہوا۔ میڈیکل کے انداز پر بہت شدید اعتراض کیا لیکن کہا گیا کہ یہ لازمی حصہ ہے میڈیکل کا اور اگر یہ نہ ہوا تو سلیکشن نہیں ہو سکتی۔ بادل نخواستہ اس کارروائی سے گزرنا پڑا۔ اسی ٹیسٹ پر میڈیکلی فٹ قرار دیا گیا۔ اب باری باری سب کا میڈیکل ہوا اور تمام آئے ہوئے لڑکے فٹ قرار پائے۔ اب سب لڑکوں کے قد اور چھاتی کی پیمائش اور وزن ہوا۔

میرا قد ما شاء اللہ پانچ فٹ آٹھ انچ وزن یاد نہیں لیکن سپورٹس مین ہونے کی وجہ سے میں اپنی چھاتی تین انچ پھلا لی جس کو دیکھ کر لیفٹیننٹ صاحب خوش ہوئے۔ آنکھوں کا ٹیسٹ کلر بلائنڈ ٹیسٹ ہوا۔ کاغذات کی جانچ پڑتال شروع ہوئی۔ اس کے بعد ہم کو کھڑا کر دیا گیا اور کاغذات کی تیاری شروع ہوئی اور اس میں بہت وقت لگ گیا۔ جب کاغذات مکمل ہو گئے تو باری باری سب کو بلا کر سروس بانڈ پر دستخط کروائے گئے اور چند کاغذات کے ساتھ ریلوے کا کراچی کا ٹکٹ تھما دیا گیا اور کہا گیا کہ تین دن کے بعد کراچی جانے کے لئے شام کو 6 بجے ریلوے اسٹیشن پہنچ جائیں۔

کاغذات لے کر گھر آ کر والد صاحب اور والدہ صاحبہ کو بتایا تو والدہ صاحبہ تو رونے لگ گئیں اور والد صاحب غصہ کرنے لگے۔ میں نے اپنی خواہش ظاہر کی کہ میں نیوی میں جانا چاہتا ہوں مجھے جانے کی اجازت دی جائے۔ والد صاحب نے اجازت دے دی اور نیوی کے حوالے سے چند نصحیتیں کیں۔ میری ضرورت کی شاپنگ کروا دی۔ میں اپنا سوٹ کیس تیار کر لیا اور اپنے دوستوں سے ملاقاتیں شروع کر دیں۔ دو دن بھی گزارنے مشکل ہو رہے تھے۔ دل کرتا تھا کہ کب وہ دن آئے گا کہ میں کراچی پہنچ جاؤں گا۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS